Agri Content

Modern Farming
Read about general practices related to Mushroom Farming and how to prevent or cure its diseases
Modern Farming

Mushroom Farming
Value Addition

Hydroponics

Floriculture

Medicinal Plants

Tunnel farming

کھمبی ایک نفع بخش فصل ہے جسے سورج کی روشنی کی غیر موجودگی میں مخصوص درجہ حرارت اور نمی کی موجودگی میں تیار کیا جاتا ہے۔کھمبی کی بے شمار اقسام ہیں جن میں پرالی، بٹن مشروم(یورپی)، آئسڑ (صدف نما کھمبی) اور شیٹاکی مشروم (شاہ بلوط) زیادہ تر کاشت کی جاتی ہیں

کھمبیاں بنیادی طورپر بغیر روشنی کے بند کمرے میں اگائی جاتی ہے۔ کھمبی کو عموماً اگانے کے لیےکمرے بنائے جاتے ہیں یا پولٹری شید وغیرہ کو استعمال میں لایا جاتا ہے ۔ اگر گھر یلو پیمانے میں کاشت کرنا مقصود ہو تو گھر میں دستیاب فالتو کمرے ،تہ خانے اور گھاس پھوس سے بنے ہوئے جھگی نما کمرے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

کھمبی وسیع پیمانے پر کاشت کرنے کے لیے ایسے کمرے جن میں درجہ حرارت اور ہوا میں نمی بر قرار رکھنے کا انتظام موجود ہوتعمیر کیے جاتے ہیں ۔

گھر میں یا وسیع پیمانے پر کھمبی اگانےکے لیے فرش پر ریت کی 3 سے 6 انچ تہہ موٹی بچھانی چاہیئے تاکہ اس میں پانی دے کر نمی برقرار رکھی جا سکے۔ اس طرح کمرے میں ریکس بنا کر پیداوارئی میں اضافہ ممکن ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کیلئے کمرے میں فین کی موجودگی لازمی کریں۔

پاکستان میں قدرتی درجہ حرارت پر یہ عموماً میدانی علاقوں میں موسم سرما میں 15 اکتوبر سے مارچ تک کاشت کی جاسکتی ہے جبکہ شمالی پہاڑی علاقوں میں موسم گرما میں اگائی جاسکتی ہے۔
کھمبی کی ہر قسم کے لیے مختلف فارمولہ سے کمپوسٹ تیار کیا جائے گا۔
آئسڑ مشروم صدف نما کھمبی

### وقت کاشت میدانی علاقوں میں اکتوبر تا اپریل
کمپوسٹ کی تیاری

گندم کا بھوسہ، چاول کی پرالی، مکئی کے تکے یا روئی کا کچرہ جو باآسانی مل جائے پانی میں بھگولیں۔

گندم کا بھوسہ یا چاول کی پرالی 24 گھنٹے ،مکئی کے تکے 96 گھنٹے یا روئی کا کچرہ صرف بھگو کر نکال لیں۔ فرش کی سطح پر یہ مکسچر بچھا کر فالتو پانی بہہ جانے دیں۔ اب بچھا ہوا چونا دو تا پانچ فیصد ملا کر مومی چادر سے ڈھانپ دیں۔ دس تا پندرہ دن میں گلنے سڑنے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ نمی کا تناسب65 تا 70 فیصد رکھیں۔
بٹن مشروم(یورپی کھمبی)

### وقت کاشت اکتوبر تا فروری
کمپوسٹ کی تیاری

گندم کا بھوسہ 1000 کلوگرام پلس مرغیوں کی کھاد 400 کلوگرام پلس جپسم 60 کلوگرام پلس بجھا ہوا چونا 20 کلو گرام آپس میں ڈھلون سطح کے فرش پر گیلا کر کے ملا لیں۔ ڈھیر کو اُلٹاتے رہیں اور نم رکھیں ایک ماہ میں گلنے سٹرنے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ جب امونیا کی بو آنا بند ہو جائے اور کمپوسٹ گہرا بھورا رنگ اختیار کرے تو جراثیم سے پاک کر لیں۔ ### پرلی کی کھمبی موسم گرمامیں کاشت کریں۔ 30 تا 37 سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 80 سے 90 فیصد نمی ہو۔
کمپوسٹ کی تیاری

گندم کا بھوسہ یا چاول کی پرالی 24 گھنٹے پانی میں بھگولیں یا روئی کا کچرہ اچھی طرح بھگو کر نکال لیں ان میں کوئی بھی مواد جو آسانی سے دستیاب ہو استعمال میں لائیں۔ فالتو پانی نکال لیں۔ ڈھلوان سطح پر رکھ کر بعد ازاں ا ن کے بیڈز بنا لیجئے۔

خشک پرالی کے بیڈز کیلئے 6 سے 8 انچ موٹائی کے بنڈلوں کو 24 گھنٹے وقت تک بھگو لیں۔ ان کے اوپر 6 انچ کے فاصلے پر انگوٹھے کے برابر سپان ڈالیں۔ سپان کے اوپر بیسن چھڑک دیں۔ اوپر بنڈل رکھ کر یہ عمل دوہرائیں حتی کہ 4 سے 6 تہیں لگ جائیں۔ ان بیڈز کونم رکھیں اور مومی چادر سے ڈھانپ دیں تاکہ نمی برقرار رہے۔
شیٹاکی مشروم (شاہ بلوط کھمبی)

### وقت کاشت ستمبر ، اکتوبر سے اپریل تک فصل حاصل کر سکتے ہیں۔

### کمپوسٹ کی تیاری شیشم یا پاپولر کی لکڑی کا بردہ 100 کلوگرام پلس چھان بورہ 15 کلوگرام پلس چونا گرام پلس شکر 100 گرام۔ تمام اشیاء کو گیلا کرنے کے بعد ڈھیر لگالیں اور موزوں وقفے تقریباً 4 دن کے بعد اسے الٹاتے رہیں۔

تقریباً ایک ماہ میں کمپوسٹ کا رنگ گہرا بھورا ہو جائے گا اور اس سے بو آنا بند ہو جائے گی۔

کمپوسٹ کو جراثیم سے مکمل پاک کرنے کے لیے انہیں بھاپ دی جاتی ہے۔ بھاپ پیدا کرنے کے لیے خالی ڈرم استعمال کیا جاتا ہے ڈرم میں چھ انچ تک پانی بھر دیا جاتا ہے پھر پانی کے اوپر جالی کو ایک سٹینڈ پر رکھ دیا جاتا ہے۔

کمپوسٹ کے پلاسٹک والے تھیلے ڈرم میں رکھ کر اب ڈرم کا ڈھکنا بند کر دیں تاکہ بھاپ اندر ہی رہے اور باہر نہ نکل پائے دامنے پر پریشر ککر کے اصول کے مطابق زائد بھاپ نکلنے کے لیے سیفٹی وال لگائیں۔

ڈرم کے نیچے لکڑیوں یا گیس کو جلا کر حرارت دینے سے بھاپ بنے گی عموما ایک گھنٹہ بعد دینے سے کم پوسٹ سے جراثیم پاک ہو جاتے ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کمپوسٹ بھرے لفافوں کو مشروم اگانے والے کمرے میں رکھ کر ایک گھنٹہ تک کمرہ کا درجہ حرارت بھاپ کے ذریعے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا جائے ۔

اس طرح کمپوسٹ کو کمرہ کے جراثیم سے پاک کر لیں ۔ سڑنے کے بعد کمپوسٹ میں نمی کا تناسب 70 فیصد ہو

کمپوسٹ سے امونیا کی بدبو انا بند ہو جائے تو اس کمرے کو کھول دیں تاکہ درجہ حرات 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک مینٹین رکھا جا سکے اور اب اس میں سپون ڈالیں۔

کھمبی کا بیج سپان کہلاتا ہے ۔

جب کمپوسٹ ٹھنڈی ہو جائے تو اس میں سپان ڈالا جاتا ہے جسے سپاننگ کہتے ہیں ۔

سپان ڈالنے کے دو طریقے ہیں پہلے طریقے میں سپان 7 سے 10 سینٹی میٹر اوپر والی سطح میں ملا دیا جاتا ہے ۔ جبکہ دوسرے طریقے میں سپان کمپوسٹ میں اوپر سے نیچے تک ملایا جاتا ہے ۔ سپان ڈالنے کے بعد اگر آپ ٹرے میں کاشت کررہے ہیں تو کمپوسٹ کے اوپر اخبار بچھانے کے بعد پلاسٹک سے ڈھانپ دیں ۔

کمپوسٹ میں سپان کے پھیلاؤ کو سپان رننگ کہتے ہیں ۔ سپان کمپوسٹ میں تقریبا دو سے تین ہفتوں میں پھیل جاتا ہے ۔

سپان یعنی بیج سفید ریشوں کی صورت میں پھیلتا ہے۔
آئسڑ (صدف نما کھمبی)

20 سے 25 درجہ سینٹی گریڈ پر تقریباً 20 دنوں میں کمپوسٹ مکمل سفید ہو جائے گا۔ نمی کا تناسب 65 سے 70 فیصد رکھیں۔
بٹن مشروم(یورپی کھمبی)

15 تا 20 دنوں میں بیج پھیل جانے پر کمپوسٹ کے اوپر پیٹ ماس یا مٹی اور پرالی گوبر کھاد ملا کر تہہ لگا دیں۔ تہہ سے قبل اسے بھی جراثیم سے پاک کرنا انتہائی ٖضروری ہے۔ ### پرالی کی کھمبی بیج ملانے کے دس دن بعد مومی چادر ہٹا دیں پانی چھڑک کر بیڈز کو نمدار رکھیں۔
شیٹاکی مشروم (شاہ بلوط کھمبی)

جب لفافے کی سفیدی بھورے رنگ میں تبدیل ہو جائے تو لفافوں کا منہ کھول دیں۔ یہ عمل تقریباً ایک ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔

کمپوست میں سپان کا پھیلا و مکمل ہو جائے تو اس کے اوپر مٹی کی تہہ جس میں مناسب مقدار میں نمی موجود ہوتی ہے بچھا دی جاتی ہے جسے کیسنگ کہتے ہیں۔

مٹی کے لیے بھل استعمال کرتے ہیں جس میں تقریباً 4 فیصد چونا ملا دیتے ہیں ۔ کینگ کے بعد بھی 16 سے 19 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھیں اس دوران ہوا میں کمی کی مقدار 90 سے 95فیصد ہونی چاہیے ۔ مٹی کی تہ بچھانے کے بعد اسے پلاسٹک سے ڈھانپ دیں

سفید ریشے جوکہ مائی سیلیم کہلاتے ہیں ۔ مٹی کے اوپر نظر آنے لگیں تو پلاسٹک ہٹادیں درجہ حرارت 16 سے 19 ڈگری برقرار رکھیں ۔
آئسڑ (صدف نما کھمبی)

سپان کے پھیلاؤ کے چند دن بعد فصل نکلنا شروع ہو جاتی ہے۔
بٹن مشروم(یورپی کھمبی)

مٹی کی تہہ دینے کے بعد 20 تا 25 درجہ سینٹی گریڈ پر 70 سے 80 فیصد نمی کے تناسب میں پہلی فصل 15 دن میں تیار ہو جاتی ہے۔

جب کھمبی انڈے کی شکل اختیار کر جائے تو اسے ہاتھ سے توڑ لیں۔ اس کے توڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ کھمبی کو ہاتھ سے پکڑ کر تھوڑا سا گھوما ئیں تو یہ ٹوٹ کر ہاتھ میں آجائے گی ۔

ایک بار توڑنے کے 8 سے 10 روز بعد کھمبی دوبارہ بنے گی اس طرح سے پانچ مرتبہ فصل حاصل کی جاسکتی ہے ۔ پاکستان میں کھمبی کی پیداوار 10 تا 15 کلو گرام فی مربع میٹر ہے ۔ ### پرالی کی کھمبی 15 سے 20 دن میں فصل تیار ہو جاتی ہے۔
شیٹاکی مشروم (شاہ بلوط کھمبی)

منہ کھولنے کے بعد درجہ حرارت 15 سے 20 سینٹی گریڈ اور نمی کا تناسب 60 سے 90 فیصد رکھیں۔ 15 سے 20 دن میں فصل تیار ہو جاتی ہے۔
Get in touch!


