AgriContent

Agri Content

circle
Sheep & goat

Livestock

Read about general practices related to Sheep & goat and how to prevent or cure its diseases

Livestock

wheat

Buffalo

wheat

Cow

wheat
wheat

Sheep & goat

اقتصادی اہمیت

پاکستان بھیڑبکریوں پالنےکامقصدگوشت(مٹن) کاحصول ہے۔مٹن تقریباً باقی تمام اقسام کے گوشت سے قیمت میں مہنگاہے۔مٹن کا لذیذ ذائقہ،خوشبو اورغذائیت دلفریب ہونے کی وجہ سےعوام میں پسندیدہ جانا جاتا ہے۔ قیمت کےلحاظ سےمٹن1200سے1500روپےفی کلوکےحساب سےفروخت ہورہاہے۔قربانی کی عیدپربھی ان کی مانگ اورقیمت کافی زیادہ ہوتی ہے۔

بکریوں کی نسلیں

پاکستان میں پائی جانے والی مختلف اقسام کی بکریاں اورانکی منفرد خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔

بیتل

image

اس نسل کاتعلق خصوصی طورپرپنجاب سےہے۔

پہچان اورخصوصیات

بیتل نسل سے تعلق رکھنے والی بکریوں کا جسم گتھا ہوا،رنگ چمکدار،سر درمیانہ،ابھری ہوئی ناک،درمیانے یا لمبے لٹکتے ہوئے کان،ٹانگیں لمبی اور مظبوط ،نرکے سینگ لمبےاورپیچ دارجبکہ مادہ کے چوٹے سائز کے ہوتے ہیں۔ ### **بیتل کی اقسام** رنگ،اورعلاقےکےلحاظ سےبیتل کی اقسام کی خصوصیات مندرجہ آیل میں بیان کی گئی ہیں:

ینی بیتل/مکھی چینی

image

اس کا تعلق صوبہ پنجاب کے اضلاع بہاولپور،ملتان،اوکاڑہ،ساہیوال،رحیم یار خان اور بہاول نگر سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

اسکے جسم پر سفید اور بھورے رنگ کے دھبے اسکی پہچان ہیں جسکی وجہ سے اسے چینی کہا جاتا ہے۔مختلف قسم کے رنگوں کی آمیزش کی بنا پر انہیں پِھکی چینی،رَتی چینی اور کالی چینی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

نُکری بیتل/سفید بیتل

image

اسکا آبائی وطن صوبہ پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور پر مشتمل ہےجن میں خاص طور پر تحصیل جام پور میں بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا سفید چمکدار جسم انکی خوبصورتی اور پہچان کی علامت ہے۔

گجراتی بیتل

image

جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے اس نسل کا تعلق ضلع گجرات اور اسکے گِردو نواع سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا جسم سرخی مائل اور اس پر بھورے رنگ کے دھبے پائے جاتے ہیں۔

فیصل آبادی/لیل پوری/لائل پوری

image

اس نسل کا تعلق ضلع فیصل آباد اور اس کے گِرد ونواع سے ہے۔فیصل آباد کے پرانے نام کی نسبت سے اسے لیل پوری بیتل بھی کہا جاتا ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

اسکا جسم سیاہ یاسرخ رنگ کا ہوتا ہے جس پر سفید نشانات پائے جاتے ہیں۔

امرتسری/نگری/ناگری

image

اس نسل کا تعلق بنیادی طور پر بھارت کے ضلع امرتسر سے ہے لیکن پاکستان کے اضلاع لاہور،ساہیوال،اوکاڑہ اور بہاول نگر میں بھی پائی جاتی ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

اسکا رنگ گہرا سرخی مائل یا بھورا ہو تا ہے جبکہ کبی کبھار ٹانگوں یا جسم کے کسی حصے پر سیاہ یا سفید تھوڑے بہت نشان دیکھنے میں آتے ہیں۔

پوٹھوہاری

image

سطح مرتفع پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے کچھ اضلاع میں پائی جانے والی بیتل کو پوٹھوہاری بیتل کہا جاتا ہے۔

پہچان اورخصویات

image

اسکا جسمانی رنگ گہرا بھورا یا سرخ ہوتا ہےجس پر ہلکے زرد یا بھورے رنگ کے دھبے پائے جاتے ہیں۔اسے بعض علاقوں میں شیرا بھی کہا جاتا ہے۔

بیتل رحیم یارخان

image

اس کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یارخان سے ہے لیکن تقریباً تمام پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

گہرا سیاہ رنگ اس کی پہچان میں شامل ہے جبکہ کبھی کبھارسفید رنگ کے تھوڑے بہت دھبے بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔

ناچی

image

اس نسل کی بکریوں کا تعلق صوبہ پنجاب کے اضلاع بہاولپور،چشتیاں،ملتان،لیہ،مظفرگڑھ،جھنگ اور بہاول نگر سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

اس نسل کو ناچی کے نام سےاس لئےجاناجاتاکیونکہ جب یہ چلتی ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے رقص کر رہی ہوں۔انکا شمار درمیانی جسامت کے جانوروں میں ہوتا ہے۔جسم گُتھا ہوا،رنگ عمومی طور پر سیاہ یا سیاہ پر سفید دھبوں کاآمیزہ ہو سکتا ہے۔درمیانے سر کے ساتھ مخروطی مڑے ہوئے سینگ،درمیانے کان،تھوڑی بہت ابھری ہوئی ناک اسکی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں

دائرہ دین پناہ

image

اس نسل کا آبائی وطن صوبہ پنجاب کے اضلاع لیہ اورمظفرگڑھ ہے۔اس نسل کانام ضلع مظفر گڑھ کے ایک قصبے دائرہ دین پناہ پر رکھا گیا ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

مضبوط جسم،لبمے بالوں سے بھراہوا،قد لمبا،سر بڑے سائز کا،ناک ابھری ہوئی، لمبے اور دو سے تین پیچ وخم کھاتے ہوئےسینگ اور تھن اور حیوانہ بڑا اور بھاری ہوتا ہے۔اسکا اوسطاً جسمانی وزن 45 سے 50 کلو گرام تک ہوسکتا ہے۔انکی روزانہ دودھ کی اوسطاً پیداوار 2 لیٹر تک ہے جبکہ کچھ اچھے معیار کی بکریاں5 سے 6 لیٹر تک دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ٹیڈی

image

اس نسل کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع گجرات،جہلم،راولپنڈی ،سرگودھا اور آزاد کشمیر کے کچھ حصے سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ بھورا،سفید اور مٹیالہ یا ان سب کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے۔انکا شمار چھوٹے سائز کے جانوروں میں ہوتا ہے۔سر چھوٹا،چھوٹے کھڑے ہوئے کان،تھوڑی سی ابھری ہوئی ناک،حیوانے کا سائز درمیانہ اور تھن مخروطی اور چھوٹے بلدار سینگ اس نسل کی خصوصیات ہیں۔یہ عمومی طور پر 6 سے 8 ماہ میں بالغ ہو جاتی ہیں۔نر کا اوسطاًوزن30 سے 35 کلو گرام اور مادہ کا 20 سے 25 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔

پوٹھوواری/پوٹھوہاری

image

اس نسل کا تعلق سطح مرتفع پوٹھوہار کے علاقے سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ سفید،سیاہ اورسرمئی یا ان کا آمیزہ بھی ہو سکتا ہے۔درمیانہ سر،ٹھوڑی پر لمبے بال،نر کے سینگ پتلے اور پیچ کھائے ہوئےاور پتلی اور کمزور ٹانگیں انکی خصوصیات ہیں۔اس نسل کا اوسطاً جسمانی وزن25 سے 30 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی دودھ کی پیداوار150 دنوں میں110 لیٹر تک ہو سکتی ہے۔

جتن

image

اس نسل کا تعلق صوبہ سندھ کےاضلاع میرپور خاص اور تھر کے ریگستان اور بھارت کے ساتھ سرحدی علاقے سےہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ ہلکا زرد،سرخی مائل،سیاہ اور گردن کے گِردسیاہ دائرہ دیکھا جا سکتا ہے۔درمیانہ سر،چھوٹے سائز کے لٹکے ہوئےکان،پتلی لمبی ٹانگیں اور درمیانے سائز کاحیوانہ اس نسل کی خصوصیات ہیں۔انکا اوسطاً وزن 40 سے 50 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔اونٹ پالنے والے قبیلے جس کا نام جت ہے اسی نسبت سےانکا نام جتن مشہور ہو گیا۔انکے دودھ کی پیداوار130 دنوں میں 225 لیٹر تک ہو سکتی ہے۔

کاموری

image

یہ نسل تقریباً پورے سندھ میں پائی جاتی ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ گہرا یا ہلکابھورا جس پر سیاہ دھبےموجود ہوتے ہیں۔انکا شمار درمیانی اور بڑی قدوقامت کی بکریوں میں ہوتا ہے۔بڑی چست اور مضبوط جسامت،ابھری ہوئی ناک،لمبے لٹکے ہوئے کان،چھوٹی دم،درمیانے سائز کا حیوانہ اس نسل کے خواص میں شامل ہیں۔انکا اوسطاً وزن 40 سے 50 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی دودھ کی پیداوار115 دنوں میں225 لیٹر تک ہو سکتی ہے

پٹیری

image

اس نسل کا تعلق صوبہ سندھ کے اضلاع حیدرآباد،سانگھڑ،نواب شاہ اورخیرپور سے ہے

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ سفید جس کے ساتھ سر اور گردن کا رنگ سرخی مائل بھورا ہوتا ہے۔یہ بڑی جسامت کی بکریوں ہیں۔لمبے لٹکتے کان،درمیانے نوکدار سینگ،درمیانی مضبوط ٹانگیں اوربڑے سائز کا حیوانہ اس نسل کی خصوصیات ہیں۔انکا جسمانی وزن اوسطاً 40 سے 50 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکے دودھ کی پیداوار120دنوں میں 170 لیٹر تک ہو سکتی ہے

دامانی/دامنی

image

اس نسل کا آبائی گھر صوبہ خیبرپختونخواہ کے اضلاع بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ سیاہ،سرخی مائل جس کےساتھ ہلکا زردرنگ کاسر اورٹانگوں کے گرد پایا جاتا ہے۔درمیانے سائز کے کان اورسر،لمبے بل کھائے ہوئے نوکدار سینگ،چھوٹی دُم اور حیوانے کا سائز درمیانہ اور مضبوط اس نسل کے خواص میں شامل ہیں۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 25 سے 30 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔

کاغانی

image

اس نسل کا تعلق وادی کاغان سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ سیاہ،سفید،سرمئی اور بھورا پایا جاتا ہے۔انکا شمار درمیانےسائز کی بکریوں میں ہوتا ہے۔جسم پر گھنے اور لمبے بال،موٹے بل کھائے پیچھےمڑےہوئے سینگ اور چھوٹے سائز کا حیوانہ اس نسل کی خصوصیات ہیں۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 35 سے 40 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔ان سے سالانہ 2 کلو گرام تک بال حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

بھیڑوں کی نسلیں

پاکستان میں پائی جانے والی مختلف اقسام کی بھیڑیں اورانکی منفرد خصوصیات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔

لوہی

image
image

اس نسل کے جانور زیادہ تر فیصل آباد،لاہور،اوکاڑہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،شیخوپورہ،جھنگ،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،سرگودھا،ملتان،ساہیوال اور وہاڑی کے اضلاع میں پائے جاتے ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا قد بڑا،سفید رنگ،سر کا رنگ سفید،لٹکتے ہوئے کان،ناپید سینگ،شانے گوشت سے بھرے ہوئے،چھوٹی سی دم کے ساتھ بعض اوقات انکے کانوں کے اوپرایک بھر ہوا کان ہوتا ہے۔اسی وجہ سے انہیں پرکَنی بھی کہا جاتا ہے۔انکا اوسطاً وزن 30 سے 40 کلو گرام اور اُون کی سالانہ پیداوار 1.5سے2 کلوگرام تک ہو سکتی ہے۔

تھلی

image

اس نسل کی بھیڑوں کا تعلق میانوالی،خوشاب،بھکر،مظفرگڑھ اور جھنگ کے ریگستانی علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

جسم کا رنگ سفید،سیاہ رنگ کا سر،لٹکتے ہوئے سیاہ رنگ کے کان ،کشادہ پیشانی کے ساتھ پتلی دم اس نسل کی پہچان ہے۔خوشاب اور بھکر میں پائے جانے والی تھلی بھیڑوں کا قد اور جسمانی وزن مقابلتاً زیادہ ہوتا ہے۔اسکا اوسطاً جسمانی وزن 35 سے 45 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی اُون کی پیداوار سالانہ پیداوار 1.5سے2 کلو گرام تک ہو سکتی ہے۔

کَجلی

image

اس نسل کا آبائی وطن سرگودھا کی تحصیل شاہپور اور بھلوال کے علاقے شامل ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

یہ نسل اپنے قد اور خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔سفید رنگ،ابھری اور اٹھی ہوئی ناک،سیاہ تھوتھنی،چھوٹی آنکھوں کے گِرد ساہ حلقے اور لمبے لٹکتے ہوئے کان جن کی نوکیں سیاہ رنگ کی ہوتی ہیں اس نسل کی خصوصیات ہیں۔سینگ نا پید ،لمبی اور پتلی ٹانگیں اسکی خصوصیات کا حصہ ہیں۔انکا اوسطاً وزن 45 کلو گرام اور اُون کی سالانہ پیداوار 2 سے 2.5کلو گرام تک ہو سکتی ہے۔

مُندری

image

اس نسل کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

یہ نسل اپنے قد اور خوبصورتی کی بنا پر مشہور ہے۔جسم کا رنگ سفید،ابھری ہوئی ناک،چھوٹی سفید آنکھیں یا ان کے گِرد سیاہ حلقے،سینگ ناپید،پتلی دُم اور ٹانگیں اس نسل کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔چھوٹے کانوں کی وجہ سے اسے مُندری کہا جاتا ہے۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 45 سے 50 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی سالانہ اُون کی پیداوار 2 سے 2.5کلو گرام تک ہو سکتی ہے

کوکا

image

اس نسل کا تعلق صوبہ سندھ کے اضلاع نوشیروفیروز،نواب شاہ،لاڑکانہ،سکھر اور خیر پور سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکامکمل جسم سفید ہو تا ہے لیکن بعض اوقات سر اور گردن پر سیاہ دھبے پائے جاتے ہیں۔لمبے اور ڈھلکے ہو ئے کان،بڑی ابھری ہوئی ناک،چھوٹی دُم اوردرمیانے سائز کا حیوانہ اس نسل کے خواص میں شامل ہیں۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 30 سے 45 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی دودھ کی پیداوار100 دنوں میں روزانہ 0.7لیٹر تک ہو سکتی ہے۔

لَٹی/سالٹ رینج /پوٹھوہاری

image

اس نسل کا تعلق نیم پہاڑی جن میں زیادہ تر سطح مرتفع پوٹھوہار کے اضلاع چکوال،جہلم،اٹک،راولپنڈی،میانوالی اور سرگودھا شامل ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

قد درمیانہ،رنگ سفید،خم دار کمر اور چکی یا دُمب درمیانے سائز کا جو گھٹنوں تک لٹکا ہوا اس نسل کی خصوصیات میں شامل ہیں۔انکا اوسطاًجسمانی وزن35 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔انکی اُون کی اوسطاًسالانہ پیداوار 1 سے 1.5کلو گرام تک ہوسکتی ہے۔

دُمبی

image

اس نسل کے آبائی علاقےضلع دادو،کراچی،لاڑکانہ،ٹھٹھہ،جیکب آباد اور سِبی کےپہاڑی حصے شامل ہیں۔

پہچان اورخصوصیات

image

سفید رنگ،سیاہ چہرہ،آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور سر پر سیاہ دھبے ،چھوٹے کان ،چوڑا ماتھا،نوکیلی تھوتھنی ،چکی یا دُمب چھوٹی لٹکتی ہوئی اسکے نمایاں خواص میں شامل ہیں۔ یہ اسکی یہ نسل چھوٹے سے درمیانے سائز کی بھیڑوں میں شمار ہوتی ہیں۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 30 سے 40 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔انکی اوسطاً سالانہ اُون 1.5کلو گرام تک حاصل کی جاسکتی ہے۔

بلخی

image

اس نسل کا تعلق پشاور،کوہاٹ ،ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے اضلاع سے ہے۔

پہچان اورخصوصیات

image

انکا رنگ کالا،بھورا،سرمئی یا ان رنگوں کے ملاپ پر مشتمل ہے۔بڑا سر،لمبی ناک،تکونی تھوتھنی،لمبے بل کھاتے سینگ،درمیانے کان اور چست چوڑےاسکے نمایاں خواص ہیں۔انکا اوسطاً جسمانی وزن 55 سے 70 کلو گرام تک ہو سکتا ہے ۔انکی اوسطاً سالانہ اُون 1.5کلو گرام تک حاصل کی جاسکتی ہے۔

بیماریاں

image

بھیڑوں اوربکریوں کومختلف اقسام کی بیماریاں متاثرکرتی ہیں جن میں اہم بیماریوں کی معلومات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔

انتڑیوں کا زہریابخار (انٹیرو ٹاکسیمیا)

image

اس بیماری کی وجہ ایک بیکٹریا ہے جس کا نام کلاسٹریڈیم پرفرنجن ٹائپ ڈی ہے۔ زیادہ مقدار میں دانے کھانے کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ پیش آ سکتا ہے۔بعض اوقات بیماری بہت جلدی پھیلتی ہے اور علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی جانور مر جاتا ہے۔

علامات

image

شدید بخار، لڑکڑاہٹ، جبڑوں کا چبانا، بعض اوقات اپھارہ شدید حالت میں سر جھٹکنا، لرزہ اور تشنج کے دورے ، بڑے جانور وں کی نسبت اگر چھوٹے بچے اس بیماری کا شکار ہوجائیں تو 24 گھنٹوں کے اندراندر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

علاج

image

اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے لیکن علامات ظاہر ہونے کے بعدوسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس جیساکہ پینی سیلین یالنکومائیسین اور بخار سے بچاؤکیلئےفلونگزن کےٹیکےلگائیں۔کلورومائی سیٹین پاؤڈر 20 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے کم از کم دو تین ہفتے کھلانے سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

بچاؤ

image

اس بیماری سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ سال میں دو دفعہ جنوری اور جولائی میں لگوائیں۔

متعدی نمونیا/متعدی زکام

image

یہ بیماری ایک بیکٹریاکے ذریعے پھیلتی ہے جس کا نام مائیکو پلازماکیپری کولم ہے۔بنیادی طور پر اسکا پھیلاؤ ہوا کے ذریعے ہوتا ہے۔اس بیماری کے پھیلاؤ کی شرح100 فیصد اور اموات کی شرح60 سے 100 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

علامات

image

جانور کا جسم کو سمیٹ کر بیٹھنا، سانس لینے میں سخت دشواری، سانس لینے کے دوران چیخ کا نکلنا، جانور کا تیز ی سےکھانسنا ، کمزور ہو جانا،کھانسی،ناک اور منہ سے ریشے کا اخراج اورتیز بخاراس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔

علاج

image

علامات ظاہرہونےپر تین سے پانچ دن تک آکسی ٹیٹرا سائیکلین اور ٹائیلو سین کےساتھ کیٹوپروفن اورفنرامین میلیٹ لگاتاراستعمال کریں۔

بچاؤ

image

بچاؤ کے لئےسال میں دو بار مئی اور نومبر میں حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔

بکریوں کاچیچک/گوٹ پاکس

image

اس بیماری کی وجہ پاکس وائرس ہےجسے کیپری پاکس وائرس بھی کہتے ہیں۔یہ بیماری متاثرہ جانور سے دوسرے جانوروں میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

علامات

image

تیز بخار، آنکھوں پر ورم، جسم پر چیچک کے دانے جو بغیر بالوں والے حصوں پر زیادہ ہوتے ہیں۔ شدید بیماری کی صورت میں دانے اندرونی اعضاء تک پھیل جاتے ہیں۔ جس سے جانور سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔اس بیماری سے متاثرہ جانورکی شرح اموات5سے7فیصدتک دیکھی گئی ہے۔

علاج

image

زخموں پر بورک ایسڈ کا مرہم لگائیں اور بخار کی صورت میں بنزائیل پنسلین 10 لاکھ یونٹ یا کمبائیٹک ایک گرام کا ٹیکہ روزانہ 4 سے 6 دن تک لگوائیں۔متاثرہ بھیڑ یابکری کےبچوں کو تھنوں سے دودھ نہ پلائیں۔

بچاؤ

image

جانوروں کوسال میں دو دفعہ مارچ اور ستمبر میں حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔

منہ پکنا/کنٹیجیئس ایکتھیما

image

یہ بیماری ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے جس کا نام پیرا پوکس وائرس ہے۔یہ وائرس بھیڑ اور بکریوں کے چھوٹے اور بڑے بچوں کو سارا سال متاثر کرتا رہتا ہے۔

علامات

image

اس بیماری میں بھیڑ بکریوں کے ہونٹوں ،زبان،کُھروں کے درمیان،حیوانے اور تھنوں پر سخت کھرنڈ اور زخم بن جاتے ہیں۔تقریباً 1 سے 4 ہفتوں کے درمیان کھرنڈ ٹوٹ کر خود نیچے گِر جاتے ہیں اور زخم ٹھیک ہو جاتا ہےلیکن منہ اور ہونٹوں پر زخم ہونے کی وجہ سےجانور کا کھانا پینا کم ہوجاتا ہے اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔

علاج

image

اس بیماری کی وجہ ایک وائرس ہے اس لئے اس کا کوئی مستند علاج نہیں ہے لیکن بیماری کو مزید بڑھنے اور دوسرے بیکٹریا کے حملے سے بچاؤ کے لئے وسیع الا ثر اینٹی بائیوٹکس جیسا کہ اینروفلاکساسین یاپینی سیلین کےساتھ میپرامین میلئیٹ کاانجکشن3دن تک لگائیں۔زخموں اور کھرنڈوں پر کوئی بھی ہائیڈروزول یاکیناڈیکس کریم لگائیں۔منہ میں موجود زخموں کے لئے پوٹاشیم پر میگنیٹ کا محلول بنا کے لگائیں۔

بچاؤ

بچاؤ کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھیں متاثرہ جانوروں کو علیحدہ رکھیں۔

کاٹا (پی پی آر)

image

یہ بیماری ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے جس کا نام موربلی وائرس ہے۔بھیڑ بکریوں میں بیماری کے پھیلاؤ کی شرح100فیصد اور اموات کی شرح 90 فیصدتک ہے۔یہ بیماری بھیڑبکریوں میں اموات کی بہت بڑی وجہ ہے

علامات

image

تیز بخار،منہ اور ناک سے بلغم اور ریشے کا اخراج،بھوک میں کمی،کمزوری،پانی کی طرح پتلے دست،سانس لینے میں دشواری اور اچانک موت کا شکار ہو جانا اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔یہ بیماری متاثرہ جانور سے صحت مند جانوروں میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔

علاج

image

یہ بیماری ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے لہٰذا اسکا کوئی علاج نہیں ہےلیکن اگر علامات ظاہرہوں تووسیع الا ثر اینٹی بائیوٹکس جیساکہ جینٹامائی سین یااینروفلاکساسین اور بخار کم کرنےلئےپائیروکسی کیم کےٹیکےلگائیں۔منہ میں چھالوں یا زخموں پر سوموجیل لگائیں اوراگر کھروں میں زخم ہوں توپولی فیکس آئنٹمنٹ لگائیں۔

بچاؤ

image

بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات بروقت لگوائیں۔

منہ کھر

image

اس بیماری کا سبب ایک وائرس ہے جس کا نام ایپتھو وائرس ہے۔یہ بیماری گائے ،بھینس،بھیڑ اور بکری کو متاثر کر سکتی ہے۔

علامات

image

تیز بخار، پیداوار میں کمی، منہ اور کُھروں پر چھالوں کا بننا، منہ سے لیس دار رالیں ٹپکنا، جانور کا لنگڑا کا چلنا، وزن میں کمی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔منہ میں چھالوں کی وجہ سے متاثرہ جانور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہےاور کھروں میں زخموں کی وجہ سے اس کا چلنا پھِرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔

علاج

image

چونکہ اس بیماری کا سبب ایک وائرس ہے اس لئے اس کا علاج ممکن نہیں البتہ بیماری کی شدت اورمزیدبڑھنےسےبچاؤکیلئے وسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس (موکسی فلاکساسین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین میں سےکوئی ایک استعمال کریں ۔ اس کے علاوہ بخار کو کم کرنے والی ادویات (کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم میں سےبھی کوئی ایک استعمال کریں ۔ جانور کو نرم غذا دیں۔

بچاؤ

image

بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں اور متاثرہ جانوروں کو باقی ماندہ صحت مند جانوروں سے الگ رکھیں۔

پھیری کابخاریاِلسٹیریورسس

image

اس بیماری کا سبب لیسٹریا مونو سائیٹو جینیز (Listeria monocytogenes) ہے جو کہ ایک بیکٹیریاہے۔

علامات

image

اس بیماری میں جانور کو بخار ہو جاتا ہے اس اسکی گردن مڑ جاتی ہے۔ جانور دائرے میں گھومتا ہے، منہ کا فالج ہو جاتا ہے اور کان گر جاتے ہیں۔ جانور کھانا پینا کم کر دیتا ہے اور اس کے منہ سے رالیں ٹپکتی ہیں۔ حاملہ جانور اسقاتِ حمل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ یہ بیماری متاثرہ جانور سے صحت مند جانور تک منہ سے نکلنے والے مادے اور فضلے کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے ۔آلودہ اور غیر معیاری سائیلج بھی اس بیماری کو منتقل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔اگر بیماری کی شدت بڑھ جائے تو 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران موت واقع ہو سکتا ہے۔

علاج

image

اس بیماری کا علاج وسیع الاثراینٹی بائیوٹیکس جیساکہ اینروفلاکساسین یاارتھرومائی سین لگائیں۔شدید حالت میں ڈیکسامیتھاسون کےساتھ ساتھ نیوروبائیون کےٹیکےلگائیں۔

بچاؤ

خراب اور غیر معیا ری سا ئیلج جانوروں کو کھلانے سے گریز کریں۔یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہےلہٰذا اس بیماری کی علامات اگر کسی بھی جانور میں ظاہر ہوں تو خاص طور پر احتیاط کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

حیوانے کی سوزش /ساڑو/منہ سڑی

image

حیوانے اور تھنوں کی سوزش کو میسٹائٹس کہتے ہیں۔ یہ دودھ دینے والے جانوروں کی ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو کہ بڑے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسے عام زبان میں ساڑو یا منہ سڑی بھی کہا جاتا ہے۔

اسباب/وجوہات

حیوانے کی سوزش متعدی اور غیر متعدی دونوں وجوہات سے ہوتی ہے۔ غیر متعدی وجوہات میں چوٹ لگنا، دودھ نکالنے کا غلط طریقہ، بچھڑے کا تھن کو نقصان پہنچانا وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ متعدی وجوہات میں بیکٹیریا ، وائرس اور فنجائی شامل ہیں۔

علامات

image

### مخفی ساڑو اس مرحلہ پر حیوانے کی سوزش کا باعث بننے والے خوردبینی جاندار حیوانے اور دودھ میں موجود تو ہوتےہیں مگر حیوانے یا دودھ میں کسی بھی قسم کی علامات ظا ہر نہیں ہوتی۔جانور مخفی طور پر ساڑو کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ ### ظاہری ساڑو اس قسم میں جانور شدت کے لحاظ سے چار مختلف قسم کی علامات ظاہر کرتا ہے۔ان چاراقسام میں انتہائی شدیدحالت،شدیدحالت،کم شدیدحالت اوردیرینہ حالت شامل ہیں۔

تشخیص

image

مخفی ساڑو کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سَرف فیلڈ میسٹائیٹس ٹیسٹ ہے جو کہ فارم یا گھر میں آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ انتہائی سستاہے۔ اس ٹیسٹ میں عام گھروں میں استعمال ہونے والے سرف کا 3فیصد محلول تیار کیا جات ہے (آدھے لیٹر پانی میں چھ چمچ سرف کی ملائیں)۔ پھرپلاسٹک کا ایک پیڈل جو کہ چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے استعمال کر سکتے ہیں یا دو گلاسوں میںدو تھنوں کا 2.3 ملی لیٹر دودھ لیتے ہیں اور اتنی ہی مقدار میں 3فیصد سرف کا محلول ڈال کر ہلاتے ہیں اگر اس میں پھُٹکیاں یا جیل نما گاڑھا مادہ بن جائے تو اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکا جانور مخفی ساڑو کا شکار ہے

علاج

image

سوزش /سوجن سے بچاؤکیٹوپروفن،فلونگزن،میلوکسی کیم یاپائریکسی کیم اور وسیع الاثر اینٹی بائیوٹک جیسا کہ جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یاموکسی فلاکساسین میں سے کوئی ایک استعمال کریں۔دوائی ٹیکوں کی شکل میں گوشت میں لگوائیں اور ٹیوب ٹیٹراڈیلٹا،کلاگزیم-ایل سی یامیسٹی گون میں سےکوئی ایک متاثرہ تھن میں دوائی چڑھائیں ۔اگر جانور حاملہ ہو تو کوئی بھی ہومیو پیتھک دوائی(میسٹائٹوپلس،علاج یافائبروفٹ ڈی ایس استعمال کریں۔

بچاؤ

image

- دودھ دوہنے سے پہلے جانور کے حیوانے اور ٹانگوں کو صاف اور نیم گرم پانی سے سے دھو کرصاف کپڑے یا ٹِشو پیپرسے اچھی طرح خشک کریں۔ - دودھ دوہنے کے فوراً بعد جانوروں کو تقریباً آدھے گھنٹے تک بیٹھنے نہ دیں کیونکہ اس وقت تھن کی نالی کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور جراثیم ان مساموں کے ذریعے تھنوں میں داخل ہو کر حیوانے کی سوزش یا ساڑو کا باعث بن سکتے ہیں۔ - بکریوں اوربھیڑوں کوتھنوں پرکپڑاچڑھائیں

آنکھوں کا گلابی پن/پِنک آئی

image

اس بیماری کا سبب ایک بیکٹریا ہے جس کا نام مائیکو بیکٹریم ہے۔یہ بیماری اس وقت شدت اختیار کر لیتی ہے جب فارم پر نئے جانور خرید کر لائے جائیں یا انہیں لمبے سفر پر لے جایا جائے۔

علامات

image

آنکھوں سے پانی،سوجن،رنگ گُلابی،دھندلا پن،پیلی یا سبز رنگ کی پیپ کا اخراج اورزخم بن جانا اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔کبھی کبھار یہ بیماری عارضی طور پر اندھے پن کا باعث بھی بن سکتی ہے جبکہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تومتاثرہ جانور مستقل اندھے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

علاج

image

متاثرہ جانور کو علیحدہ کر دیں۔آنکھوں کو نارمل سیلائین سے دھویں۔دن میں 3مرتبہ آنکھوں میں ٹوبرامائی سین کےقطرےڈالیں اورفنرامین میلئیٹ کاٹیکہ لگائیں۔

بچاؤ

بچاؤ کے لئے نئے خریدے گئے جانوروں کو علیحدہ رکھیں۔صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

کُھروں کی گلنا سڑنا/فٹ راٹ

image

یہ بھیڑ اور بکریوں کی متعدی بیماری ہے جس کی وجہ سے ان کے کُھر گلنا سڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس بیماری کا سبب بیکٹریا ہیں جن کا نام ڈکلو بیکٹر نوڈوسس اورفیوزوبیکٹریم نیکروفورم ہیں۔اس بیماری کا پھیلاؤ جانوروں کے گوبر ،پانی اور مٹی کے ذریعے ہوتا ہے۔

علامات

image

کُھروں کی سوجن،گلنا سڑنا،لگڑانا،چلنے پھرنے میں دشواری،کُھروں سے ناخوشگوار بدبو کا آنا اور بھوک میں کمی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔متاثرہ جانوروں کے دودھ کی پیداوار میں کمی بھی دیکھنے میں آتی ہے۔

علاج

image

متاثرہ جانوروں کو علیحدہ کریں۔کُھروں کو زنک سلفیٹ اور کاپر سلفیٹ کا 16فیصد محلول بنا کر ڈبویں اور دھویں۔پینی سیلین یاجینٹامائی سین کےساتھ کیٹوپروفن کےٹیکےلگائیں۔

بچاؤ

بچاؤ کے لئےکُھروں کی صفائی اور تراش خراش وقتاً فوقتاً کرتے رہیں۔نئے خریدے گئے جانوروں کو 2 سے 3 ہفتوں کے لئےلازمی علیحدہ رکھیں۔

جسم پر پیپ بھرے پھوڑوں کا نکلنا/کیزیس لمف ایڈینائٹس

image

اس بیماری کا سبب ایک بیکٹریا ہے جس کا نام کورائینی بیکٹریم سوڈو ٹیوبرکلوسس ہے۔

علامات

image

جسم پر گُلابی رنگ کےپیپ (پیلے یا سبز رنگ کی پیپ) بھرے پھوڑے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔پھوڑے عموماً گول ہوتے ہیں جو شروع میں نرم ہوتے ہیں جو بعد میں سخت ہو جاتے ہیں۔

علاج

image

پھوڑے کو کٹ لگا کر پیپ نکالیں اور اسے پائیوڈین سے صاف کریں۔اموکسی سیلین یاجینٹامائی سین کےساتھ میپرامین میلئیٹ کےٹیکےلگائیں۔

بچاؤ

بچاؤ کے لئے ایسے جانور نہ خریدیں جن کے جسم پر کوئی پھوڑا نہ ہو۔جن جانوروں کو پھوڑے نکلنا شروع ہو جائیں تو انہیں علیحدہ کریں اور علاج شروع کر دیں۔مسلسل علاج کے باوجود جو جانور تندرست نہ ہو رہے ہوں انہیں فارم پر نہ رکھیں۔

گھٹنوں کی سوجن/کیپرائین آرتھرائٹس اینسیفلائیٹس

image

اس بیماری کا سبب ایک وائرس ہے جس کا نام لینٹی وائرس ہے۔متاثرہ بھیڑ اور بکریاں اس وائرس کو دودھ کے ذریعے بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔زخم سے نکلنے والا خون بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

علامات

image

جوڑوں کی سوجن جس میں خاص طور پر گھٹنوں کی سوجن،ساڑو اور پھیپھڑوں کی سوجن اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔

علاج

image

موکسی فلاکساسین یااینروفلاکساسین کےساتھ فلونگزن کےٹیکےلگائیں۔گھٹنوں میں ڈیکسامیتھاسون کاٹکیہ لگائیں۔

بچاؤ

جن جانوروں کو گھٹنوں کی سوجن کامسئلہ بار بار ہو انہیں فارم پر نہ رکھیں۔

بوٹولزم

image

اس بیماری کا سبب ایک بیکٹریا ہے جس کا نام کلاسٹریڈیم بوٹالائنم ہے۔فاسفورس کی کمی کی وجہ سے بھی اس بیماری کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

علامات

image

بھوک میں کمی،گردن کا ایک طرف مڑجانا،مڑی ہوئی گردن کے ساتھ جانور کی زبان کا باہر نکلا ہونا،منہ سے ریشے اور بلغم کا اخراج،بغیر خوراک کے جبڑوں کو زور زور سے رگڑنا،سستی،سانس لینے میں دُشواری اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔

علاج

image

خوراک میں منرل مکسچر ملاکرکھلائیں اوروسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس جیساکہ اینروفلاکساسین یاجینٹامائی سین اور سوجن کیلئےپائروکسی کیم کےٹیکےلگائیں۔

بچاؤ

image

خوراک میں منرل مکسچر کا استعمال بیماری سے بچاؤ کا باعث ہے۔

اپھارہ/بلوٹ/ٹمپنی

image

اپھارہ جانوروں کی غیر متعدی بیماریوں میں شامل ہے ۔اگرجانور زرعی اجناس ضرورت سے زیادہ کھالے اورفوراً پانی پی لے تو اس سےپیٹ میں گیس جمع ہو جاتی ہے جس وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے۔بعض اوقات تازہ اورسرسبزبرسیم اورلوسرن کھانے سے بھی یہ مسئلہ پیش آسکتاہے۔

علامات

image

اس بیماری میں جانور کے معدے میں گیس جمع ہو جاتی ہے۔ اگر اس کا برقت علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اس بیماری میں جانور کے پیٹ کے بائیں جانب واضح ابھار نظر آتا ہے۔ جانور کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ بار بار پیشاب اور گوبر کرتا ہے۔اگر بر وقت علاج نہ کیاجائے تو جانور کی کچھ گھنٹوں یا شدید حالت میں منِٹوں میں جانور کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

علاج

image

اس بیماری کے علاج کے لئے جانور کو بلوٹرل یامیڈی اوورل پلائیں اورساتھ ساتھ میگنیشیم سلفیٹ اورسوڈابائی کارب یکساں مقدارمیں پانی میں ملاکرپلائیں۔ شدید حالت میں معدے میں کسی نوک دار سلاخ کی مدد سے سوراخ کر کے ہوا نکالی جاتی ہے۔یادرکھیں اس بیماری کاعلاج اگروقت پر نہ کیا جائےتومتاثرہ جانورموت کاشکارہوسکتاہے۔

بچاؤ

اگر جانور دانے ،دلیہ یا کوئی بھی آمیزہ کھائے تو اسے فوراً پانی پینے کے لئے نہ دیا جائے۔کچی حالت میں سبز چارہ جانور وں کو تازہ کھلانے سے گریز کریں ہو سکے تو چارہ کاٹ کر کسی بھی ہموار جگہ پر بکھیر کر ڈال دیں جہاں مذکورہ چارہ 4 سے 5 گھنٹے پڑا رہے جسے کترکر بعد میں کِھلایا جائے۔

رہائش کی ضرورت

image

بھیڑوں اوربکریوں کیلئےرہائش کی ضرورت کےحوالےسے اوپرٹیبل میں ہدایات دی گئی ہیں۔

گھریلورہائش

image

اس نظام کے تحت محدود تعداد میں جانور گھروں میں پالے جاتے ہیں۔

تعمیر

گھریلوسطح پرایک مناسب سائزکاکچہ یاپکاکمرہ تیارکیاجاتاہےجہاں بھیڑبکریاں پالنےکیلئےرکھی جاتی ہیں۔اسی کمرےمیں خوراک پانی مہیاکیاجاتاہے۔

باڑے کا نظام

image

اس نظام کےتحت بھیڑبکریوں کیلئےایک باڑہ تعمیر کیاجاتاہے۔

تعمیر

image

اس نظام میں بھیڑبکریوں کیلئےکمرےبنائےجاتےہیں جن کےساتھ کُھلی جگہ ہوتی ہےجہاں خوراک کی کھرلیاں اورپانی پلانےکااتنظام کیاجاتاہے۔

شیڈ

image

اس نظام کےتحت بھیڑبکریوں کی رہائش کیلئےشیڈبنایا جاتاہےجس میں ایک حصہ چھتاہوااوردوسراکھلاہوتاہے۔

تعمیر

image

شیڈ کی تعمیرکیلئےضروری ہدایات اوپرٹیبل میں دی گئی ہیں۔

جدیدیاماڈرن نظام

image

یہ نظام بھیڑبکریوں کی رہائش کےتمام تقاضوں کوپوراکرتاجسےجدیدطرزپرتعمیرکیاجاتاہے۔

تعمیر

image

جدیدرہائش کےنظام کیلئےلوہےیاسیمنٹ اوراینٹوں سےشیڈتعمیرکیاجاتاہے۔اس شیڈ میں عمرکےلحاظ سےبھیڑبکریوں کوعلیحدہ حصوں میں رکھاجاتاہےاوردرمیان یاسائیڈپرخوراک کی جگہ ہوتی ہےجہاں خوراک اورپانی مہیاکیاجاتاہے۔

خوراک

image

بھیڑ وں اوربکریوں کی خوراک کوبنیادی طور پردو حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔

روائیتی خوراک

image

روائیتی خوراک میں ان چیزوں کا شمار ہوتا ہے جوجانورکودستیابی کی بنیاد پرکھلائی جاتی ہیں جبکہ جانور کی بنیادی جسمانی ضرورت کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔روائیتی خوراک کیلئےجانوروں کوزیادہ تر چراگاہوں اورجنگلوں میں چرایا جاتا ہے جہاں انہیں کھانے کیلئے جو بھی جیسی بھی خوراک کھانے کو ملتی ہے کھا کر گزاراکرلیتی ہیں۔

1۔روائیتی خوراک کےذرائع

image

روائیتی خوراک میں شامل خودرو گھاس،جھاڑیاں اوردرختوں کے پتے شامل ہیں۔

2۔روائیتی خوراک کےذرائع

image

روائیتی خوراک میں دوسرے نمبر پر خود سے کاشت کئے ہوئےچارہ جات شامل ہیں۔ان چارہ جات میں برسیم،لوسرن،باجرہ،مکئی،جنتر،رھوڈگراس اورنیپئرگراس وغیرہ شامل ہیں۔

3.۔روائیتی خوراک کےذرائع

image

روائیتی خوراک میں تیسرے نمبر پرونڈا/فیڈ آتا ہے۔ ونڈا جانوروں کی جسمانی ضرورت کومدِنظررکھتے ہوئےبنایا جاتاہے۔یہ مندرجہ بالا دونوں خوراک کے ذرائع سےمہنگا تصورکیا جاتا ہےجبکہ جانوروں کی پیداوارمیں خاطر خواہ بہتری بھی ونڈے کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔

غیر روائیتی خوراک

image

بھیڑوں اور بکریوں کی غیرروائیتی خوراک میں وہ ذرائع شامل ہیں جو معمول سےہٹ کرکھلائےجاتے ہیں۔غیر روائیتی خوراک میں گھر کی بچی کچی سبزیاں ، گرے پڑے پتے اور پھلوں کے چھِلکے وغیرہ شامل ہیں۔

خوراک کی ضرورت

image

جسمانی وزن کےلحاظ سےخوراک کی مقدارٹیبل میں دی گئی ہے۔

عمر کے لحاظ سےبھیڑوں اوربکریوں کی خوراک

image

بھیڑوں اوربکریوں کی دیکھ بھال عمرکےلحاظ سےمندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔

نومولود بچوں کی دیکھ بھال

image

نومولود بچوں کی دویکھ بھال کےحوالےسےمندرجہ ذیل باتوں کوملحوظِ خاطررکھیں۔ - پیدائش کےفوراًبعدبچےکوماں سےالگ نہ کریں -بچے کی ناڑ کو 3 سے 6 انچ تک کاٹ دیں اور اس پر پائیوڈین یا ٹنکچر آئیوڈین لگائیں تاکہ اس پر زخم نہ بنے۔ناڑ پر مٹی اور گندگی لگنے سے بچائیں۔ -بچے کے پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر اندر50ملی لیٹر فی کلوگرام جسمانی وزن کے لحاظ سے بوہلی یا نارا پلائیں جو اسے بیماریوں سے بچاؤ کے لئے قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔بعض

پیدائش سےلیکر90دن تک

image

پیدائش سےلیکر90دن تک خوراک کی معلومات اوپرٹیبل پردی گئی ہیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

پی پی آر،متعدی نمونیہ اورانتڑیوں کےزہرجیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔

اندرونی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

image

پیدائش کے1ماہ بعدپیٹ کےکیڑوں سےبچاؤکی دواپلائیں اوراسےاگلےہر2سے3ماہ بعددہرائیں۔البینڈازول،فن بینڈازول یالیوامیسول کی دواپلائیں یاجلد میں آئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔

دودھ چھڑوانا

image

بھیڑوں اور بکریوں کے بچوں کے دودھ چھڑوانےکے حوالے سےمندرجہ ذیل باتوں کو مدِنظر رکھناچاہیے۔ - بچوں کاجسمانی وزن تقریباً14کلوگرام تک ہوجائے۔ - جسمانی بڑھوتری 130گرام روزانہ کی بنیادپر آجائے۔ - ھےیاسوکھاچارہ 3سے4 کلوگرام تک کھا چکا ہو۔ - کریپ فیڈ/بچوں کی خوراک 12کلوگرام تک کھا چکاہو(پیدائش سے لیکرمکمل خوراک)۔ - 90دن کی عمر میں روزانہ 300گرام خشک راشن کھانے کی صلاحیت ہو۔

حاملہ بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال

image

حاملہ بھیڑبکریوں کی دکیھ بھال انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔حاملہ بھیڑبکریوں کی دکیھ بھال مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں:

خوراک

image

حاملہ جانور کی خوراک میں مناسب اوروافرمقدارمیں معیاری چارے کے ساتھ زرعی اجناس سے بنی ہوئی متوازن خوراک یا ونڈااستعمال کرنالازمی ہے۔

پیٹ کےکیڑوں کیلئےدوا

image

حاملہ بھیڑوں اوربکریوں کوپیٹ کےکیڑوں سےبچاؤکی دوایاٹیکہ ہرگز نہ لگائیں۔

دودھ پلانے والی بھیڑوں اوربکریوں کی دیکھ بھال

image

دودھ پلانےوالی بھیڑوں اوربکریوں کی دیکھ بھال کےحوالےمعلومات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔

خوراک

دودھ پلانےوالی بھیڑبکریوں کوخوراک میں تازہ سبزچارےکےساتھ 1پاؤگندم،مکئی یاباجرےکادلیہ لازمی کھلائیں۔

اندرونی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

image

پیدائش کے1ماہ بعدپیٹ کےکیڑوں سےبچاؤکی دواپلائیں اوراسےاگلےہر2سے3ماہ بعددہرائیں۔البینڈازول،فن بینڈازول یالیوامیسول کی دواپلائیں یاجلد میں آئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

پی پی آر،متعدی نمونیہ اورانتڑیوں کےزہرجیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔

نسل کشی کیلئےبکروں اورچھتروں کی دیکھ بھال

image

بکروں اورچھتروں کونسل کشی کے مقصد کیلئےپالاجاتاہے۔انکی دیکھ بھال میں لاپرواہی نسل کشی کےعمل میں روکاوٹ کا باعث بنتاہے۔بکروں اورچھتروں کی مناسب دیکھ بھال کیلئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں:

علیحدہ رکھنا

image

بکروں اورچھتروں کو بقیہ تمام جانوروں سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔جب نسل کشی کا موسم آتا ہے تب ہی انہیں بقیہ جانوروں میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

خوراک

image

عمومی طورپرانہیں سبزچارےکےساتھ گندم یامکئی کادلیہ کھلایاجاتاہےجبکہ نسل کشی کے موسم سے تقریباًدوہفتےپہلے سےہی انکی خوراک میں راشن کے ساتھ منرل مکسچر/نمکیات کا آمیزہ لازمی شامل کیاجاتاہے۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

پی پی آر،متعدی نمونیہ اورانتڑیوں کےزہرجیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔

اندورنی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

image

انہیں ہر2سے3ماہ کےدوران کیڑوں کےتدارک کیلئےدوالازمی پلائیں۔البینڈازول،فن بینڈازول یالیوامیسول کی دواپلائیں یاجِلد میں آئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔

بکروں اورچھتروں کوفربہ کرنا

image

بکروں،دمبوں اورچھتروں کوفربہ کرنےکابنیادی مقصدگوشت(مٹن)کاحصول ہے۔ گوشت کے مقصد کیلئےجانور پالنےکوفربہ کرنا کہا جاتا ہے۔عمومی طور اس مقصدکیلئے نر جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔فربہ کرنے کیلئےمختلف اہم نکات مندرجہ ذیل دئیے گئے ہیں۔

دورانیہ

بکروں اورچھتروں کوفربہ کرنےکیلئے2.5سے3ماہ کاعرصہ درکارہوتاہے۔اگراس سےزیادہ عرصہ رکھا جائےگاتویہ معاشی طورپرفائدہ مندنہیں رہتا۔

انتخاب

image

بکروں ،دمبوں اورچھتروں کو فربہ کرنے کیلئےمنتخب کیا جاسکتا ہے۔جانوروں کی نسل،یومیہ شرح بڑھوتری اوربیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مدِنظر رکھتےہوئےانتخاب کیا جائے۔ - بکروں کیلئےبیتل،ٹیڈی،کاموری،ٹپری،دائرہ دین پناہ اورناچی بکریوں کومنتخب کیا جاسکتاہے۔ - چھتروں کیلئےکجلی،لوہی،تھلی اورمندری کومنتخب کیا جاسکتاہے۔ - دمبوں کیلئےسالٹ رینج(لَٹی)،دمبی،بلخی اورمچنی کومنتخب کیا جاسکتا ہے۔

عمراوروزن کےلحآظ سےانتخاب

image

فربہ کرنے کیلئےجانوروں کی خریداری وزن اور عمر دونوں لحاظ سےکی جاسکتی ہے۔وزن کے لحاظ سے خریداری کرنی ہو تو10سے15کلوگرام کے نر جانوروں کو انتخاب کریں جبکہ اگرعمر کے لحاظ سےانتخاب کرنا ہو تو4سے6ماہ ہونی چاہیے۔

خوراک

image

فربہ کیےجانےوالےبکروں اورچھتروں کوخوراک میں سبزچارےکےساتھ گوشت میں اضافےکیلئےونڈااورمنرل مکسچرلازمی کھلائیں۔خوراک کےحوالےسےمعلومات اوپرٹیبل میں دی گئی ہیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

پی پی آر،متعدی نمونیہ اورانتڑیوں کےزہرجیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔

اندرونی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

image

انہیں ہرماہ کےبعدکیڑوں کےتدارک کیلئےدوالازمی پلائیں۔البینڈازول،فن بینڈازول یالیوامیسول کی دواپلائیں یاجِلد میں آئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔

نسل کشی

بھیڑبکریوں کی بہترین افزائش میں کامیاب نسل کشی کااہم کردارہوتاہے۔نسل کشی کیلئےاہم معلومات مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں:

مادہ اورنرکوعلیحدہ رکھنا

کامیاب نسل کشی کیلئےمادہ اورنرجانوروں کوعلیحدہ رکھیں انہیں صرف نسل کشی کےموسم میں ہی اکٹھارکھا جائے۔

مادہ اورنرکوعلیحدہ رکھنا

ایسی بھیڑیں اوربکریں جوباربارنسل کشی کروانےکےبعدھی حاملہ نہ ہوں رپیٹ کرجائیں یاپھرجائیں انہیں فارم پرنہ رکھا جائے۔

نسل کشی کیلئےہمیشہ اپنےفارم کےجانور

نسل کشی کیلئےہمیشہ پانےفارم کےنرجانوروں کوانتخاب کریں اوراپنےنرجانورکسی دوسرےکونسل کشی کیلئےہرگزنہ دیں تاکہ انہیں تولیدی بیماریوں سےبچایاجاسکے۔

خوراک

image

نسل کشی میں جانوروں کی خوراک اہم کرداراداکرتی ہے۔نسل کشی کےموسم میں مادہ اورنردونوں کوسبزچارےکےساتھ گندم یامکئی کادلیہ اورمنسل مکسچرلازمی کھلائیں۔

نسل کشی سےمتعلق بیماریاں

کچھ ایسی بیماریاں ہیں جونسل کشی کومتاثرکرتی ہیں ان کاعلاج بروقت نہ کیاجائےتوجانورنسل کشی سےمحروم ہوجاتےہیںاورمعاشی طورپرنقصان کاباعث بنتے ہیں۔

مادہ جانورکاہیٹ میں نہ آنا/گرمی ظاہر نہ کرنا

وہ دورانیہ ہوتا ہےجس میں جانور نسل کشی کے لئے تیار نہیں ہوتایاگرمی کی کوئی علامت ظاہرنہیں کرتا۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔

علامات

متاثرہ جانور میں باقی کوئی بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتی جبکہ جانور صرف جنسی تحریک یا گرمی کی علامات ظاہر نہیں کرتا۔نرجانورکےچھوڑنےکےباوجودجانورحاملہ نہیں ہوتا۔

علاج

image

خوراک میں منرل مکسچر کا استعمال کریں اورساتھ ساتھ ہارمونزجیساکہ پی جی ایف ٹو ایلفا،جی این آر ایچ ،ایف ایس ایچ یا پی ایم ایس لگائیں۔اگرجانورہارمون لگانےسےبھی گرمی ظاہر نہ کرےتوڈاکٹرسےبچہ دانی چیک کروائیں۔

بچاؤ

بھیڑیابکری بچہ پیداکرنےکے21دن بعداگردوبارہ ہیٹ یاگرمی ظاہرنہیں کرتی تواس کی خوراک میں منرل مکسچراستعمال کرناشروع کردیں۔

افزائش نسل کو دہرانا /ریپیٹ بریڈنگ/پھرجانا

ایسے جانور جو دو یا دو سے زیادہ بار افزائش نسل کے لئے تیار تو ہوتے ہیں لیکن نسل کشی کروانے کے نتیجے میں حاملہ نہیں ہو پاتے۔عام زبان میں اسے پھِر جانا اور بار بار نیا ہونا بھی کہا جاتا ہے ۔ایسے جانور جوا سکا شکار ہوں تو مویشی پال حضرات کے لئے بڑے معاشی نقصان کا با عث بنتے ہیں۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری(ویبریوسس،ٹرپنو سومیسس،سٹیریپٹو کوکس یا سوڈوموناس) یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔

علامات

جانور میں بظاہر کوئی بیماری کی علامات نظر نہیں آتی اور جانور گرمی کا اظہار بھی مکمل اور وقت پر کرتا ہےلیکن جب نسل کشی کروائی جاتی ہے تو اسکے 17 سے 24 دنوں کے اندر اندر جانور دوبارہ گرمی کا اظہار کرنا شروع کر دیتا ہے۔بعض اوقات نسل کشی کے 4 سے 5 دن کے اندر خون اور پیپ ملا مواد بھی پھینکنا شروع کر دیتا ہے ۔

علاج

image

خوراک میں منرل مکسچر کااستعمال شروع کردیں اورجب جانوردوبارہ ہیٹ پرآئےتونرجانورچھوڑنےکےدوسےتین گھنٹے بعدپروجیسٹیرون کاٹیکہ لگائیں جس سےجانور کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

بچاؤ

جن بکریوں کی نسل کشی کروائی جارہی ہوان کی خوراک میں گندم یامکئی کےدلیےکےساتھ 10گرام منرل مکسچرہفتےمیں 2سے3مرتبہ استعمال کریں۔

اسقات حمل/بچہ گِرادینا

image

حاملہ جانور اگر دورانِ حمل کسی بھی پیچیدگی کا شکار ہو جائے تو وہ وقت پورا ہونے سے پہلے بچہ گِرا دیتا ہے جسے اسقاتِ حمل یابچہ گِرادینا کہتے ہیں۔

اسباب/وجوہات

اس کی کافی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں کسی بیماری کی وجہ جیساکہ بروسیلوسس،سالمونیلوسس یالسٹیریوسس جبکہ کمزوری یاچوٹ لگنےسےبھی جانوربچہ گِرادیتاہے۔

علامات

image

حاملہ جانور دورانِ حمل کسی بھی وقت اسقاتِ(بچہ گِرادینا) حمل کا شکار ہو سکتا ہے۔کبھی کبھا ر اسقاتِ حمل کے ساتھ تیز بخار ،منہ اور ناک سے رال ٹپکنا اور جانور کا بے چین ہونا بھی دیکھا جا سکتا ہے

علاج

image

اگرجانوربچہ گِرادےتوفوراً پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین کےساتھ سوزش کیلئےکیٹوپروفن،فلونگزن یاپائروکسی کیم کے ٹیکے لگوائیں ۔بچہ دانی میں یوٹینول کی گولیاں رکھوائیں ۔

بچاؤ

حاملہ جانورکی صحت کا خاص خیلا رکھیں اس کی خورک میں گندم یامکئی کا دلیہ اورمنرل مکسچرکااستعمال ضرورکریں۔

شناخت یاپہچان

image

جانوروں کی پیدائش کے بعد پہلا مرحلہ وہ ہوتا ہے جس میں جانور کو کوئی نام یا نمبر دیا جاتا ہے جو تمام عمر اسکی پہچان یا شناخت کا باعث ہوتا ہے۔

کان پرٹیگ لگانا

image

یہ طریقہ سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔کانوں پر لگائے جانے والے ٹیگ اسٹیل،ایلومینیم،نائلن اور پلاسٹک وغیرہ کے بنے ہوئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ٹیگ کو لگانے کے لئے ایک آلہ استعمال کیا جاتا ہےجسے ٹیگ ایپلیکیٹر کہا جاتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے کان میں سوراخ کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے اسے معمولی سا درد محسوس ہوتا ہے۔

گلے میں لٹکانے کے لئے پٹہ یا چین

image

یہ طریقہ عارضی ہوتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے گلے میں پٹا لٹکایا جاتا ہےجس پر خصوصی نام یا نمبر لکھا ہوتا ہے۔اسکا شمارپہچان کے عارضی طریقوں میں ہوتا ہے۔لٹکایا ہوا پٹا دیرپا نہیں ہوتا کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔جانور کی عمر بڑھنے کے ساتھ اسکی گردن کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے جس کے مطابق پٹے یا چین کو ڈھیلا یا کھلا کرنا پڑتا ہے۔جانور کے لڑنے کی وجہ سے یا چین/پٹے پرانےہو جانے کی وجہ سےٹوٹ کے گر جاتے ہیں ۔

ٹیٹوز/جسم پر گود کر نشان لگانا

image

اس طریقے کے مطابق جانور کے جلد پر سوئیوں کی مدد سے جلد میں کوئی حروف تہجی یا نمبر لکھا جاتا ہے اسکے بعد اس پر نہ مٹنے والی سیاہی لگائی جاتی ہے ۔اس مقصد کے لئے ایک آلہ (ٹیٹومشین)استعمال کیا جاتا ہے جس میں سوئیاں لگی ہوتی ہے۔یہ نشان عموماًکان کے اندرلگایا جاتا ہے۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

بھیڑوں اوربکریوں کیلئےبیماریوں سے بچاؤ کیلئےحفاظتی ٹیکہ جات کابروقت لگواناان کی صحت اورتندرستی کی علامت ہے۔حفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول مندرجہ ذیل میں دیاگیاہے۔

1۔شیڈول

image

حفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول

2۔شیڈول

image

حفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول

Get in touch!

Image not found
Image not found
Image not found
logo
FacebookFacebookFacebookFacebook