Agri Content

Poultry & Birds
Read about general practices related to Domestic Poultry and how to prevent or cure its diseases
Poultry & Birds

Domestic Poultry

Broiler Poultry farming
اہمیت

اگر گھر میں مرغیاں رکھی جائیں تو گھر میں روز مرہ استعمال کے لئے انڈے حاصل کئے جا سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ جو مرغیاں انڈے دینے کے قابل نہ رہیں ان کو بوقت ضرورت ذبح کر کے بطور گوشت استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
اقتصادی اہمیت

اگرگھریلویادیہی پیمانےپر20سے50مرغیاں پالی جائیں توروزانہ کی بنیادپر20مرغیوں سے15سے18انڈےاور50مرغیوں سے40سے45انڈےحاصل کیےجاسکتےہیں ۔مندرجہ بالاشیڈول میں انڈوں کی اقتصادی اہمیت کااندازہ لگایاجاسکتاہے
گھریلویادیہی مرغبانی کےمقاصد

گھریلو یادیہی پیمانےپرمرغیاں تین مقاصدکیلئےپالی جاتی ہیں: - انڈوں کاحصول - گوشت کاحصول - شوق کے طورپر
نسلیں

گھریلویادیہی پیمانےپرزیادہ تردیسی نسل کی مرغیاں پالی جاتی ہیں جن کی انڈوں اورگوشت کی پیداوارکم ہوتی ہے۔ انڈوں اورگوشت کی پیداوارکیلئےمختلف نسلوں کےخواص مندرجہ ذیل میں بیان کیےگئےہیں۔
دیسی نسل

اس نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں:
خصوصیات

- لوکل نسل ہونےکی وجہ سےہرقسم کے ماحول اورآب وہوامیں باآسانی پالی جاسکتی ہے۔سخت سردی اورگرمی کوبرداشت کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔ - یہ عمومی طورپر ہلکےسرمئی،بھورے،سفیداورکالےرنگ میں پائی جاتی ہیں جبکہ کبھی کبھارمختلف رنگوں کاامتزاج بھی دیکھنےمیں آتاہے۔ - ایک جوان مرغےکااوسطاًوزن1.6کلوگرام جبکہ مرغی کااوسطاًوزن1.2کلوگرام تک ہوسکتاہے۔ - پیداوارکےشروعات سےلیکرایک سال میں اوسطاً119انڈےپیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
آرآئی آر/گولڈن

اس نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں:
خصوصیات

- ان کارنگ شوخ سرخی مائل بھوراہوتاہےجس کی وجہ سےانہیں گولڈن یالال مرغیاں کہاجاتاہے۔ - ایک جوان مرغےکااوسطاًوزن3.85کلوگرام جبکہ مرغی کااوسطاًوزن2.95کلوگرام تک ہوسکتاہے۔ - یہ مرغیاں بڑےسائزکےبھورےرنگ کےانڈےدیتی ہیں جن کاوزن53-55گرام تک ہوسکتاہے۔ - پیداوارکےشروعات سےلیکرایک سال میں250-255انڈےپیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
فیومی/مصری

اس نسل کانام فیومی ہےاوراسکاتعلق مصرسےہےاوراسی مناسبت سےاسےمصری کےنام سےجاناجاتاہے۔اس نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں
خصوصیات

- رنگ کے اعتبارسےگردن سفیدہوتی ہےاورگردن سےنیچےسیاہ دھبےپائےجاتےہیں جبکہ پنجوں تک رنگ مکمل سیاہ ہوجاتاہے۔ - ایک جوان مرغےکااوسطاًوزن2کلوگرام جبکہ مرغی کااوسطاًوزن1.6کلوگرام تک ہوسکتاہے۔ - یہ مرغیاں چھوٹےسائزکےہلکےبھورےرنگ کےانڈےدیتی ہیں جن کااوسطاًوزن45.9گرام تک ہوسکتاہے۔ - پیداوارکےشروعات سےلیکرایک سال میں178انڈےپیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
گنجی مرغی/گنجی گردن والی مرغی(نیکڈنیک)

یہ پاکستان اورانڈیاکی لوکل نسل ہے۔اس نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں
خصوصیات

- عمومی طورپریہ سیاہ،سرخ،سفیداوران رنگوں کی آمیزش میں دیکھنےمیں آتی ہیں۔ - ایک جوان مرغےکااوسطاًوزن3.8کلوگرام جبکہ مرغی کااوسطاًوزن2.9کلوگرام تک ہوسکتاہے۔ - یہ مرغیاں بڑےسائزکےبھورےرنگ کےانڈےدیتی ہیں جن کااوسطاًوزن42گرام تک ہوسکتاہے۔ - پیداوارکےشروعات سےلیکرایک سال میں128انڈےپیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
بلیک آسٹرولارپ/کالی مرغی

اس مرغی کاتعلق آسٹریلیاسےہے۔ اس نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں
خصوصیات

- عمومی طورپریہ گہرےسیاہ رنگ میں پائی جاتی ہیں جبکہ کبھی کبھارسفید اورسرمئی رنگوں میں بھی دیکھنےمیں آتی ہیں ۔ - ایک جوان مرغےکااوسطاًوزن3.8کلوگرام جبکہ مرغی کااوسطاًوزن2.9کلوگرام تک ہوسکتاہے۔ - یہ مرغیاں بڑےسائزکےبھورےرنگ کےانڈےدیتی ہیں جن کااوسطاًوزن49.9گرام تک ہوسکتاہے۔ - پیداوارکےشروعات سےلیکرایک سال میں200-250انڈےپیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
اصیل نسل

اس نسل کاشمارپاکستان اوربھارت کی لوکل نسلوں میں ہوتا ہے۔اصیل نسل کی خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں
خصوصیات

- لمبی مضبوط ٹانگیں،پتلی گردن،نوکیلی چھاتی،سیدھی کمراوردرمیانےسائزکی کلغی اس نسل کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔ - رنگوں کےاعتبارسےیہ سفید،سیاہ،زرد،سنہرا،سبز،سرخ،بھورا یاان تمام رنگوں کےامتزاج میں پائےجاتےہیں۔نسلوں کی پہچان عمومی طورپرعلاقوں اوررنگوں کی بنیادپرکی جاتی ہے۔ - پیداوارکےشروع سےلے کرایک سال تک40سے60انڈوں پیداکرنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔ - ایک جوان مرغےکاوزن3-3.5کلوگرام جبکہ مرغی کاوزن2.5-3کلوگرام تک ہوسکتاہے۔
رہائش

مرغیوں سےبہترپیداوارکےحصول کیلئےانہیں ایسی رہائش کی فراہمی ہےجوحفظانِ صحت کےاصولوں کے عین مطابق ہو۔ گھریلوپیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےمندرجہ ذیل نِکات کومدِنظررکھیں: - شدیدموسمی حالات(سخت سردی اورگرمی)سےبچاؤ - مرغیوں کیلئےمناسب روشنی کابندوبست ہونا - صفائی ستھرائی باآسانی کی جاسکے۔
جگہ کاانتخاب

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےجگہ کاانتخاب ایک اہم مرحلہ ہے۔ڈربےکی تعمیرکیلئےمندرجہ ذیل باتوں کوملحوظِ خاطررکھیں: - ڈربےکی تعمیرکیلئےہموارجگہ کاانتخاب کریں۔ - پانی کی نکاسی آسانی سے ہو سکےاورجگہ سیم زدہ نہ ہو۔ - بجلی اورصاف پانی میسرہو۔
عمارت /ڈربے/پنجرےکی تعمیر

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےمختلف طرح کےطریقےاپنائےجاتےہیں۔ مرغیوں کی رہائش کیلئے عمارت، شیڈ، ڈربےیاپنجرےکی تعمیرکیلئےتفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔
عمارت

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےپکی یاکچی عمارت بنائی جاسکتی ہے۔ عمارت کی تعمیرمیں زیادہ خرچ نہ کریں بلکہ جومٹیریل آسانی سےمیسرہواس سےعمارت بنائیں۔ انڈےدینےوالی مرغیوں کیلئے3مربع فٹ اورگوشت کی پیداواروالی مرغیوں کیلئے2مربع فٹ جگہ کاہونالازمی ہے۔عمارت کی تعمیرمٹی ،سیمنٹ یا بانس وغیرہ کی مددسےکی جاسکتی ہے۔
شیڈ

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےشیڈبھی تیارکیاجاسکتاہے ۔شیڈکی تعمیرسٹیل،لوہے،لکڑی یابانسوں سےکی جاسکتی ہے۔ انڈےدینےوالی مرغیوں کیلئے3مربع فٹ اورگوشت کی پیداواروالی مرغیوں کیلئے2مربع فٹ جگہ کاہونالازمی ہے۔شیڈکی چھت کی اونچائی زمین سےتقریباً6فٹ تک ہونی چاہیے۔
پنجرا

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےپنجرےبھی بنائےجاسکتےہیں۔ پنجرےسٹیل،لوہےاورلکڑی سےبنائےجا سکتےہیں۔اگرپنجرےکےساتھ پہیےلگادیےجائیں تواسےایک جگہ سےدوسری منتقل کرناآسان ہوجاتاہے۔
ڈربہ

گھریلویادیہی پیمانےپرمرغیوں کی رہائش کیلئےڈربےبھی بنائےجاسکتےہیں۔ڈربےمٹی،لکڑی یالوہےسےبنائےجاسکتےہیں۔ڈربےاس صورت میں بنائےجاتےہیں جب مرغیاں انتہائی تھوڑی تعداد میں پالی جائیں۔
بیماریاں

گھریلوپیمانےپرمرغیوں کومتعدداقسام کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جونہ صرف پیداوارمیں کمی کاباعث بن سکتی ہیں بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔مندرجہ ذیل میں ضروری بیماریوں کی تفصیل دی گئی ہے
رانی کھیت(نیوکیسل ڈزیز)

اس بیماری کاشماروائرل بیماریوں میں ہوتاہے۔سب سےپہلےاس بیماری کی شناخت بھارت کےعلاقےرانی کھیت میں ہوئی جس وجہ سےاسےرانی کھیت کی بیماری سےجاناجاتاہے۔ اس بیماری کی وجہ سےشرح اموات10سےلیکر90فیصدتک ہوسکتی ہے۔
اسباب/وجوہات

اس بیماری کاسبب این ڈی وی وائرس ہے۔
علامات

اس بیماری کوعلامات کےاعتبارسےتین حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ایک حصےمیں نظام تنفس یاسانس لینےکےاعضاء پرجبکہ دوسراحصہ اعصابی نظام یادماغ اورتیسرانظام انہضام یا ہاضمے کے نظام پراثر اندازہوناہے۔کھانسنا،چھینکنا،سبزی مائل یاسفید دست، گردن اورناک کی سوجن،سانس لینےمیں تکلیف کاظاہرہونا،ٹانگوں کا فالج،گول گول دائروں میں گھومنا،انڈوں کی پیداوار میں کمی یامکمل رُک جانااوراچانک موت کاشکارہوجانااس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔
علاج

یہ بیماری وائرس کےذریعےپھیلتی ہےلہٰذااس بیماری کاکوئی مستندعلاج نہیں ہے۔علامات کومدِنظررکھتےہوئےعلاج کیاجاسکتاہے۔وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس(پینی سیلین،سٹریپٹومائی سین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یاکولیسٹین) جسمانی وزن کےمطابق استعمال کیاجا سکتاہے۔
ہومیوپیتھک/ہربل علاج
ہومیوپیتھک یاہربل دوائیں (این دی کیور/این ڈی آئی بی کیور)بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ایسافوٹیڈااورلہسن کےچھوٹےٹکڑےملاکراستعمال کروائیں۔بیماری کی روک تھام اورعلاج کیلئےمفیدہے۔(ایسافوٹیڈاپنساریاہومیوپیتھک میڈیکل سٹورسےباآسانی خریداجاسکتاہے)
بچاؤ

بچاؤکیلئےبروقت حفاظتی ٹیکہ جات(این ڈی ویکسین/این ڈی لاسوٹا) کالگوانالازمی ہے۔
متعدی کورائزایازکام
یہ بیکٹریل بیماری ہے۔ یہ بیماری متاثرہ مرغی سےصحت مندمرغی میں ناک اورمنہ سےنکلنےوالی رطوبت،متاثرہ پانی،خوراک اوربرتنوں کےذریعےمنتقل ہوتی ہے۔
اسباب/وجوہات

یہ بیماری ایک بیکٹریاسےپھیلتی ہےجس کانام ایوی بیکٹریم پیراگیلینیرم ہے۔
علامات

منہ،چہرےاورآنکھوں پرسوزش(سوجن)،چھینکیں،آنکھوں سےپانی بہنا،کھاناپیناکم کردینا،سانس لینےمیں دشوری،جسمانی وزن میں کمی اورانڈوں کی پیداوارمیں کمی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔اس بیماری سےمتاثرہ مرغیوں کی شرح اموات تو کافی کم ہوتی ہےلیکن شرح پھیلاؤکافی زیادہ ہے۔
علاج

وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس(آکسی ٹیٹراسائیکلین،ٹائلوسین،ڈاکسی سائکلین یاکولیسٹین وغیرہ)کے ساتھ ساتھ سوجن کوکم کرنےکیلئے(کیٹوپروفین یافلونگزن)دوابھی استعمال کریں ۔
بچاؤ

اس بیماری سےبچاؤکیلئےکورائزاکی ویکسین لگوائیں۔
مرغیوں کی چیچک(فاؤل پاکس)
یہ ایک وائرل بیماری ہےجومرغیوں،چوزوں،بطخوں،بٹیروں اورتیتروں کومتاثرکرتی ہے۔
اسباب/وجوہات

اس بیماری کی وجہ پاکس وائرس ہے۔عمومی طورپریہ وائرس متاثرہ مرغیوں سےصحت مندمرغیوں تک مچھروں کےذریعےمنتقل ہوسکتاہے۔
منتقلی
یہ وائرس صحت مندپرندوں میں پھٹی ہوئی جلدکےذریعےداخل ہوتاہےاسی وجہ سےوائرس کی منتقلی کی ممکنہ صورتیں مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں: - لڑائی کےدوران لگنےوالی چوٹ کےذریعے - مچھروں کےکاٹنےکی وجہ سے
علامات

وائرس کی منتقلی کے بعدعلامات ظاہرہونےمیں تقریباً4سے10دن لگتےہیں۔ ### **خشک حالت کی علامات** منہ ،کلغی،آنکھوں اورکانوں پرکھرنڈوں کا بن جانا،انڈوں کی پیداوارمیں خاطرخواہ کمی،کھاناپیناکم کردینا،کھرنڈوں کاکچھ عرصےبعدخودہی جھڑجانا خشک حالت کی علامات میں شامل ہیں۔ ### **نم/گیلی حالت(خُناق)** زبان،اندورنی نتھنوں اورپوٹے(معدے)میں پیلےرنگ کےنرم دانوں یازخموں کابننا،زخموں کوچھلنےپرخون کانکلنا،سانس کی نالی میں زخموں سےنکلنےوالےموادکےجمع ہونےسےدم گھٹنا، انڈوں کی پیداوارمیں کمی نم حالت(خُناق)کی علامات شامل ہیں۔
علاج

- وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس میں آکسی ٹیٹراسائیکلین،ٹائلومائی سین،سنامائی سین یااینروفلاکساسین استعمال کریں ۔ - کھرنڈوں اورزخموں پرپولی فیکس آئنٹمنٹ یاآئیوڈین کاٹنکچرلگائیں۔ - مندرجہ بالادواؤں کےساتھ وٹامن Aکااستعمال کرنابھی فائدہ مندثابت ہوتاہے۔
بچاؤ

مرغیوں کےچیچک سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات(فاؤل پاکس ویکسین) بھی لگوائیں۔مچھروں کومارنےکیلئےحشرات کُش زہرکامحلول بناکرمرغی خانےمیں اورقریب کوئی پانی یاجوہڑہوتواس میں بھی اسپرے کریں
مرغیوں /پرندوں کابخار(آئی بی/انفیکشئس برونکائٹس)
یہ ایک وائرل بیماری ہے۔
اسباب/وجوہات

یہ بیماری کوروناوائرس سےپھیلتی ہے۔اس وائرس کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔10سے12ہفتوں کی عمرکےچوزےاس وائرس سےزیادہ متاثرہوتےہیں جبکہ اگرپہلےسےکسی اوربیماری کاحملہ ہوچکا ہوتواس بیماری کادورانیہ لمباہوجاتاہے۔
منتقلی
اس بیماری کےوائرس کی متاثرہ مرغیوں سےصحت مندمیں ہواکےذریعےبہت تھوڑےوقت میں مرغی خانےمیں موجودتمام مرغیاں اورچوزےمتاثرہوسکتےہیں۔
علامات

اس بیماری سےمتاثرہ چوزوں اورمرغیوں میں جوعلامات مندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں: - نزلہ اورزکام - انڈوں کےمعیارمیں کمی اورانڈےکےاندرسفیدی پانی کی طرح پتلی ہوجاتی ہےجبکہ کبھی کبھی خون کےداغ میں دیکھنےمیں آتے ہیں۔ - انڈوں کےچھلکےنرم ہوجاتےہیں اوربعض اوقات انکی شکل بھی بگڑجاتی ہے۔ - شرح اموات25سے30فیصدتک ہوسکتی ہے۔
علاج

- چوزوں میں بیماری کی علامات ظاہرہونےپرمرغی خانےکےدرجہ حرارت بہترکریں۔گردوں کومتاثرہونےسےبچانےکیلئےسوڈیم سٹریٹ یاپوٹاشیم سٹریٹ کوخوراک میں استعمال کریں۔ - انڈوں کی بناوٹ اورمعیارکوبہترکرنےکیلئےڈی سی پی پاؤڈرکوخوراک میں استعمال کروائیں۔ - بیماری کی شدت کو کم کرنےکیلئےملٹی وٹامن اوروسیع الاثراینٹی بائیوٹکس (پینی سیلین یااینروفلاکساسین)کااستعمال کریں۔
بچاؤ

بچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات(آئی بی ویکسین) لگوائیں۔
مرغیوں کابخار/پرندوں کابخار/فاؤل ٹائیفائیڈ

یہ ایک بیکٹریل بیماری ہےجس میں مرغیوں کو110سے113ڈگری تک بخارہوتاہے۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کاسبب سالمونیلاگیلینیرم نامی بیکٹریاہے۔
پھیلاؤ
یہ بیماری دوطریقوں سےپھیل سکتی ہےجن کی تفصیل مندرجہ زیل میں دی گئی ہے: - ۔ متاثرہ مرغیوں سےچوزوں میں انڈوں کےذریعے - ۔متاثرہ مرغیوں سےصحت مندمرغیوں میں آلودہ خوراک،پانی اوربرتنوں کےذریعےمنتقل ہوسکتی ہے۔
علامات

اس بیماری کوعلامات کےلحاظ سےدوحصوں میں تقسیم کیاگیاہےجن کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔
چوزوں میں ظاہرہونےوالی علامات

کمزوری،کھاناپیناکم کر دینا،ایک جگہ اکٹھےہوکربیٹھ جانا،سانس لینےمیں تکلیف ظاہرہونااوراگربیماری شدت اختیارکرلےتوچنددنوں میں موت کاشکارہوجاتےہیں۔
بڑی مرغیوں اورمرغوں میں ظاہرہونےوالی علامات

### **معمولی بخار** اس حالت میں ہلکاپھلکابخاررہتاہے۔شرح اموات کافی کم ہوتی ہے۔انڈوں کی پیداوارمیں کمی دیکھنےمیں آتی ہے۔ ### **سخت بخار** اس حالت میں شرح اموات قدرےزیادہ ہوتی ہے۔متاثرہ مرغیوں کاکھاناپیناکم ہوجاتاجس کی وجہ سےانڈوں کی پیداورشدیدمتاثرہوتی ہے۔ 110 سے113ڈگری فارن ہائیٹ تک بخارہوسکتاہے۔ ### **خطرناک بخار/مہلک بخار** اس حالت میں شرح اموات پچھلی تمام حالتوں سےزیادہ ہوتی ہے۔شدیدسخت بخارکےساتھ اس میں متاثرہ مرغیوں کی کلغی سکڑکرپیلی ہوجاتی ہے۔
علاج

- پیراسیٹامول کی 4سے5گولیاں فی گیلن پانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس(پینی سلین یااینروفلاکساسین)کوپانی یاخوارک میں ملاکراستعمال کیا جاسکتاہے۔ - کلورم فینی کول کیپسول5سے6فی گیلن پانی میں ملاکر7دن تک استعمال کریں۔
بچاؤ
اس بیماری سےبچاؤکیلئےمرغی خانےپرصفائی کاخاص خیال رکھیں ۔
کاکسی/خونی پیچش/کاکسی ڈیوسس
اس بیماری کا شمارانتظامی بیماریوں میں ہوتاہے۔
اسباب/وجوہات

اس بیماری کی وجہ ایمیریا نامی جراثیم ہے۔ایمیریا کاشمارپروٹوزووامیں ہوتاہے۔
پھیلاؤ
اس بیماری کےپھیلاؤکیلئےمندرجہ ذیل عوامل ہوسکتےہیں: - گیلی آلودہ بچھالی کےذریعے - گوشت کےحصول کیلئےپالی جانےوالی مرغیوں میں اس بیماری کاپھیلاؤزیادہ دیکھنےمیں آیاہے۔
علامات

ویسےتو اس بیماری کی علامات کسی بھی عمرکی مرغیوں میں ظاہرہوسکتی ہیں جبکہ زیادہ ترعمرکےتیسرےہفتےمیں حملہ زیادہ دیکھنےمیں آیاہے۔بیماری کی علامات کو دوحصوں میں تقسیم کی گیا ہےجن کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے:
بیرونی طورپرظاہرہونےوالی علامات

- متاثرہ مرغیاں پرپھیلاکربیٹھ جاتی ہیں۔ - خون ملےدست/اسہال کالگنا - بیماری کی شدت سےموت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
اندرونی طورپرظاہرہونےوالی علامات

- انتڑیوں میں سوجن اورخون کی موجودگی - بعض اوقات انتڑیوں میں چھالےبھی دیکھنےمیں نظرآتےہیں۔
علاج
- ایمپرولیم(Amprolium)ایک گرام فی دولیٹرپانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - کوکسیوا(Coxeva)ایک چائےکاچمچ فی گیلن پانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - ڈائی سلفینادوائی ایک ملی لیٹرفی لیٹرپانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - کاکسی کیوردوائی 1گرام فی 2لیٹرپانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - وٹامن کے(Vitamin-K)یاٹرانزامین (Transamine)بھی پانی میں ملاکراستعمال کریں۔ - **مندرجہ بالاادویات میں سےکوئی ایک دوائی وٹامن Kیاٹرانزامین کےساتھ تین دنوں تک استعمال کریں۔علاج کےدوران وٹامن بی کااستعمال نہ کریں۔**
بچاؤ
اس بیماری سےبچاؤکیلئےبچھالی کوگیلا رہنےسے بچانےکیلئےاس میں خشک برادےکوشامل کرتے رہیں جس میں سپرفاسفیٹ ایک کلوگرام فی 100مرغیوں کےحساب سےملائیں۔ کاکسی کیورپاؤڈر1گرام فی 4لیٹرپانی میں ملاکرمہینےمیں ایک دفعہ استعمال کریں۔
مائیکوپلازما(سانس کی بیماری)
اس بیماری میں مرغیوں اورپرندوں کے سانس کی اوپری اورنچلی نالی متاثرہوسکتی ہے۔
اسباب/وجوہات

یہ بیماری مائیکوپلازماگیلی سیپٹیکم نامی بیکٹریاکےذریعےپھیلتی ہے۔
پھیلاؤ

اس بیماری کاپھیلاؤآلودہ خوراک،پانی اوربرتنوں کےذریعےہوسکتاہے۔
علامات

سانس لیتےہوئےآوازوں کانکلنا،سرکوباربارہلانا،کھاناپیناکم کر دینا،انڈوں کی پیداوارمیں کمی اورانڈوں کےوزن میں کمی کاظاہرہونا،مرغیوں کی نسبت مرغوں میں علامات زیادہ ظاہرہوتی ہیں،مردہ مرغیوں کوکھول کے دیکھا جائےتوسانس کی نالی اورپھیپھڑوں میں لیسدارمادےکی موجودگی اس بیماری کی علامات شامل ہیں۔
علاج
- مرغی خانےمیں استعمال ہونےوالےتمام برتن پوٹاشیم پرمیگنیٹ(لال دوائی)سےدھویں۔ - مرغی خانےکےاندرایک حصہ فارمالین اور24حصےپانی میں ملاکراسپرےکریں۔ - ٹرائی برسن دوائی ایک ملی لیٹرمیں ایک لیٹرپانی میں ملا کرسات دنوں تک استعمال کریں۔ - گیلامائی سین دوچائےکےچمچ پانچ لیٹرپانی میں ملاکرسات دنوں تک استعمال کریں۔ - لنکومائی سین ایک گولی2لیٹرپانی میں ڈال کرسات دنوں تک استعمال کریں۔ - شدیدحالت میں ٹائیلوسین کاانجکشن لگائیں۔
بچاؤ
اس بیماری سےبچاؤکیلئےمردہ مرغیوں کوزمین میں دفناکرچونےسےبھردیں۔
گمبورو/انفیکشئس برسل ڈزیز/آئی بی ڈی

یہ ایک وائرل بیماری ہے۔یہ بیماری عمرکےدوسرے ہفتےسےلیکر16ہفتےکی عمرتک متاثرکرسکتی ہے۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کی وجہ آئی بی ڈی وائرس ہے۔
پھیلاؤ

یہ بیماری متاثرہ مرغیوں سےصحت مندمرغیوں میں بیٹھوں،پانی اورخوراک کےذریعےمنتقل ہوسکتی ہے۔
علامات

بخار،دست،بھوک کانہ لگنا،بےچینی،سرگھمانا،سستی اورلنگڑاپن اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔بیمارہونےکی شرح 60سے80فیصدجبکہ اموات کی شرح40فیصدتک ہوسکتی ہے۔
پوسٹ مارٹم میں ظاہرہونےوالی علامات

- برساسوجاہوادکھائی دیتاہےاورکبھی کبھارخون کےقطرےبھی نظرآتےہیں۔ - سوجےہوئےخون آلودگردے۔ - پوٹےکےساتھ خون کےدھبے۔
علاج

یہ وائرل بیماری ہے اس لیےاس کاکوئی مستندعلاج نہیں ہےلیکن علامات کےظاہرہونےپرعلامتی علاج کیا جاسکتاہے۔ - اینروفلاکساسین یااموکسی سیلین کےساتھ کیٹوپروفن استعمال کریں۔ - منرل مکسچرخوراک یاپانی میں ملاکراستعمال کریں۔
بچاؤ

اس بیماری کےبچاؤ کیلئےتمام مرغیوں کوگمبوروکی ویکسین لگوائیں۔صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔
خوراک

گھریلویادیہی مرغبانی کیلئےخوراک کی بہت زیادہ اہمیت ہےکیونکہ خوراک کامقصدنہ صرف انکی جسمانی ضرورت کوپوراکرناہوتاہےبلکہ انڈوں کی پیداوارکاحصول بھی ہوتاہے۔
خوراک کی ضرورت

گھریلویادیہی پیمانےپرانڈوں کی پیداواربہت کم ہوتی جوبڑی مشکل سےصرف گھریلوضرورت کو ہی پوراکر پاتی ہےجس کی بڑی وجہ غیرمعیاری،غیرمتوازن اورناکافی خوراک کی فراہمی ہےاگرگھریلویادیہی مرغبانی کیلئے خوراک پرخصوصی توجہ دی جائےتوان کی پیداوارمیں خاطرخواہ اضافہ کیا جاسکتاہے۔
خوراک کی اقسام
گھریلو یادیہی پیمانےپرمرغبانی کی خوراک کوبنیادی طورپردوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہےجس میں پہلاحصہ انکی اپنی جسمانی ضرورت کوپوراکرنااوردوسراگوشت اورانڈوں کی پیداوارپرمشتمل ہے۔ **دومختلف اقسام کی خوراک کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔**
پہلی قسم کی خوراک
مرغیاں سارادن گھوم پھرکرکھاتی ہیں۔عمومی طورپرگھریلویادیہی پیمانےپر مرغیوں کوصبح سویرےڈربےسےنکال کرکھلا چھوڑدیا جاتا ہے۔گھرکےصحن،گلیوں اور کھیتوں سےگھاس،سبزیوں اورپھلوں کےچھلکےاورکیڑےمکوڑےوغیرہ کھاکرگزاراکرلیتی ہیں۔
دوسری قسم کی خوراک
خوراک کی مقداراورمعیارکومدِنظررکھتےہوئےانہیں اضافی خوراک (راشن/خوراک/ونڈا)کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ سارادن صحن،کھیت اورگلیوں سےدانہ دُنکااورکیڑےمکوڑےوغیرہ کھاکےواپس آنےکےبعد انہیں راشن /خوراک /ونڈاکھلایا جاتاہے ۔
خوراک کاشیڈول

مرغیوں کیلئےعمرکےلحاظ سےخوراک کی مقدارکاشیڈول اوپردیاگیاہے۔
مرغی خانےپراستعمال ہونےوالےبرتن
مرغی خانےپرمختلف اقسام کےبرتن استعمال کیےجاتےہیں۔ان برتنوں کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔
خوراک کیلئےبرتن
مرغیوں کوخوراک کی فراہمی کیلئےمختلف اقسام کےبرتن استعمال کیےجاتے ہیں جن میں لمبےنالی نما اورگول /ڈول نما برتن زیادہ استعمال کیےجاتےہیں۔گھریلویادیہی پیمانےپرپلاسٹک کی بوتلیں ،بالٹیاں،ٹائر اورمٹی کی بنی نالیاں خوراک کےمقصدکیلئےاستعمال کی جاسکتی ہیں جبکہ بازارسےبنےبنائےبرتن بھی خریدےجاسکتےہیں۔
پلاسٹک کےبنےبنائےخوراک کےبرتن

پلاسٹک کےبرتن
پلاسٹک کی بوتل سےبناخوراک کابرتن

پلاسٹک کی بوتل سےبناہوابرتن
پلاسٹک کی بالٹیوں سےبناخوراک کابرتن

پلاسٹک کی بالٹیوں سےبنابرتن
لکڑی اورپلاسٹک کی کنالیاں

لکڑی اورپلاسٹک کی خوراک کی نالیاں
مٹی سےبناخوراک کابرتن

مٹی کےبرتن
پانی کیلئےبرتن
مرغیوں کوتازہ اورصاف پانی کی رسائی انکی جسمانی ضرورت کےساتھ ساتھ انڈوں اورگوشت کی پیداوارکیلئےانتہائی ضروری ہے۔پانی کےبرتن کی اونچائی فرش سےمرغی کےجسم کےمطابق ہونی چاہیے ۔
برتن کاسائز
ایک4/1گیلن کابرتن25سے30چوزوں کیلئےاور2گیلن کابرتن30بڑی مرغیوں کیلئےضروری ہے۔گھریلویادیہاتی پیمانےپرپلاسٹک کی بوتلوں،بالٹیوں اورمٹی کےبرتن استعمال کیےجاسکتےہیں۔
پلاسٹک کےبنےبنائےپانی کےبرتن

پانی کیلئےپلاسٹک کےبنےبنائےبرتن
پلاسٹک کی بوتلوں سےبنےہائےپانی کےبرتن

پانی کیلئےپلاسٹک کی بوتلوں کااستعمال
پلاسٹک کی بالٹیوں اوربڑی بوتلوں سےبنےپانی کےبرتن

پانی کیلئےبالٹیوں اوربڑی بوتلوں کااستعمال
مٹی سےبنےپانی کےبرتن

پانی کیلئےمٹی کےبرتن
انڈےدینےکیلئےگھونسلے

گھریلویادیہی پیمانےپرانڈوں کےحصول کیلئےگھونسلےبنائےجوتےہیں۔اگرگھونسلےنہ بنائے جائیں تومرغیاں کسی بھی جگہ انڈےاتارسکتی ہیں جس وجہ سےاکثرانڈےٹوٹ جاتے ہیں۔۔لکڑی اورپلاسٹک کی بالٹیوں وغیرہ سےگھونسلےبنائےجاسکتےہیں۔مختلف اقسام کےگھونسلےمندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں
لکڑی سےبنےہوئےگھونسلے

لکڑی کےگھونسلے
پلاسٹک کی بالٹیوں سےبنےگھونسلے

بالٹیوں سےبنےگھونسلے
پلاسٹک کی ٹوکریوں سےبنےگھونسلے

ٹوکریوں سےبنےگھونسلے
پلاسٹک کےبرتنوں سےبنےگھونسلے

برتنوں سےبنےگھونسلے
گھونسلےبنانےکےفوائد

گھونسلےبنانےکےفوائدمندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں: - انڈےٹوٹنےسےبچ جاتےہیں۔ - انڈےبیٹھوں سےآلودہ ہونےسےمحفوظ رہتےہیں۔
بچھالی

مرغیوں کوبیماریوں سےمحفوظ رکھنےاوربہترصحت کےحصول کیلئےبچھالی استعمال کی جاتی ہے۔مرغی خانےکیلئےاستعمال ہونےوالی بچھالی کیلئےمختلف نکات مندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں:
بچھالی کی تہہ
بچھالی کی تہہ 4سے5انچ گہری ہونی چاہیے۔
بچھالی کی اقسام

بچھالی کیلئےبھوسہ،پرالی،خشک گھاس،مونگ پھلی کےچھلکے،گنےکاجوس نکلنےکےبعدبچ جانےوالابرادہ،لکڑی کی کٹائی اوررگڑائی کےبعدبچنےوالا برادہ استعمال کیا جاسکتاہے۔
مرغبانی کیلئےعمرکےلحاظ سےدیکھ بھال

مرغبانی چاہےچھوٹےپیمانےپر ہو یابڑےپیمانےپر انکی دیکھ بھال عمرکےلحاظ سےمختلف مراحل میں مختلف ہوتی ہے۔اگرہرمرحلےمیں انکی دیکھ بھال عمرکےلحاظ سےکی جائے توان سےبہتر انڈوں اورگوشت کی پیداوارحاصل کی جاسکتی ہے۔ مرغیوں کوعمرکےلحاظ سےمختلف مراحل میں اس لئےتقسیم کیا جاتاہےتاکہ انکی دیکھ بھال آسانی سےکی جاسکے۔
انڈوں کیلئےپالی جانےوالی مرغیوں کی عمرکےلحاظ سےمختلف مراحل اوردیکھ بھال

انڈوں کیلئےپالی جانےوالی مرغیوں کی عمرکےلحاظ سےمختلف مراحل اوردیکھ بھال مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔
پہلےدن سےلیکرایک ماہ تک کی دیکھ بھال(بروڈنگ)

پہلےدن سےلیکرایک ماہ تک کی دیکھ بھال کےحوالےسےاہم نکات مندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں
مصنوئی حرارت

چوزوں کوپہلےدن سےلیکرتقریباً4ہفتوں تک مصنوئی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔اگرتھوڑی تعداد میں چوزے ہوں تویہ بڑی مرغیوں سےحرارت حاصل کرسکتے ہیں جبکہ اگرزیادہ تعدادمیں ہوں توانہیں اضافی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔خاص طورپرسردیوں میں پہلامہینہ نہایت اہمیت کاحامل ہوتاہےجس کیلئےمرغی خانےمیں انگیٹھی یاہیٹرلگائیں۔
خوراک

اس دورانیےمیں مکس راشن/خوراک بھی دن میں ایک یادودفعہ لازمی طورپرکھلائیں۔ - بازارسےبنی بنائی لئیرسٹارٹرفیڈبھی خریدکرکھلائی جاسکتی ہے
حفاظتی ٹیکہ جات

چوزوں کوشیڈول کےمطابق حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں۔
ایک ماہ سےلیکر17ماہ کی عمرتک کی دیکھ بھال

ایک ماہ سےلیکر17ماہ تک کی عمرتک وہ دورانیہ ہوتاہےجب مرغیاں بڑھوتری کےمراحل میں ہوتی ہیں اورانڈوں کی پیداوارکیلئےتیارہورہی ہوتی ہیں۔اس دورانیےکےدوارن مرغیوں کی دیکھ بھال کےحوالےسےاہم نکات مندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں
خوراک

- دن میں انہیں کھلا چھوڑ دیں اورشام کومرغی خانےمیں بندکرنےسےپہلےاضافی خوراک /راشن/ونڈالازمی کھلائیں۔ - کچن کی بچی ہوئی سبزیاں اورپھلوں کےچھلکےچھوٹےچھوٹےٹکڑےکاٹ کرکھلائیں۔ - بازارسےبنی بنائی لئیرگروورخوراک بھی کھلائی جاسکتی ہے
حفاظتی ٹیکہ جات

شیڈول کےمطابق حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں۔
17ماہ سےلیکرایک سال کی عمریاجب تک انڈےدیناچھوڑدیں
اس دورانیےمیں مرغیوں نےایک تواپنی جسمانی ضرورت پوری کرنی ہوتی ہےبلکہ ساتھ ساتھ انڈےبھی دینے ہوتےہیں۔انڈےدینےکی عمرمیں مرغیوں کی دیکھ بھال کےحوالےسےاہم نکات مندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں
گھونسلوں کی تعداد

پانچ مرغیوں کیلئےکم ازکم ایک گھونسلہ رکھنالازمی ہے۔گھونسلےکی لمبائی11انچ،اونچائی10انچ اورچوڑائی14انچ تک ہونی چاہیے۔
روشنی کادورانیہ

انڈےدینےکےدورانیےمیں مرغیوں کو16سے17گھنٹےروشنی درکارہوتی ہےلہٰذااسےپوراکرنےکیلئےاضافی بلب اورانرجی سیورلگائیں۔
صفائی ستھرائی

ہردوماہ کےبعدکسی بھی جراثیم کُش دوائی(فینائل/پوٹاشیم پرمیگنیٹ) کامحلول بناکرمرغی خانےکی صفائی لازمی طورپرکی جائے۔
پیٹ کےکیڑوں کاتدارک

ہرڈیڑھ ماہ بعدمرغیوں میں کیڑوں(ملپ/کِرم)کوکنٹرول کرنےکیلئےدوا(لیوامیسول/البینڈازول)لازمی استعمال کریں۔
منرل مکسچر

جیسےجیسےمرغیوں کی عمربڑھتی جائےگی انکےانڈوں کاچھلکاپتلااورکمزورہوتاجائےگالہٰذاجب اس طرح کامسئلہ پیش آئےتوان کی خوراک یاپانی میں منرل مکسچرملاکراستعمال کریں۔
خوراک

20ہفتےکی عمرتک مرغیوں کو70گرام خوراک فی مرغی کے حساب سےکھلائیں جسے5گرام ہرہفتےبڑھاتےجائیں جو28ہفتےکی عمرتک تقریباً110گرام خوراک فی مرغی ہوجائے۔
زرخیزانڈوں کاحصول

زرخیز انڈوں کےحصول کیلئےکم ازکم دس مرغیوں کیلئےایک مرغاکافی ہوتاہے۔
انڈوں سےچوزےنکالنا

مرغیوں سےحاصل شدہ زرخیزانڈوں سےچوزےنکالےجاسکتےہیں۔چوزےنکلوانےکیلئےمندرجہ ذیل ہدایات کوملحوظِ رکھیں۔
انڈوں کاانتخاب

- انڈےصاف ستھرےاورغلاظت سےپاک ہونےچاہیں۔ - کوشش کریں درمیانےسائزکےانڈوں کاانتخاب کریں جن سےچوزےنکلنےشرح زیادہ ہوتی ہے۔ - اگرانڈوں پرگندگی یاغلاظت لگی ہوتوانہیں ریگ مارکی مددسےصفائی کریں تاکہ یہ چوزوں کی پیداوارکومتاثرنہ کرسکے۔
انڈوں سےچوزےنکلوانےکےطریقے
گھریلویادیہی پیمانےپرزرخیزانڈوں سےچوزےدوطریقوں سے نکلوائےجاسکتے ہیں۔انڈوں سےچوزےنکلوانے کےطریقوں کی تفصیل مندجہ ذیل میں دی گئی ہے:
قدرتی طریقےسےیاکُڑک مرغی کےذریعےچوزےنکلوانا

قدیم عرصےسےقدرتی طریقہ یاکُڑک مرغی چوزےنکلوانےکیلئےاستعمال کی جاتی ہے۔قدرتی طریقےیاکُڑک مرغی کےذریعےانڈوں سےچوزوں کونکلوانےکیلئےمندرجہ ذیل ضروری باتوں کومدِنظررکھیں
کُڑک مرغی کی خصوصیات

- جوکُڑک مرغی چوزےنکلوانےکیلئےمنتخب کی جائےوہ مستقل مزاج ہواورپہلےبھی چوزےنکلوانےکیلئےاستعمال کی جاچکی ہوتوزیادہ بہترہے۔ - جہاں کُڑک مرغی کو رکھا جائےوہاں صفائی کامناسب بندوبست ہونا چاہیےجبکہ اگرموسم سردہوتووہاں مصنوئی حرارت کابندوبست بھی ہوناچاہیے۔ - انڈوں سےچوزوں کےنکلنےکیلئے21دن درکارہوتےہیں لہٰذااکیسویں دن سےچوزے نکلناشروع ہوجاتےہیں جبکہ 25سے30دن گزرجانےکےبعد بھی کسی انڈےسےچوزہ نہ نکلاہوتوانہیں اٹھاکرضائع کردیں۔
مصنوئی طریقے/ہیچری/انکوبیٹر کےذریعےانڈوں سےچوزےنکلوانا

گھریلویادیہی پیمانےپرمصنوئی طریقےیاہیچری(انکوبیٹر) کےذریعےانڈوں سےچوزےنکلوائےجاسکتےہیں مصنوئی طریقےیاہیچری(انکوبیٹر) کےذریعےانڈوں سےچوزےنکلوانےکیلئےاہم نکات مندرجہ ذیل میں بیان کیےگئےہیں
انکوبیٹرکےلحاظ سےاہم باتیں

- چھوٹےپیمانےپربنےانکوبیٹربجلی یامٹی کےتیل سےچلائےجاتےہیں۔انکوبیٹرکومسلسل چلانےکیلئےبجلی یامٹی کےتیل فراہمی کویقینی بنانالازمی ہوتاہے۔ - گھریلویادیہی پیمانےپرانکوبیٹرسےچوزےنکلواناانتہائی فائدہ مندہے۔12سےلیکر200انڈوں سےباآسانی چوزےنکلوائےجاسکتےہیں۔
حشرات اوراندرونی بیرونی کیڑوں کی روک تھام

مرغی خانےمیں مرغیوں کی صحت اوربہترپیداوارکےحصول کیلئےحشرات اورکیڑوں(اندرونی اوربیرونی) کی روک تھام انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
پانی کی نکاسی
مرغی خانےمیں مرغیوں کی صحت اوربہترپیداوارکےحصول کیلئےحشرات اورکیڑوں(اندرونی اوربیرونی) کی روک تھام انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
حشرات کی روک تھام

مرغی خانےمیں حشرات کُش زہرجیساکہ ڈیلٹامیتھرین،سائپرمیتھرین یا لیمڈاسائیلوتھرین کامحلول بناکراسپرےکریں۔
اندرونی کیڑوں کاتدارک

اندرونی کیڑوں کےتدارک کیلئےکم ازکم دوماہ میں ایک دفعہ لیوامیسول یاالبینڈازول (0.1ملی لیٹرفی مرغی)پلائیں۔
بیرونی کیڑوں کوتدارک

مرغیوں کےبیرونی کیڑوں جیساکہ جوں،چیچڑاورپسووغیرہ کےتدارک کیلئےٹرائیکلورفان پاؤڈرکا4فیصدمحلول بناکراسپرےکریں یاکوئی کپڑاڈبوکرجسم پرلگائیں۔
بائیوسیکیورٹی/جراثیموں کی منتقلی کی روک تھام

مرغی خانےپرمختلف اقسام کی بیماریوں کےجراثیموں کی منتقلی کوروکنابائیوسیکیورٹی/حیاتیاتی تحفظ کہلاتاہے۔ مرغی خانےپربائیوسیکیورٹی کےحوالےسےمندرجہ ذیل باتوں کوملحوظِ خاطررکھناضروری ہے۔
غیرضروری لوگوں کاآناجانا

غیرضروری لوگوں کامرغی خانےمیں آناجانابندکردیں۔
مردہ مرغیاں

مردہ مرغیوں اورچوزوں کوزمین میں گڑھاکھودکردفنادیں اورچونےسےبھردیں۔
نئی خریدی گئی مرغیاں

نئی خریدی گئی مرغیوں اورچوزوں کو10سے15دن تک علیحدہ رکھیں۔اگران میں کوئی بھی بیماری کی علامات ظاہرہوں توان کوعلاج شروع کردیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات(ویکسینیشن)

مرغیوں کومختلف اقسام کی متعدی بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لگوائےجاتےہیں۔حفاظتی ٹیکہ جات لگوانےکیلئےمندرجہ ذیل ضروری ہدایات کوملحوظِ خاطررکھیں۔
بیماری کی علامات ظاہرہونےپر

بیماری کی علامات ظاہرہونےکےبعدحفاظتی ٹیکہ جات ہرگِزنہ لگوائیں۔
کولڈچین یاٹھنڈارکھنا

حفاظتی ٹیکےلگاتےہوئےکولڈچین کوبرقراررکھناضروری ہےاگرکولڈچین برقرارنہ رکھی جائےتواسکےخراب ہونےکاخدشہ بڑھ جاتاہے۔
ویکسین پرخودتوجہ دیں

بعض لوگ اس انتظارمیں ہوتےہیں کہ حفاظتی ٹیکہ جات حکومت کی طرف سےمہیاکی جائے گی توہی کریں گےنہیں توحفاظتی ٹیکوں پرکوئی خاص توجہ نہیں دیتےاورجب وباء پھوٹتی ہےتوان کی مرغیاں بیماری کاشکارہوجاتی ہیں جوپیداوارمیں کمی کے ساتھ ساتھ جان لیوابھی ہوسکتی ہےلہٰذااگرحکومت کی طرف سےویکسین نہ مل سکےتوبازارسےخود خریدکراستعمال کرلیں تاکہ آپ کی مرغیاں متعدی بیماریوں سےمحفوظ ہوسکیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول

حفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول اوپردیاگیاہے۔ - **نوٹ:ہردوماہ بعدرانی کھیت کی بیماری کےخلاف ویکسین لازمی لگوائیں۔مندرجہ بالاویکسین کاجدول/شیڈول پاکستان کےدیہی علاقوں اورگھریلومرغبانی کےمطابق ہےجو علاقےاوربیماریوں کے لحاظ سےتبدیل بھی ہوسکتاہے۔**
Get in touch!


