Get in touch!



Get in touch!



Agri Content

Urban Farming
Read about general practices related to Kitchen Gardening and how to prevent or cure its diseases
Urban Farming

Kitchen Gardening

Ornamentals
گرمیوں کی سبزیاں

گرمیوں کی سبزیوں میں ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، بینگن، کھیرا ،بھنڈی، کالی توری، گھیا توری، گھیا کدو، کریلا، اروی، تربوز، خربوزہ، حلوہ کدو، پیٹھا کدو، آلو، ہلدی اور ادرک وغیرہ شامل ہیں۔ جن میں ہلدی اور ادرک کے علاوہ تمام سبزیات کی متعدد بار چنائی کی جاسکتی ہے۔
ان کی کاشت عموما فروری تا مارچ میں کی جاتی ہے اور ستمبر سے اکتوبر تک ان کی برداشت جاری رہتی ہے۔ گرمیوں کی ان سبزیوں کی کاشت سے برداشت کا دورانیہ 6 ماہ ہوتا ہے۔

سردیوں کی سبزیوں میں پھول گوبھی ، بند گوبھی ، آلو ، پیاز ، سلاد ، مولی ، شلجم ، مٹر ،گاجر ، پالک ، میتھی ، دھنیا، پودینہ، سیلری، پارسلے ، لہسن اور چقندر وغیرہ شامل ہیں ۔

سبزیوں کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں پودے کم ازکم چھ گھنٹے سورج کی روشنی حاصل کر سکیں ۔کاشت سے قبل منتخب رقبہ کی پیمائش کر لیں

سبزیوں کی کاشت کے لیے زمین کی اوپری تہہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اسی حصے سے پودے نے خوراک اور پانی حاصل کرنا ہوتا ہے۔سبزی کی کاشت کے لیے نرم میرا زمین انتہائی موزوں ہوتی ہے۔

سخت یا چکنی مٹی والی زمین کو قابل کاشت بنانے کے لیے اس میں بھل یا ریت اور گوبر کی کھاد وافر مقدار میں ڈالیں۔
پٹڑیاں بنانے کا طریقہ

پٹڑیاں بنانے کے لیے نشان لگا کر مٹی اٹھائیں تاکہ سیدھی پٹڑیاں بن سکیں ۔تمام بیلدار سبزیاں مثلاَ کدو ، کھیرا ، تربوز ، خربوزہ ، تر اور مٹر پٹڑیوں پر کاشت کریں ۔
وٹیں بنانے کا طریقہ

نرم اور ہموار زمین میں کسی ڈوری یا رسی کی مدد سے سیدھے نشان لگائیں۔ نشان کے دونوں اطراف سے مٹی اٹھا کر نشانات کے اوپر ڈالتے جائے ۔ اس عمل سے جو ابھار ہوگا یہی وٹیں کہلاتی ہیں۔ بھنڈی ، سبز مرچ ، شملہ مرچ ، بینگن ، پھول گوبھی ، بند گوبھی ، مولی ، شلجم ، گاجر ، اور سلاد وٹوں پر کاشت کرنے سے اچھی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
کنٹینرز میں کاشت کا طریقہ

گھر میں زمین موجود نہ ہو تو مختلف طرح کے کنٹینرز میں بھی سبزیاں کاشت کی جاسکتی ہیں ۔ جن میں مٹی کے بنے ہوئے گملے ، پلاسٹک کے ٹپ ، ٹوکریاں ، لکڑی کے کریٹ، شاپر ، بیگ ، کھاد والے تھیلے ، پلاسٹک اور لوہے کے ڈرم ، پرانے ٹائر وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ اگر کم جگہ کو استعمال میں لانا ہو تو اس کے لیے بہترین لیونگ وال ہے جس کے دونوں طرف سبزیاں لگائی جاسکتی ہیں ۔ لوہے یا لکڑی کے اسٹینڈ پر بھی کئی گملے رکھے جاسکتے ہیں جسے ورٹیکل فارمنگ کہا جاتا ہے ۔
براہ راست بیجوں کر ذریعے کاشت

زمین کی تیاری کے بعد ضرورت کے مطابق وٹیں، پٹریاں بنالیں یا ہموار جگہ پر قطاروں کے نشان لگائیں ۔

کنٹینرزمیں کاشت کرنے کے لئے لیے مناسب فاصلے کے مطابق بیج کاشت کریں۔
بیج کے ذریعے کاشت ہونے والی سبزیاں مثلا بھنڈی ، کھیرا، کریلا، توری، ٹینڈا،کدو، تربوز، خربوزہ وغیرہ موسم گرما میں کاشت کریں۔
مولی ، شلجم ، گاجر، میتھی، پالک وغیرہ موسم سرما میں بذریعہ بیج کاشت کریں۔ بیج کا شرح اگاؤ زیادہ ہونے کی صورت میں 1 بیج جبکہ شرح اگاؤ کم ہونے کی صورت میں دو بیچ فی سوراخ کاشت کریں۔

بیجوں کو ان کی جسامت کے حساب سے تین گناہ گہرائی میں کاشت کریں۔

بیج کے اگنے کے چند دن بعد ایک جگہ پر ایک صحت مند پودا چھوڑتے ہوئے باقی پودوں کی چھدرائی کریں تاکہ پودا صحت مند نشوونما پا سکے۔

کچھ سبزیاں نباتاتی حصوں یعنی تنے یا جڑوں سے کاشت کی جا سکتی ہیں ۔ یہ سبزیاں نرم اور میرا زمین میں زیادہ اچھی پیداوار دیتی ہیں۔ آلو کی کاشت کے لیے آلوں کو کاٹ کر یا مکمل آلو کو بطور بیج استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی کاشت کے لیے ایسے آلوں کے ٹکڑوں کا انتخاب کریں جس میں ہر ٹکڑے پر دو یا تین آنکھیں موجود ہوں۔

لہسن کی کاشت کے لیے پوتھیاں بطور بیج استعمال ہوتی ہیں ۔ پوتھیوں کو الگ الگ کر کے ہموار زمین میں کاشت کریں۔

پودینے کی کاشت کے لیے جڑیں استعمال ہوتی ہیں۔ پودینے کے اچھی پھیلاؤ کے لیے زمین کا نرم ہونا ضروری ہے ۔
اونچی کیاریوں میں نرسری لگانا

زمین سے تقریبا چھ انچ اونچی چھوٹی چھوٹی کیاریاں بناکر پنیری اگائی جاتی ہے۔

کیاریوں یا پٹریوں پر لکڑی سے دو انچ کے فاصلے پر ڈیڑھ انچ گہری لکیریں لگا کر ان میں بیج بکھیر دیں۔

کمپوسٹ سے ڈھانپ کر پانی لگا دیں۔

لکڑی یا پلاسٹک کے چار سے چھ انچ اونچے کریٹس جن کے نیچے فالتو پانی کے اخراج کا انتظام ہو لے کر کمپوسٹ بھر لیں بعد ازاں ہر دو انچ کے فاصلے پر ڈیڑھ انچ کی لکیروں میں بیج بکھیر کر ہلکی آبپاشی کریں۔

پنیری کی کاشت ٹرے میں بھی کی جاسکتی ہے۔ ٹرے دو انچ اونچی ہوتی ہے اس میں خانے بنے ہوتے ہیں ہر خانے کے نیچے پانی کے اخراج کے لیے سوراخ موجود ہوتے ہیں۔

ریت ،گلی سڑی گوبر کی کھاد اور عام مٹی چھان کر برابر مقدار میں آمیزہ (تیار شدہ آمیزہ) بنا لیں ۔

بیجوں کے اگاؤ کے لیے زمین کا وتر حالت میں رہنا ضروری ہے۔

اس آمیزے میں شملہ مرچ، ٹماٹر ، بینگن ، سلاد ، پیاز پھول گوبھی وغیرہ کے بیج لگا کر فوارے سے آبپاشی کریں۔

جب پنیری منتقل کی جائے تو زمین کو وتر حالت میں ہونا چاہیے۔ پنیری کی منتقلی صبح یا شام کے وقت کریں۔

پنیری منتقل کرنے کے فوراً بعد بھی پانی دینا ضروری ہے۔

باغیچہ ہموار ہونا چاہیے تا کہ پانی تمام پودوں کو یکساں مقدار میں میسر ہو ۔ اضافی پانی کے اخراج کے لیے باغیچے میں انتظام لازمی کریں تا کہ بارش کا پانی باغیچے میں کھڑا ہو کر پودوں کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے۔

موسم گرما میں سبزیوں کو زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ گرمیوں میں حرارت کی شدت سے بچنے کے لیے پودے پانی تیزی سے خارج کرتے ہیں لہٰذا4تا6دن کے وقفے سے آبپاشی کریں جبکہ موسم سرما میں آبپاشی کا و قفہ بڑھا دیں۔

فالتو پانی کے اخراج کیلئے مناسب بندوبست ضرور کریں تا کہ بارش کے بعد پانی باغیچے یا کنٹینرز میں کھڑا ہوکر کو نقصان نہ پہنچے ۔

باغیچہ صاف ستھرا رکھیں اور فالتو گھاس اور جڑی بوٹیاں تلف کرتے رہیں ۔

زمین کو دھوپ لگنے دیں تاکہ روشنی کی شدت سے کیڑوں کے انڈوں اور بیماریوں کے جراثٰیم ختم ہو جائیں۔

اس کے علاوہ چولہے میں جلائی گئی لکڑیوں اور آبلوں کی راکھ کیڑوں کے انسداد کے لیے انتہائی محفوظ طریقہ ہے ۔ چولہے سے حاصل شدہ راکھ پودوں پر دھوڑنے سے کیڑے پودوں سے چلے جاتے ہیں ۔

چور کیڑے سے اپنی فصل کو بچانے کے لئے آلو کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پنیری میں رکھتی صبح دیکھنے پر آلو کے ٹکڑوں کے گرد جب بہت سے چور کیلئے موجود ہو تو ان کو تلف کردے۔
کیڑوں کے کنڑول کے لیے نباتاتی سپرے
کیڑوں کے کنٹرول کے لیے نباتاتی سپرے 1. نیم کا تیل 2. پیاز کا عرق 3. لہسن کا عرق

### کیمیائی کھادیں گھریلو باغیچے کے لیے نامیاتی کھادیں ترجیحاً استعمال کریں۔ اگر زمین کمزور ہو تو نامیاتی کھادیں وافر مقدار میں استعمال کرنے سے زمین طاقتور ہو جاتی ہے۔ اگر کیمیائی کھادیں استعمال کرنی ہو تو این پی کے یا اجزائے صغیرہ (میکرو نیوٹرینٹس) زمین میں ڈال کر گوڈی کر کے زمین میں ملا دیں۔
گھر میں کھادوں کی تیاری اور ان کا استعمال

گوبر کی کھاد گوبر کی پرانی اور گلی سڑی کھاد زمین کی تیاری کے وقت ڈالیں کیونکہ تازہ کھاد سے پودوں کو خوراک حاصل نہیں ہوتی اور تازہ کھاد ڈالنے سے دیمک لگ جانے کا خدشہ ہوتا ہے ۔
پتوں کی کھاد

تین سے چار فٹ گہرا گڑھا کھود لیں اس گڑھے میں پتوں اور سبزیوں کے چھلکے کی تہہ لگا دیں پھر اس پر گوبر کی کھاد کی ہلکی تہہ لگا دیں ۔ اس طرح سے کئی تہیں لگا کر گڑھا بھر لیں آخر میں گڑھے کو مٹی کی موتی تہہ سے بند کر دیں۔ دو سے تین ماہ میں یہ کھاد تیار ہو جائے گئی۔
انڈوں کے کھاد

انڈے کے چھلکوں کو پیس کر کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کیلے کے چھلکوں کی کھاد

کیلے کے چھلکے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں ۔ کیلے کے خشک چھلکے موسم بہار کے آغاز میں کسی بلینڈر میں پیس لیں اور اس کے سفوف کو بطور کھاد کے لیے استعمال کریں۔

سبزیاں جب برداشت کے قابل ہو جائیں تو فورا برداشت کر لیں ورنہ ان کی کوالٹی متاثر ہو گئی۔