AgriContent

Agri Content

circle
Cow

Livestock

Read about general practices related to Cow and how to prevent or cure its diseases

Livestock

wheat

Buffalo

wheat
wheat

Cow

wheat

Sheep & goat

اقتصادی اہمیت

image

اچھی نسل کی دودھیل گائے اگر فارم/باڑے میں رکھی جائے تو اس پر روزانہ کا اوسطاًخرچ 300سے500روپےہے جبکہ 10لیٹردودھ کے پیداوار سے 1500روپےروزانہ کمائے جا سکتے ہیں۔اگر جانور10لیٹر سے زیادہ دودھ دیتا ہے تو منافع اورزیادہ کمایا جاسکتا ہے۔

ساہیوال

image

یہ نسل تقریباً پورے پنجاب میں پائی جاتی ہے لیکن اس کا تعلق بنیادی طور پر ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن اور فیصل آباد کے اضلاع سے ہے۔پاکستان میں لوکل پائی جانے والی دودھیل گائیوں میں اسکا شمار ہوتا ہے۔اسے پاکستان کا سرخ سونا کہا جاتا ہے۔

پہچان

image

اس نسل کے جانوروں کے قد درمیانہ اور جسامت متوازن ہوتی ہے۔ رنگ خاص سرخی مائل بھورا ہوتا ہے۔ نر میں رنگ آنکھوں، گردن اور پچھلی ٹانگوں پر گہرا سرخ اور سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے۔ کان درمیانے سائز کے ڈھیلے ڈھالے ہوتے ہیں۔ جِلد ڈھیلی ڈھالی اور عمدہ ہوتی ہے۔ گردن کے نیچے جھالر اور ناف پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

دودھ کی فی بیانت پیداوار1500 سے 2200 لیٹر ہے جبکہ دودھ میں چکنائی کا تناسب 4.5 فیصد ہوتا ہے۔ بالغ نر کا اوسطاًوزن 400 سے 500 کلوگرام جبکہ بالغ مادہ کا وزن 300 سے 350 کلوگرام ہوتا ہے۔کبھی کبھار 1000 کلوگرام سے زیادہ وزن کے نر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دودھ دینے کا اوسط دورانیہ 235 دن ہے۔

ریڈ سندھی

image

اس نسل کا تعلق کوہستان کے پہاڑی سلسلےسے ہے جو صوبہ سندھ میں کراچی کے کچھ حصے، ٹھٹھہ اور دادو کے اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نسل کا آبائی علاقہ حیدآباد کے زرخیز میدانوں سے لے کربلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے بارانی علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

پہچان

image

اس نسل کے مویشی درمیانے قد اور مضبوط جسامت کے ہوتے ہیں جبکہ انکی جسمانی رنگت سرخ ہوتی ہے۔ ساہیوال نسل کی نسبتاً اسکا رنگ گہرا سرخ ہوتا ہے۔ نر کا رنگ کندھوں پر گہرا سرخی مائل ہوتا ہے۔اس نسل کے جانور طاقتور ہوتے ہیں اور سخت حالات کو برداشت کرنے کی بخوبی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پیداواری صلاحیت

image

دودھ کی فی بیانت اوسط پیداوار 1200 سے 2000 لیٹر ہوتی ہے۔ بالغ نر کا وزن 400 سے 500 کلوگرام جبکہ مادہ کا وزن 300 سے 350 کلوگرام ہوتا ہے۔ دودھ کی پیداوار کا اوسطاً دورانیہ 265 دن ہوتا ہے۔

چولستانی

image

اس نسل کا تعلق سا ہیوال نسل کی گائے کے آباؤ اجداد کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ۔ انکا آبائی گھربہاولپور، بہاولنگر اوررحیم یار خان ہےجن میں خصوصاًچولستان کےریگستان سر فہرست ہیں۔

پہچان

image

اس نسل کے مویشی درمیانی جسامت اور ڈھیلی ڈھالی جلد کے حامل ہوتے ہیں۔درمیانے لٹکتے کان ،سیاہ تھوتھنی اورسیاہ پلکیں اسکے خصوصی خواص میں شامل ہیں۔گردن کی جھالر دونوں جنسوں میں بڑی ہوتی ہے۔ سفید جسمانی رنگ پر بھورے، سرخ یا سیاہ دھبے اسکی پہچان ہیں۔

پیداواری صلاحیت

image

دودھ کی فی بیانت پیداوار 1200 سے 1800 لیٹر ہے۔ نر کا اوسط وزن 450 سے 500 کلوگرام جبکہ مادہ کا اوسط وزن 350 سے 400 کلوگرام ہوتا ہے۔نرجانورگوشت کااچھا ذریعہ ہیں جبکہ انہیں باربرداری کے لئےبھی استعمال کیا جاتاہے۔

تھری/تھرپارکر

image

اس نسل کاآبائی وطن سندھ کاضلع تھرپارکرہے۔

پہچان

image

تھری /تھرپارکرنسل کے جانور درمیانی جسامت کے حامل ہوتے ہیں جن کا آگے کی طرف نکلا ہوا چہرہ ،دھنسا ہوا ماتھا ،درمیانے سا ئز کے سینگ جو اوپر اور باہر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں،لمبے لٹکے ہوئے کان ان کے خواص میں شامل ہیں۔انکا رنگ ہلکا سرمئی ہوتا ہے جو کہ نر جانور میں ٹانگوں اور گردن کے گرد ہلکا سیاہ ہو جاتا ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

گائےاچھی دودھیل مانی جاتی ہے۔روزانہ اوسطاً10لیٹرتک دودھ دینےکی صلاحیت رکھتی ہے۔بالغ نرکاوزن 400سے500کلوگرام جبکہ مادہ کاوزن300سے 380کلوگرام تک ہوسکتاہے۔اس سےباربرداری کاکام بھی لیاجاتاہے۔

کینکریج

image

اس نسل کاآبائی وطن سندھ کےضلع تھرپارکرکےساتھ ملحقہ بھارت کاسرحدی علاقہ ہےیعنی اسکاعلاقہ بھارت اورپاکستان دونوں میں پھیلاہواہے۔

پہچان

image

انکی جسامت اور قدوقامت کافی بھاری ہوتی ہے۔یہ گہرے سرمئی ،سرخی مائل ،سفید اور ہلکے کالے رنگ میں پائی جاتی ہیں جن میں بعض اوقا ت دو مختلف رنگوں کی آمیزش پائی جاتی ہے ۔انکی کوہان ،ٹانگیں اور گردن کا رنگ سیاہ ہوتا ہے۔ چھوٹا چہرہ ، چوڑی پیشانی ،ناک اوپر کی طرف اٹھی ہوئی ، بارہ سنگے کی طرح اونچے اورموٹے سینگ ،چوڑے اور کُھلے کان اور ڈھیلی ڈھالی جلد اس نسل کی پہچان ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

بالغ نر کا وزن 550 سے 560 کلو گرام اور بالغ مادہ کا وزن 330 سے 370 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔یہ عمومی طور پر دودھ اور باربرداری، دونوں مقا صد کے لئے پالی جاتی ہے۔اسکی فی بیانت دودھ کی اوسطاً پیداوار 1738 لیٹر تک ہے۔

بھاگناڑی

image

اس نسل کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع سِبی سے ہے۔اسکا نام ضلع سبی میں ایک بھاگ نامی گاؤں اور دریائے ناڑی کی مناسبت سے بھاگناڑی رکھا گیا لیکن اسے ٹلی،کھجک،کورک، مٹھڑی اور بھاگ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔اسے ہر سال ضلع سبی میں منعقد ہونے والے میلے میں نما ئش کےلئے پیش کیا جاتا ہے۔

پہچان

image

یہ جانور اونچے قد اور بھاری برکم جسامت کی وجہ سے مشہور ہیں۔اس جانور کا رنگ سرمئی اور سفید یا ان دونوں کی آمیزش کی شکل میں دیکھنے میں آتا ہے۔گردن کے گرد اور دم کا سرا سیاہ یاسرمئی رنگ کا ہوتا ہے

پیداواری صلاحیت

image

بالغ نر کا وزن اوسطاً600 کلو گرام اور بالغ مادہ کا اوسطاً وزن 480 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔بالغ نر کی اونچا ئی تقریباً 7 فٹ اور وزن 1600 کلو گرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے جو برہمن نسل کے مقابلے میں500 کلو گرام زیادہ ہے۔اس نسل کے دودھ کی پیداوار کافی کم ہے چنانچہ یہ باربرداری اور گوشت ،دونوں مقاصد کے لئے پالی جاتی ہیں۔

داجل

image

اس نسل کا آبائی گھر صوبہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے داجل میں ہے اور اسی نسبت سے اسے داجل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

پہچان

image

داجل نسل اصل میں بھاگناڑی نسل کی ہی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ ان جانوروں کے جسمانی خواص بھاگناڑی جانوروں سے ملتے جلتے ہیں لیکن داجل نسل کے جانور بھاگناڑی کے مقابلے میں قدرے چھوٹے اور ہلکے رنگ کے ہوتے ہیں۔

پیداواری صلاحیت

image

اسکی دودھ کی پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔ اس نسل کے نر جانور بھاگناڑی نسل کی طرح بھاری کام کے لئے اچھے سمجھے جاتے ہیں۔پہلے یہ جانورباربرداری کیلئے استعمال کئے جاتے تھے جبکہ آج کل انہیں خاص طور پر فربہ کر کے گوشت کے حصول کیلئےبھی پالا جاتا ہے۔

دھنی

اس نسل کےجانورزیادہ ترسطح مرتفع پوٹھوارمیں بکثرت پائےجاتےہےجن میں اٹک،چکوال،راولپنڈی، جہلم،میانوالی اورسرگودھاکےاضلاع شامل ہیں۔

پہچان

image

دھنی نسل کے مویشی درمیانی جسامت کے حامل ہوتے ہیں ۔اگر دھنی نسل کے رنگوں میں تغیر کی بات کی جائے تو ان میں سفید جلد پر سیاہ دھبے یاچٹا برگا، مکمل سیاہ جلد پر سفید دھبے یا کالا برگا، سفید جلد پر بھورے اور سیاہ پٹی نما دھبے یا نقرا، سُرخی مائل جلد پر سفید دھبے یا رتابرگا جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے ۔

پیداواری صلاحیت

image

انکی دودھ کی پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔عمومی طور پراس نسل کےجانورفربہ کرنے کیلئے پالے جاتے ہیں۔

روجھان

image

اس نسل کے مویشی صوبہ پنجاب کےاضلاع میں ڈیرہ غازی خان سےملحقہ کوہ سلیمان کاپہاڑی سلسلہ اورراجن پورکی تحصیل روجھان کی نسبت سےاسے روجھان کہاجاتاہے۔

پہچان

image

روجھان درمیانی جسامت کے حامل جانور ہیں جو اپنےمضبوط اور چست جسم رکھتے ہیں جن کا سرخ و سفید رنگ کےبڑے چھوٹے دھبے یا مختلف رنگوں کے آمیزوں کے حامل ہوتے ہیں۔

پیداواری صلاحیت

image

اس نسل کے بیل پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں جفاکشی اور باربرداری کے لئے مناسب سمجھے جاتے ہیں۔

لوہانی

image

اس نسل کےجانوروں کاآبائی وطن صوبہ بلوچستان کا ضلع لورالائی اورصوبہ خیبرپختونخواہ کاضلع ڈیرہ اسماعیل خان ہیں ۔

پہچان

image

لوہانی نسل کا جانور قدوقامت کے لحاظ سےچھوٹا ہوتا ہے۔اس نسل کا رنگ زیادہ تر سرخ ہوتا ہے جس پر بعض اوقات سفید رنگ کے دھبے پائے جاتے ہیں۔چھوٹے سائز کے سینگ،چھوٹے کان اور گردن،کوہان نسبتاً بھاری،درمیانی نوعیت کی جھالر ،دُم کی سِرا سیاہ اور حیوانہ چھوٹے سائز کا ہوتا ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

نر جانور پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں جَفا کشی اور بار برداری کے لئے نہایت موزوں سمجھے جا سکتے ہیں۔دودھ کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے انہیں صرف گوشت اور باربرداری کے مقاصد کے لئے پالا جاتا ہے۔

اچھائی

image

اس نسل کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے ۔یہ جانور باربرداری کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

پہچان

image

اس نسل کا رنگ سرخی مائل بھورا اور چہرا عمومی طور پر سفید ہوتا ہے۔ سرخی مائل بھورے رنگ کے ساتھ ماتھے اور تھنوں پر سفید دھبے دیکھے جا سکتے ہیں۔تھو تھنی کا رنگ سفید سے لیکر ہلکا گہرا بھورا ہوتا ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

اسکی دودھ کی اوسطاً پیداوار 4 لیٹر روزانہ ہے۔دودھ کی کم پیداوار کی وجہ سے اسے بار برداری اور گوشت کی پیداوار کے لئے پالا جاتا ہے ۔چھوٹی جسامت کی بنا پر یہ نسل پہاڑی اورنیم پہاڑی علاقوں میں زیادہ پالی جاتی ہے

دوغلی یاکراس نسل

image

نسل کشی کے لئے جب دو مختلف اقسام یا نسلوں کا ملاپ کرایا جاتا ہے تو نتیجے میں دوغلی نسل کا جانور پیدا ہوتا ہے جو دونوں والدین کی خصوصیات اورپہچان کا حامل ہوتا ہے۔

پہچان

image

مخلوط یا دوغلی نسل کے مویشی میں ماں اور باپ دونوں کی خصوصیات اورپہچان پائی جاتی ہیں

پیداواری صلاحیت

image

مخلوط یادوغلی نسل کے جانور دودھ اورگوشت کی بہتر پیداوار کے حامل ہوتے ہیں۔ایک اچھی کراس نسل کی گائےروزانہ10سے12لیٹرتک دودھ دینےکی صلاحیت رکھتی ہے۔

غیرملکی نسلوں کی معلومات

image

ایک طویل عرصے سے پاکستا ن میں لوگوں نے پیداوار میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر ملکی گا ئیاں منگوانا شروع کی ہیں۔جن کا گوشت اور دودھ کی پیداوار میں کوئی ثانی نہیں ہے

ہولسٹین /فریزین

image

ویسے تو ہولسٹین اور فریزین دو الگ نسلیں تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ مکس ہو گئیں ہیں اور آجکل ایک ہی نسل کو لحا ظ سے جانا جاتا ہےجن کا جانوروں کا آبائی وطن ہالینڈ اور فریز لینڈ ہے۔

پہچان

image

اس نسل کے جانور وں کی جسامت بہت بھاری ہوتی ہے۔اگر رنگوں کے لحا ظ سے دیکھا جائے تو کالا جسم سفیددھبوں کے ساتھ اور سرخ جسم سفید دھبوں کے ساتھ زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بڑااورمضبوط حیوانہ اس نسل کی بنیادی خصوصیات اورپہچان میں شامل ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

بالغ نر کا وزن اوسطاً1000 کلو گرام اور بالغ مادہ کا وزن 550 سے 650 کلو گرام تک ہو سکتا ہے۔یہ گائے24 سے 27 ماہ کی عمر میں پہلا بچہ دے کر دودھ دینا شروع کر دیتی ہے۔اسکی فی بیانت دودھ کی پیداوار 7200 سے 9000 لیٹر تک ہے جو 12000 لیٹر تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسکی روزانہ دودھ کی اوسط پیداوار 22 سے 30 لیٹر ہے

جرسی

image

اس نسل کا تعلق انگلستا ن کے قریب ایک جزیرے جرسی سے ہے ۔پاکستا ن میں بیرونے ملک سے ہولسٹین /فریزین کے بعد اسی نسل کی گائے منگوائی جاتی ہیں۔

پہچان

image

درمیانی جسامت کے ساتھ چست اور خوبصورت قدوقامت انکی پہچان ہے۔یہ ہلکے بھورے سے شوخ بھورے اور کبھی کبھار کالے رنگ میں پائی جاتی ہیں جبکہ نر میں رنگ شوخ بھورے کے ساتھ ٹانگیں اور گردن کے گرد کالا ہوتا ہے۔

پیداواری صلاحیت

image

بالغ نر کا وزن 540 سے 820 کلو گرام جبکہ بالغ مادہ کا وزن 380 سے 450 کلوگرام تک ہے۔اسکی فی بیانت دودھ کی پیداوار 3600 سے 6800 لیٹرتک ہو سکتی ہے۔اسکی روزانہ دودھ کی اوسطاً پیداوار 18 سے 22 لیٹرتک ہوسکتی ہے ۔

بیماریاں

image

ویسے توگائیوں پر بہت سی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں جن میں سے اہم ترین بیماریوں کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔

۔حیوانے کی سوزش /ساڑو/منہ سڑی

image

حیوانے اور تھنوں کی سوزش کو میسٹائٹس کہتے ہیں۔ یہ دودھ دینے والے جانوروں کی ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو کہ بڑے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسے عام زبان میں ساڑو یا منہ سڑی (تھنوں کی سوجن)بھی کہا جاتا ہے۔

اسباب/وجوہات

حیوانے کی سوزش متعدی اور غیر متعدی دونوں وجوہات سے ہوتی ہے۔ غیر متعدی وجوہات میں چوٹ لگنا، دودھ نکالنے کا غلط طریقہ، بچھڑے کا تھن کو نقصان پہنچانا وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ متعدی وجوہات میں بیکٹیریا ، وائرس اور فنجائی شامل ہیں۔

علامات

image

### مخفی ساڑو اس مرحلہ پر حیوانے کی سوزش کا باعث بننے والے خوردبینی جاندار حیوانے اور دودھ میں موجود تو ہوتےہیں مگر حیوانے یا دودھ میں کسی بھی قسم کی علامات ظا ہر نہیں ہوتی۔جانور مخفی طور پر ساڑو کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ ### ظاہری ساڑو اس قسم میں جانور شدت کے لحاظ سے چار مختلف قسم کی علامات ظاہر کرتا ہے۔ان چاراقسام میں انتہائی شدیدحالت،شدیدحالت،کم شدیدحالت اوردیرینہ حالت شامل ہیں۔

تشخیص

image

مخفی ساڑو کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سَرف فیلڈ میسٹائیٹس ٹیسٹ ہے جو کہ فارم یا گھر میں آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ انتہائی سستاہے۔ اس ٹیسٹ میں عام گھروں میں استعمال ہونے والے سرف کا 3فیصد محلول تیار کیا جات ہے (آدھے لیٹر پانی میں چھ چمچ سرف کی ملائیں)۔ پھرپلاسٹک کا ایک پیڈل جو کہ چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے استعمال کر سکتے ہیں یا چار گلاسوں میں چار تھنوں کا 2.3 ملی لیٹر دودھ لیتے ہیں اور اتنی ہی مقدار میں 3فیصد سرف کا محلول ڈال کر ہلاتے ہیں اگر اس میں پھُٹکیاں یا جیل نما گاڑھا مادہ بن جائے تو اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکا جانور مخفی ساڑو کا شکار ہے

علاج

image

سوزش /سوجن سے بچاؤکیٹوپروفن،فلونگزن،میلوکسی کیم یاپائریکسی کیم اور وسیع الاثر اینٹی بائیوٹک جیسا کہ جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یاموکسی فلاکساسین میں سے کوئی ایک استعمال کریں۔دوائی ٹیکوں کی شکل میں گوشت میں لگوائیں اور ٹیوب ٹیٹراڈیلٹا،کلاگزیم-ایل سی یامیسٹی گون میں سےکوئی ایک متاثرہ تھن میں دوائی چڑھائیں ۔اگر جانور حاملہ ہو تو کوئی بھی ہومیو پیتھک دوائی(میسٹائٹوپلس،علاج یافائبروفٹ ڈی ایس استعمال کریں۔

بچاؤ

image

دودھ دوہنے سے پہلے جانور کے حیوانے اور ٹانگوں کو صاف اور نیم گرم پانی سے سے دھو کرصاف کپڑے یا ٹِشو پیپرسے اچھی طرح خشک کریں۔ - دودھ دوہنے سے پہلے اور بعد میں تھن کو جراثیم کش محلول میں ڈبوئیں۔اس مقصدکیلئےپلاسٹک کی بوتل استعمال کی جاتی ہےجس میں دوائی بھری ہوتی ہے۔ - دودھ دوہنے کے فوراً بعد جانوروں کو تقریباً آدھے گھنٹے تک بیٹھنے نہ دیں کیونکہ اس وقت تھن کی نالی کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور جراثیم ان مساموں کے ذریعے تھنوں میں داخل ہو کر حیوانے کی سوزش یا ساڑو کا باعث بن سکتے ہیں۔

منہ کھر

image

اس بیماری کا سبب ایپتھو وائرس ہے جسکی کئی اقسام ہیں جن میں سے کچھ پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ منہ کُھرسمبدار جانوروں کی متعدی بیماری ہے۔

علامات

image

تیز بخار، پیداوار میں کمی، منہ اور کھروں پر چھالوں کا بننا، منہ سے لیس دار رالیں ٹپکنا، جانور کا لنگڑا کا چلنا، وزن میں کمی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔منہ میں چھالوں کی وجہ سے متاثرہ جانور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہےاور کھروں میں زخموں کی وجہ سے اس کا چلنا پھِرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔ بچھڑیوں میں یہ بیماری جان لیوا ہے۔

علاج

image

چونکہ اس بیماری کا سبب ایک وائرس ہے اس لئے اس کا علاج ممکن نہیں البتہ بیماری کی شدت اورمزیدبڑھنےسےبچاؤکیلئے وسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس (موکسی فلاکساسین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین میں سےکوئی ایک استعمال کریں ۔ اس کے علاوہ بخار کو کم کرنے والی ادویات (کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم میں سےبھی کوئی ایک استعمال کریں ۔ جانور کو نرم غذا دیں۔

بچاؤ

بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات(ایف ایم ڈی ویکسین) لگوائیں اور متاثرہ جانوروں کو باقی ماندہ صحت مند جانوروں سے الگ رکھیں۔منہ میں چھالوں پرگلیسرین یاسوموجیل لگائیں اورکھُروں کوفینائل یاپوٹاشیم پرمیگنیٹ کامحلول بنا کردھویں۔

گل گھوٹو

image

عمومی طورپربھینسوں میں اموات کی بڑی وجہ گل گھوٹو ہے۔ یہ عام طور پر برسات کے موسم میں حملہ آورہوتی ہے۔ بیماری کا سبب ایک بیکٹیریاہےجس کا نام پاسچوریلا ملٹو سیڈا( Pasteurella multocida ) ہے۔

علامات

image

عام طور پر بیماری انتہائی شدید یا کم شدید صورت میں ہوتی ہے جس میں 6 سے 24 گھنٹے میں جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری نشیبی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور اکثر مون سون اور سردیوں کی باریشوں میں حملہ آور ہو کر وبائی صورت اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جانورمرجاتے ہیں۔ تیز بخار، سستی، چلنے میں ہچکچاہٹ، کھانا پینا کم کر دینا،منہ سے رالیں ٹپکنا، ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا،زبان کا رنگ نِیلگوں ہوجانا،خونی پیچش، گردن کا سوجھ جانا اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا اس بیماری کی علامات ہیں۔

علاج

image

اس بیماری کے علاج کے لئے وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس (سیفٹیوفر،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین،جینٹامائی سین یاپینی سیلین)اوربخارکےخلاف دوائیں(کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم)استعمال کریں۔

بچاؤ

بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کو حفاظتی ٹیکہ جات(ایچ ایس ویکسین) بر وقت لگوائیں، بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھیں،بائیو سیکیورٹی اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

چوڑےمار

image

اس بیماری کاسبب کلاسٹریڈیم شووی آئی (Clostridium chauovei )نامی بیکٹریا ہے۔ یہ ایک اہم بیماری ہے جس میں جانور کے زیادہ گوشت والے حصے کو متاثر کرتی ہےالبتہ بھینسوں میں یہ بیماری کم درجے اور شدت ہوتی ہے۔

علامات

image

متاثرہ جانورکو تیز بخارکھانا پینا کم کر دینا، گوشت والے حصے جیسے ران، کندھے، گردن اور چھاتی وغیرہ سوجھ جانااس بیماری کی بنیادی علامات میں شامل ہے۔متاثرہ جانور کی ران والا حصہ گل سڑ جاتا ہےاور جب جانور چلتا ہے تو پٹا خوں کی آواز آتی ہے اسی نسبت سے اسے پٹا خے مار بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ متاثرہ جانور کا گوشت استعمال کے قابل نہیں ہوتا لہٰذا اگر جانور ذبح بھی کر دیا جائے تو متاثرہ گوشت کے استعمال سے پرہیز کریں۔

علاج

image
image

جانور کو وسیع الاثراینٹی بائیوٹک(پینسلین جی/وی،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین) لمبے عرصے تک لگوائیں اور اس کے ساتھ ساتھ بخار کم کرنے والی دوائی (کیٹوپروفین،پائروکسی کیم،ڈائیکلوفینک سوڈیم)بھی استعمال کریں ۔ اگر گوشت زیادہ گل سڑ جائے تو متاثرہ حصہ تھوڑا کٹوا کر جراثیم کش دوا استعمال کریں ۔

بچاؤ

بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات(بی کیوویکسین) بر وقت لگوائیں۔ صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔

سٹ/گولی/پھڑکی (اینتھریکس)

image

یہ ایک بیکٹیریل بیماری ہےجوبیسیلس اینتھریسس نامی بیکٹریاسےپھیلتی ہے۔عمومی طورپریہ بیماری مکھیوں کےذریعےپھیلتی ہے۔

علامات

image

جانور کی موت اچانک واقع ہو جاتی ہے۔ اگر جانور زندہ رہے تو اس میں تیز بخار، سانس کا تیز چلنا، پیداوار میں کمی، جانور کا سست ہونا اور پتلے گوبر جیسی علامات ظاہر ہوتی ہے۔مرنے کے بعد جسم کے تمام قدرتی سوراخوں مثلاً ناک، منہ گوبر اور پیشاب کے راستے خون آتا ہےجو کہ جمتا نہیں ہے اور تازہ رہتا ہے ۔

علاج

image

بیماری تیزی سے رونما ہوتی ہے اور بغیر کوئی علامت ظاہر کیئے 90 فیصد جانور وں کی موت واقع ہو جاتی ہے اس لئے علاج ممکن نہیں ہے۔ البتہ اگر کچھ علامات ظاہر ہوں تو مختلف اینٹی بائیوٹیکس(لنکومائی سین،جینٹامائی سین یاموکسی فلاکساسین) اوربخارکوکم کرنےکیلئےدوا(کیٹوپروفن،فلونگزن یاڈآئیکلوفینک سوڈیم)کا استعمال کریں۔

بچاؤ

بیماری سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ جانور کو حفاظتی ٹیکہ جات(اینتھریکس سپورویکسین) لگوائے جائیں۔

رت موترا/شرکن

image

یہ ایک اہم بیماری ہے۔ اسکی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں جن میں فاسفورس کی کمی اورببیزیوسس سرِفہرست ہیں۔ببیزیوسس کوچیچڑوں کا بخار بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ چیچڑوں کے باعث ایک جانور سے دوسرے جانور میں منتقل ہوتی ہےجبکہ فاسفورس کی کمی میں چیچڑوں کا کوئی عمل دخل نہیں پایا جاتا۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کی ایک وجہ فاسفورس کی خون میں کمی ہے جبکہ دوسری وجہ ببیزیوسس ہےجو پروٹوزوواکے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ گرم ہوں اور جہاں چیچڑ زیادہ تعداد میں ہوں۔ مچھر، مکھیاں اور متاثرہ آلات بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

علامات

image

بخار،جانور کی رنگت کا پیلا پڑ جانا، خون کی کمی، پیشاب میں خون کا آنا، حمل کا گرنا اور دودھ کی پیداوار میں کمی اس بیماری کی اہم علامات ہیں۔فاسفورس کی کمی میں جانورکو بخار نہیں ہوگاجبکہ ببیزیوسس کی وجہ سےتیزبخارکے ساتھ چیچڑوں کی موجودگی بھی پائی جائے گی۔

علاج

image

فاسفورس کی کمی کیلئے متاثرہ جانورکوکیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون یافاسویٹ)لگوائیں جبکہ ببیزیوسس یاچیچڑوں کے بخارکی صورت میں بہترین دوائی امیڈو کارب ہے۔ بخار کی شدت کو کم کرنے کے لئے ٹیکہ(کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم) لگانے سے پہلے جانور کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا چاہئے۔

بچاؤ

image

بیماری سے بچاؤ کے لئے چیچڑوں، مچھروں اور مکھیوں کو مارنے کے لئے جانوروں کے باڑے میں کسی بھی کیڑے مار زہر(سائپرمیتھرین،ڈیلٹامیتھرین یاٹرائیکلوفان) کاا سپرے کریں اور جانوروں کو جلد میں آئیورمیکٹین کا ٹیکہ لگوائیں اگر جانور حاملہ ہو تو اسے ٹیکہ نہ لگوائیں بلکہ چیچڑوں اور جوؤں سے بچاؤ کی دوا (ٹرائیکلورفان)کاپانی میں محلول بناکر جانور کے جسم پر اسپرے کریں یا کسی بھی کپڑے سے جسم پر لگائیں ۔

پائیکا/شاپرکھانےوالی بیماری

image

یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جانور انتہا کی حد تک بھوکا ہوتاہے اور ایسی چیزیں کھانے لگتا ہے جو کہ عام طور پر اسکی خوراک کا حصہ نہیں ہوتی ۔ یہ اردگرد کی ہر شے کو چاٹتا ہے اور کھانے کی کوشش کرتا ہےمثلاً شاپر،بال،کاغذ رسیاں اورمٹی کے ٹکڑے وغیرہ ۔

علامات

image

متاثرہ جانورشروع میں تو ٹھیک ہوتا ہے مگر بعد میں کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے ۔ اپنے ارد گرد موجود اشیاء جیسے مٹی، ریت، فضلہ، کپڑا وغیرہ کھاتا ہے۔ دیوار اور زمین کو چاٹتا ہے اور کھرلی اور دیواروں کو ٹکریں مارتا ہے۔شاپر اور رَسیاں کھانے سے پیٹ میں ان کے گچھے بن جاتے ہیں اور معدہ بند ہوجاتا ہے جو جانور کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

علاج

image

متاثرہ جانور وں میں نمکیات اور فاسفورس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون،فاسویٹ) لگوائیں۔خوراک میں منرل مکسچرکااستعمال بھی شروع کردیں۔

بچاؤ

image

متا ثرہ جانور کے پیشاب میں خون مکس ہو کر آتا ہے جس سے جانور میں خون کی کمی ہو جاتی ہےلہٰذا اس سے بچاؤ کے لئے وٹامن K یاٹرانزامین کا ٹیکہ لگوائیں ۔بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کی خوراک میں (فاسفورس اورکیلشیم پر مشتمل)منرل مکسچر باقاعدگی سے استعمال کرنا لازمی ہے۔

کیلشیم کی کمی/سوتک کا بخار

image

یہ خون میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ زیادہ دودھ دینے والے جانورں میں اس بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اسے سوتک کا بخار کہا جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے جانور کا جسمانی درجہ حرارت نارمل رہتا ہے بلکہ کبھی کبھارنارمل سے بھی کم ہو جاتا ہے ۔جانور کے بچہ دینے کے بعد سوتک کے بخار کا خطرہ سب سےزیادہ ہوتا ہے۔

علامات

image

خوراک میں کیلشیم ، فاسفورس اور وٹامن ڈی میں ردوبدل سے کیلشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ خوراک میں کیلشیم کی کمی اور دوسری وجہ فاسفورس کی زیادتی ہے۔ کیلشیم کمی سے بھوک کا نہ لگنا ، بڑھوتری میں کمی، بانجھ پن، دودھ کی پیداوار میں کمی ، ہڈیوں اور دانتوں کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

علاج

image

علاج کے لئے جانور میں کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون یافاسویٹ) لگوائیں۔

بچاؤ

image

بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کی خوراک میں منرل مکسچر(ڈی سی پی ،ایل ایس منرل،اےایس منرل) باقاعدگی سے استعمال کرنا لازمی ہے۔

پھوڑوں والی بیماری/لمپی اسکن

image

اس بیماری کا سبب پاکس وائرس (Lumpy skin disease virus)ہے۔اس بیماری کے پھیلاؤ کی شرح 10سے15فیصد اوراموات کی شرح5سے10فیصد تک ہے۔

علامات

image

بخار،آنکھوں اور ناک سے گاڑھے مادے کا اخراج، جسم پر زرد رنگ کے دانے نکلتےہیں جنہیں ہاتھ لگانے پر جانور کودرد محسوس ہوتا ہے،ٹانگوں اور حیوانے پر سوزش کے اثرات کا ظاہر ہونا اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔دانے کچھ عرصے بعد سوکھ کر کھرنڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

علاج

image

یہ بیماری ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اس لئے اسکا کوئی مستندعلاج نہیں ہے۔اس بیماری سےمتاثرہ جانورشدیددباؤ کا شکارہوتا ہےجس کی وجہ سےاسے دوسری بیماریاں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ظاہری علامات کومدِنظررکھتےہوئےوسیع الاثراینٹی بائیوٹکس جیساکہ آکسی ٹیٹراسائیکلین،پینسلین،جینٹامائی سین،لنکومائی سین یااینروفلاکساسین کےساتھ ساتھ بخاراورسوجن کوکم کرنےکیلئے کیٹوپروفین،فلونگزن یاپائیریکزیکیم وغیرہ کےٹیکےلگائیں اورالرجی کوکم کرنےکیلئے(فنرامین میلئیٹ،سٹریزین یامیپرامین میلئیٹ کےٹیکے بھی لگوائیں۔ پھوڑوں ،دانوں اور زخموں پرپنک اسپرے،ٹیراجن یاٹیٹراجن کااسپرےکریں۔

بچاؤ

یہ بیماری ایک وائرس سے پھیلتی ہےاس لئےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لگوانالازمی ہے۔مکمل بچاؤ کیلئےاپنے جانوروں کو تین ٹیکے لازمی لگوائیں جس کی ترتیب کچھ اس طرح سے رکھیں کہ پہلا ٹیکہ ،اسکے بعددوسراٹیکہ پہلے ٹیکے کے ایک ماہ بعد جبکہ تیسرا ٹیکہ دوسرے ٹیکے کے 6ماہ بعد لگوائیں۔

اپھارہ/بلوٹ/ٹمپنی

image

اپھارہ جانوروں کی غیر متعدی بیماریوں میں شامل ہے ۔اگرجانور زرعی اجناس ضرورت سے زیادہ کھالے اورفوراً پانی پی لے تو اس سےپیٹ میں گیس جمع ہو جاتی ہے جس وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے۔بعض اوقات تازہ اورسرسبزبرسیم اورلوسرن کھانے سے بھی یہ مسئلہ پیش آسکتاہے۔

علامات

image

اس بیماری میں جانور کے معدے میں گیس جمع ہو جاتی ہے ۔ اس بیماری میں جانور کے پیٹ کے بائیں جانب واضح ابھار نظر آتا ہے۔ جانور کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ بار بار پیشاب اور گوبر کرتا ہے۔اگر بر وقت علاج نہ کیاجائے تو جانور کی کچھ گھنٹوں یا شدید حالت میں منِٹوں میں جانور کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

علاج

image

اس بیماری کے علاج کے لئے جانور کو بلوٹرل یامیڈی اوورل پلائیں اورساتھ ساتھ میگنیشیم سلفیٹ اورسوڈابائی کارب یکساں مقدارمیں پانی میں ملاکرپلائیں۔ شدید حالت میں معدے میں کسی نوک دار سلاخ کی مدد سے سوراخ کر کے ہوا نکالی جاتی ہے۔یادرکھیں اس بیماری کاعلاج اگروقت پر نہ کیا جائےتومتاثرہ جانورموت کاشکارہوسکتاہے۔

بچاؤ

۔ بیماری سے بچاؤ کے لے جانور کو کترا ہوا چارہ دیں، خوراک متوازن ہو اور اس میں اچانک تبدیلی نہ لے کر آئیں۔اگر جانور دانے ،دلیہ(گندم،مکئی) یا کوئی بھی آمیزہ کھائے تو اسے فوراً پانی پینے کے لئے نہ دیا جائے۔کچی حالت میں سبز چارہ جانور وں کو تازہ کھلانے سے گریز کریں اور ہو سکے تو چارہ کاٹ کر کسی بھی ہموار جگہ پر بکھیر کر ڈال دیں جہاں مذکورہ چارہ 4 سے 5 گھنٹے پڑا رہے اور اسکے بعد کُتر کا کھلائیں۔

بچھڑوں اور بچھڑیوں کے اسہال یا دست

image

بچھڑوں کی اموات کا بڑا سبب انہیں سفید اسہال یا دست کا لگنا ہے ۔

اسباب/وجوہات

اس کی وجہ کوئی بیماری بھی ہوسکتی ہے جبکہ عمومی طورپرمٹی،شاپراوررسیاں وغیرہ کھانےاورٹھنڈادودھ پلانےسےسفیددست لگنےکےاسباب ہوسکتےہیں۔

علامات

image

پانی کی طرح پتلے دست ،بھوک میں کمی،جسمانی درجہ حرارت کا نارمل سے کم ہو جانا،جسما نی کمزوری اور انتہائی شدید حالت میں دست کے ساتھ گوبر اور خون کا مکس ہوکر آنا اسکی علاما ت میں شامل ہیں۔

علاج

image

متاثرہ جانوروں کووسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس(پیینی سلین،اینروفلاکساسین،جینٹامائی سین،سلفاڈمی ڈین یاسلفاڈآئزین) اور اینٹی پروٹوزوول(امیڈوکارب یامیٹرونیڈازول) کےانجکشن لگائیں۔دستوں کوروکنےکیلئےسکورایکس،نواسکوراورڈائروبان استعمال کیےجاسکتےہیں۔ معدے کے لئے کوئی ہربل یا ہو میو پیتھک (آلویجیسٹ یاڈآئرونِل)دوا با قا عدگی سے استعمال کریں۔ انتہائی شدید حالت میں نارمل سیلائین میں ملٹی وٹامن (بل کمپلس،ایمی وائی کام)کے ٹیکے مکس کر کے ڈرپ لگوائیں۔

بچاؤ

image

۔ نومولود بچھڑوں کے منہ پر چِھکا لازمی چڑھائیں۔اگر دودھ نکال کر کسی بالٹی یا فیڈر سے پلانا مقصود ہو تو پہلے گرم لازمی کریں اور نیم گرم پلائیں اور ہر گز ٹھنڈا دودھ نہ پلائیں۔

فوگ فیور/دھندھ کابخار

image

فوگ فیور سے متاثرہ جانوروں میں پھیپھڑوں کی سوزش ہو جاتی ہے۔اس بیماری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب جانوروں کو تازہ،کچا اور سرسبز چارہ زیادہ مقدار میں کھلایا جائے تو جانور بیمار ہونا شروع ہو جاتے ہیں

اسباب/وجوہات

تازہ اور سرسبز چارے میں ایک لحمیاتی جزو موجود ہوتا ہے جسے ٹرپٹوفین کہتے ہیں اس کی زیادتی کی وجہ جانور کے پھیپھڑوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور سوزش کاشکارہوجاتے ہیں۔

علامات

image

سانس لینےمیں تکلیف،کھانسی،کھانےپینےمیں دشوار ،منہ اورناک سےجھاگ نماریشوں کے اخراج کے ساتھ اگر بیماری شدت اختیارکر لےتومتاثرہ جانورکی موت واقع ہوسکتی ہے۔اس بیماری میں جانورکا جسمانی درجہ حرارت نارمل رہتاہے۔

علاج

image

اسکاکوئی خاص علاج تو نہیں ہے اگر بیماری کم شدت کی ہوتوجانورخودبخودٹھیک ہوجاتاہےجبکہ اگرشدت بہت زیادہ ہوتوجانورکسی بھی علاج سےٹھیک نہیں ہوتااور 2سے 3دنوں میں موت کاشکاربھی ہوسکتاہے۔علامتی علاج کیلئےوسیع الاثرراینٹی بائیوٹکس(پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین) اورسوزش سے بچاؤ(کیٹوپروفن،فلونگزن یاپائروکسی کیم) کےٹیکےلگوائیں۔

بچاؤ

بچاؤکےلئےجانورکوکچا اورسرسبز چارہ تازہ کھلانےسےگریز کریں۔چارہ کاٹ کرکسی صاف ستھری اورہوادارجگہ پر بکھیرکرڈال دیں جہاں یہ5سے6گھنٹےپڑارہےاسکےبعد بھوسےاورونڈےکےساتھ ملاکرجانوروں کوکھلائیں۔

نسل کشی

image

کسی بھی لائیوسٹاک فارم کی ترقی کااندازہ اس کی پیداوارکےبعدکامیاب نسل کشی سےلگایاجاسکتاہے۔نسل کشی سےنہ صرف اگلی پیداوارکاتعین ہوجاتاہےبلکہ ایک اضافی بچہ بھی حاصل ہوتاہےجس نےمستقبل میں بڑےجانوروں کی جگہ لیناہوتی ہے۔

نسل کشی کےطریقے

جانوروں میں نسل کشی کے دو طریقے ہیں۔ ایک روایتی طریقہ ہے جبکہ دوسرا طریقہ مصنوعی نسل کشی ہے۔

قدرتی یاروایتی نسل کشی

قدرتی نسل کشی کےلئےمادہ جانورکی جنسی تحریک یا گرمی کے اظہار پر نر جانورسے ملاپ کرایا جاتا ہے۔اس مقصدکیلئےنرخود بھی پالےجاتےہیں اورکرائےپربھی لیےجاتےہیں۔

مصنوئی نسل کشی یااےآئی

image

مصنوعی نسل کشی یا مصنوعی تخم ریزی جسے عام زبان میں ٹیکہ یا بیج رکھوانا کہتے ہیں ایسا طریقہ ہے جس میں نر جانور سے حاصل کئے گئے تولیدی مادے (semen) کو ایک مخصوص ٹیکے یا راڈ (Al Gun) کے ذریعے مادہ جانور میں منتقل کیا جاتا ہے۔

مصنوئی نسل کشی کےفواؑد

- بیشتراقسام کی جنسی اور متعدی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ - محفوظ کئے گئے عمدہ اوصاف اور تصدیق شدہ سانڈ کے تولیدی مادے کو کئی سال گزرنے کے بعد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ - ایسا تولیدی مادہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں پہلےسےہی معلوم ہو کہ اس کےا ستعمال سے بچھڑا پیدا ہو گا یا بچھڑی۔ - بیرون ملک سے محفوظ شدہ تولیدی مادہ منگوا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مادہ جانور میں جنسی تحریک یا گرمی کے اظہارکی علامات

بالغ گائے اور بھینسوں کے نسل کشی کے موسم میں گرمی کی کیفیت تقریباً ہر 21 دن بعد ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں۔ - جانور دوسرے جانوروں کو سونگھتا ہے اور دوسرے جانوران پر چڑھنے کی کوشش کرتےہیں یااس پردوسرے جانورچڑھنے کی کوشش کرتےہیں۔ - بیرونی جنسی اعضاء پر ہلکی سوزش نمودار ہوتی ہے اور انکی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے۔ - پیشاب والی جگہ سے بے رنگ لیس دار مادہ خارج ہوتا ہےجو تار کی طرح لٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ - جانور بار بار مخصوص آواز یں نکالتا ہے - بے آرامی کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔ - جانور بار بار پیشاب کرتا ہے۔

کراس بریڈنگ/مخلوط نسل کشی

image

دو مختلف نسلوں یا انواع کے جانوروں کا ملاپ کراس بریڈینگ کہلاتا ہے۔مثلاً سایہوال کاجرسی کےساتھ ملاپ۔ اس طریقے سے مختلف نسلوں کی بہترین اوصاف اولاد میں جمع ہو جاتی ہیں اور اولاد کی کارکردگی اپنے والدین کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔

بروسیلوسس

image

یہ ایک ایسی بیماری جو گائے بھینس ،بھیڑ اور بکریوں کو متاثر کرتی ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کاسبب بروسیلاابورٹس نامی بیکٹریاہے ۔متاثرہ جانور کا دودھ بغیر ابالے پی لیا جائے تو یہ بیماری انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔

علامات

image

اسقات حمل(بچہ گرادینا)، کمزور اور مردہ بچوں کی پیدائش،جیر کا وقت پر نہ نکلنا اور نر جانور میں خصیوں کا سوجھ جانا اسکی علامات میں شامل ہیں۔متاثرہ جانورکی اگلی ٹانگوں کے گھٹنےمیں سوجن بھی ظاہر ہوتی ہے۔عمومی طور پر اس بیماری میں مبتلا جانور کے حاملہ ہونے کے بعد پانچویں مہینے کے بعد جانور بچہ گرا دیتے ہیں۔اگر جانور اس بیماری کا شکار ہو جائے تو تقریباً ہر دفعہ پانچویں مہینے کے بعد بچہ گرا دیتا ہے ۔

علاج

image

اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے لیکن وسیع الاثرر اینٹی بائیوٹکس جیساکہ پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین کےساتھ سوزش/سوجن کیلئےکیٹوپروفن یافلونگزن کے ٹیکے لگوائیں ۔

بچاؤ

جب جانور خریدے جائیں تو انہیں 2 سے 3 ہفتے قرنطینہ میں رکھا جائے اگر وہاں کوئی علامات ظاہر نہ ہوں تو ہی جانور کو باقی صحت مند جانوروں کے ساتھ شامل کیا جائے ۔نسل کشی کیلئےہمیشہ اپنےفارم کےنرکااستعمال کریں یامصنوئی نسل کشی کروائیں۔

مادہ جانورکاہیٹ میں نہ آنا/گرمی ظاہر نہ کرنا

وہ دورانیہ ہوتا ہےجس میں جانور نسل کشی کے لئے تیار نہیں ہوتایاگرمی کی کوئی علامت ظاہرنہیں کرتا۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔

علامات

image

متاثرہ جانور میں باقی کوئی بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتی جبکہ جانور صرف جنسی تحریک یا گرمی کی علامات ظاہر نہیں کرتا ۔

علاج

image

خوراک میں منرل مکسچر کا استعمال کریں اورساتھ ساتھ ہارمونزجیساکہ پی جی ایف ٹو ایلفا،جی این آر ایچ ،ایف ایس ایچ یا پی ایم ایس لگائیں۔اگرجانورہارمون لگانےسےبھی گرمی ظاہر نہ کرےتوڈاکٹرسےبچہ دانی چیک کروائیں۔

بچاؤ

جانور کے بچہ دینے کے بعد دو سے تین ما ہ تک انتظار کریں اگر جانور جنسی تحریک یا گرمی ظاہر نہیں کرتا تو کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔جانور کی خوراک متوازن ہو اور اس میں منسل مکسچر کا استعمال ضرور کریں۔

افزائش نسل کو دہرانا /ریپیٹ بریڈنگ/پھرجانا

ایسے جانور جو دو یا دو سے زیادہ بار افزائش نسل کے لئے تیار تو ہوتے ہیں لیکن نسل کشی کروانے کے نتیجے میں حاملہ نہیں ہو پاتے۔عام زبان میں اسے پھِر جانا اور بار بار نیا ہونا بھی کہا جاتا ہے ۔ایسے جانور جوا سکا شکار ہوں تو مویشی پال حضرات کے لئے بڑے معاشی نقصان کا با عث بنتے ہیں۔

اسباب/وجوہات

اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری(ویبریوسس،ٹرپنو سومیسس،سٹیریپٹو کوکس یا سوڈوموناس) یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔

علامات

image

جانور میں بظاہر کوئی بیماری کی علامات نظر نہیں آتی اور جانور گرمی کا اظہار بھی مکمل اور وقت پر کرتا ہےلیکن جب نسل کشی کروائی جاتی ہے تو اسکے 17 سے 24 دنوں کے اندر اندر جانور دوبارہ گرمی کا اظہار کرنا شروع کر دیتا ہے۔بعض اوقات نسل کشی کے 4 سے 5 دن کے اندر خون اور پیپ ملا مواد بھی پھینکنا شروع کر دیتا ہے ۔

علاج

image

خوراک میں منرل مکسچر کااستعمال شروع کردیں اورجب جانوردوبارہ ہیٹ پرآئےتوبیج رکھنےکےدوگھنٹے بعدپروجیسٹیرون کاٹیکہ لگائیں جس سےجانور کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔اگر جانور کم از کم تین دفعہ نسل کشی کے لئے تیار ہو اور حاملہ نہ ہو تو ایسے جانور کو پہلی فرصت میں کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کروائیں۔

بچاؤ

نسل کشی کےدوگھنٹےبعدجانورکوپروجیسٹیرون کاٹیکہ لگائیں اورخوراک میں منرل مکسچرکااستعمال ضرورکریں

اسقات حمل/بچہ گِرادینا

image

حاملہ جانور اگر دورانِ حمل کسی بھی پیچیدگی کا شکار ہو جائے تو وہ وقت پورا ہونے سے پہلے بچہ گِرا دیتا ہے جسے اسقاتِ حمل یابچہ گِرادینا کہتے ہیں۔

اسباب/وجوہات

image

اس کی کافی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں کسی بیماری کی وجہ جیساکہ بروسیلوسس،سالمونیلوسس یالسٹیریوسس جبکہ کمزوری یاچوٹ لگنےسےبھی جانوربچہ گِرادیتاہے۔

علامات

image

حاملہ جانور دورانِ حمل کسی بھی وقت اسقاتِ(بچہ گِرادینا) حمل کا شکار ہو سکتا ہے۔کبھی کبھا ر اسقاتِ حمل کے ساتھ تیز بخار ،منہ اور ناک سے رال ٹپکنا اور جانور کا بے چین ہونا بھی دیکھا جا سکتا ہے

علاج

image

اگرجانوربچہ گِرادےتوفوراً پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین کےساتھ سوزش کیلئےکیٹوپروفن،فلونگزن یاپائروکسی کیم کے ٹیکے لگوائیں ۔بچہ دانی میں یوٹینول کی گولیاں رکھوائیں ۔

بچاؤ

حاملہ جانورکی صحت کا خاص خیلا رکھیں اس کی خورک میں ونڈےاورمنرل مکسچرکااستعمال ضرورکریں۔

جانور کا پیچھا مارنا/پرولیپس

image

جانور کا بچہ دینے سے پہلے یا بعد میں اکیلی رحم یا اسکے ساتھ مکمل بچہ دانی کا جسم سے باہر نکلنا جانور کا پیچھا مارنا کہلاتا ہے۔حاملہ جانوروں میں پیچھا مارنے کی شکایت زیادہ آتی ہے۔

اسباب/وجوہات

کیلشیم کی کمی، بچے کی مشکل پیدائش،قبص،جیر کا نہ نکلنا اور زیادہ تر ان جانوروں میں جنہیں ایک ہی جگہ پر باندھ کر رکھا جاتا ہے پیچھا مارنے کی شکایات زیادہ آتی ہیں۔

علامات

image

درجہ حرارت کا نارمل سے کم ہو جانا،جسمانی کمزوری،جانور کا نیچے بیٹھ جانا،جیر کا بچہ دانی کے ساتھ جڑا ہونا،رحم کا سوج جانا اور کبھی کبھار جانور نیچے لیٹ جانا اسکی علامات میں شامل ہیں۔کبھی کبھا ر جانور میں پیچھا مارنا نامکمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور اگر نیچے بیٹھ جائے تو رحم باہر آجاتا ہے اور جب جانور کھڑا ہو تو واپس اندر چلا جاتا ہے۔

علاج

image

جب جانور پیچھا مارے تو اسے گیلے تولیےسے صاف کریں تاکہ جراثیم نہ لگیں اور سوکھنے سے بھی بچ جائے۔ باہر نکے ہوئے حصے کو نارمل سیلائین سے دھویا جائے اور ہاتھوں کی مدد سے احتیاط سے اندر ڈالا جائے۔ آکسی ٹوسین 2 سی سی گوشت میں لگانے کے ساتھ کیلشیم کی ڈرپ لگوائیں ۔ وسیع الاثرر اینٹی بائیوٹکس جسای کہ پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین میں سے کوئی ایک اورساتھ میں سوزش کیلئےکیٹوپروفن کےٹیکےلگائیں3دن تک لگائیں۔

بچاؤ

بچاؤ کے لئے حاملہ جانوروں کی خوراک اورصحت کا خاص خیال رکھیں۔اگرجانورکوقبض ہوجائےتوفوری اسکاعلاج کریں۔ایک دفعہ پیچھامارنےکےبعدجانورکورسی یاکپڑےکوباریک کرکےباندھ دیں تاکہ جانورکےزورلگانےسےرحم یابچہ دانی باہرنہ نکلے۔

بیرونی کِرم یابیرونی کیڑے

image

یہ وہ کیڑے ہیں جو جانوروں کے جسم کے باہر جِلد پر موجود ہوتے ہیں۔یہ جانور کا خون چوستے ہیں جس کی وجہ سے جانور کمزور ہو جاتا ہے ۔جانور کے جسم پر کھجلی اور جلن ہوتی ہےجس کی وجہ سے جانور اپنا جسم دیواروں اور درختوں کے ساتھ رگڑتا ہےاور خود کو زخمی کر لیتا ہے۔ زیادہ تر جانوروں کی جِلد کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور اس میں سوراخ ہو جاتے ہیں جو چمڑے کے معیا رکو خراب کردیتے ہیں۔

جوئیں

image

جوئیں جانوروں کا خون چوستی ہیں انہیں کمزور کر دیتی ہیں۔جانور بے چین رہتا ہے اور انکی پیداوار میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

چیچڑ

image

چیچڑ جانوروں کاخون چوستے ہیں اور میں خطرناک بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں جن میں ببیزیوسس،تھلیروسس ،لمپی اسکن اور کانگو وائرس وغیرہ شامل ہیں۔

پِسو

image

یہ جانوروں کی جلد کی نیچے سرنگیں بنا کے رہتے ہیں اور انہی میں انڈے بھی دیتے ہیں۔جانور انتہائی بے چین رہتا ہے اپنے جسم کو دیواروں سے رگڑتا ہے اور ٹکریں مارتا ہے۔جانور خود کو بھی زخمی کرتا ہے اور دوسرے جانوروں کو بھی چوٹ پہنچا سکتا ہے۔

مچھر

image

مچھر جانوروں میں تین روزہ بخاریاایفی میرل فیوراورلمپی اسکن بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔

بیرونی کیڑوں کاتدارک

image

جانور کو جہا ں خارش ہو وہاں سے بال اتار کراسے صابن اور نیم گرم پانی سے دھویں اور اسے ایک حصہ ویزلین اور ایک حصہ گندھک ملا کرمرہم لگائیں۔ پاؤڈر(ٹرائیکلوفان)کا محلول بنا کر استعمال کریں۔کیڑے مار زہر(ڈیلٹامیتھرین،سائپرمیتھرین اورلیمڈا سائیلوتھرین)کا10فیصد محلول بنا کرجانوروں کے جسم پر اسپرے کریں یا کوئی کپڑا ڈبو کرلگائیں اس دوران جانور کو گَلا تنگ کر کے باندھ دیں تاکہ جانور محلول کو چاٹ نہ سکے۔آئیورمیکٹین کاٹیکہ بھی لگایاجاسکتاہے۔حاملہ جانورکوٹیکہ ہرگِزنہ لگائیں۔

اندرونی کیڑے

image

ایسے کیڑے جو جانوروں کے جسم کے اندر مختلف اعضاء میں پائے جاتےہیں اور انہیں نقصان پہنچاتے ہیں انہیں اندرونی کیڑےکہاجاتاہے۔ ### اندرونی کیڑوں کی اقسام ان کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں جِگر کے کِیڑے،پھیپھڑوں کے کیڑےاور کدودانے یا آنتوں کے کیڑے شامل ہیں۔ان کے علاوہ کچھ کیڑے آنکھوں اور دِل میں پائے جاتے ہیں۔

جِگر کے کِرم یا کیڑے

image

یہ کیڑے متاثرہ جانوروں کے جِگر اور پِتے کی نالی میں سوزش کا باعث بنتے ہیں۔تعداد میں کثرت کے باعث نالی بند ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے یرقان ہو جاتاہے۔جانور کمزور اور سست ہو جاتا ہے۔متاثرہ جانور کے جوڑوں پر سوزش ہو جاتی ہے۔ ### علاج اوربچاؤ جِگرکے کیڑوں کے علاج کے لئے آکسی کلوزانائیڈ،لیوامی سول یا ٹرکلا بینڈازول میں سےکسی ایک دوا کا استعمال کریں۔جانوروں کو تقریباً ہر تین ماہ بعد اندرونی کیڑےمار ادویات کا استعمال لازمی کریں۔

پھیپھڑوں کے کِرم یا کیڑے

image

بدہضمی،ناک اور منہ سے ریشے اور لیسدار مادے کا اخراج ،سانس لینے میں دشواری ،نمونیہ ،دست اور خون میں کمی پھیپھڑوں کے کِرموں یا کیڑوں کے حملے کی علامات ہیں۔ ### علاج اور بچاؤ پھیپھڑوں کے کیڑوں کا حملہ ان جانوروں میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں دن میں کم ازکم ایک وقت میں چرایا جاتا ہے لہٰذاانہیں فن بینڈازول،آکسفینڈازول یاالبینڈازول میں سےکوئی ایک دوا2ماہ میں ایک دفعہ ضرور استعمال کرواتے رہیں۔

کدودانے/آنتوں کے کیڑے

image

یہ کیڑے زیادہ ترجانوروں کی آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔عمومی طور پر تھوڑی بہت تعداد میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں لیکن اگر انکی تعداد زیادہ ہو جائے تویہ جانوروں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ہاضمےکی خرابی،اسہال،خون کی کمی،کمزوری اور بعض اوقات جگری کِرموں سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ### علاج اوربچاؤ علامات ظاہر ہونے پر فن بینڈازول،آکسفینڈازول یاالبینڈازول میں سےکوئی ایک دوا استعمال کریں۔آئیورمیکٹین کےٹیکےبھی لگوائےجاسکتےہیں۔بچاؤ کے لئے اپنے تمام جانوروں کو تقریباً ہر تین ماہ بعد حفاظت کے طور پر کِرم کُش ادویات لازمی استعمال کریں۔

مہرو مکھی

image

یہ زرد رنگ کی مکھی ہے جسے عام طور پر ''بُلیارے والی مکھی''کے نام سے جانا جاتا ہے۔جسامت کے اعتبار سے یہ شہد کی مکھی جتنی ہوتی ہے۔یہ مکھی جانوروں کی کھال میں سوراخ کر کے اسے نقصان پہنچاتی ہے۔یہ مکھی پاکستان کے پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔

پہچان

image

اس مکھی کی لمبائی 13 سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔اسکے سر اور جسم کے اگلے حصوں کا رنگ سفیدی مائل زرد ہوتا ہے۔پیٹ پر ہلکے زرد اور درمیانی حصے میں گہرےبھورےجبکہ جسم کے پچھلے حصوں پر پیلے رنگ کے بال پائے جاتے ہیں۔

نقصانات

image

یہ مکھی جانوروں کے لئے جان لیوا تو نہیں ہےلیکن بڑے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔یہ متاثرہ جانوروں کی کھال میں سوراخ کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ان سے حاصل ہونے وال چمڑا خراب ہو جاتا ہے جو لوکل مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے اور غیر ممالک میں اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ مکھی کے حملے کی وجہ سے متاثرہ جانوروں کے دودھ کی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔

علاج

image

علامات ظاہرہونےپرمتاثرہ جانورکوآئیورمیکٹین کاانجکشن لگائیں۔

بچاؤ

image

اس مکھی کا حملہ جنوری سےلیکر مئی تک زیادہ رہتا ہے لہٰذا بچاؤ کے لئے اپنے باڑے اور اس کے اردگردٹرائیکلورفان یاسائپرمیتھرین کا10فیصد محلول بنا کر اسپرے کریں اور جانوروں کو باندھ کراس سے نہلائیں

رہائش

image

گھریلوسطح پربھینسوں کی پیداواراوربہترصحت کےاصول کیلئے رہائش کا مناسب اور معقول انتظام ہونا لازمی ہے۔

مویشی خانےکارُخ

image

رہائش کیلئے ہوادارمویشی خانے کی تعمیر اس انداز سے کی جائے کے اس کا رخ لمبائی میں شرقاًغرباًاورچوڑائی شمالاًجنوباً ہوناچاہیے تاکہ موسم گرما میں بھینسیں گرمی سے متاثر نہ ہو سکیں۔این

مویشی خانےکیلئےجگہ کی ضرورت

image

عمومی طور پر ایک بھینس کیلئے40مربع فٹ چھتی ہوئی اوراس سے دوگنا کھلی ہوئی جگہ ضرورت ہوتی ہے۔پینےکیلئےتازہ پانی کیلئےاگرحوض بنا دیا جائے تو بہتر ہے جبکہ پلاسٹک یا دھاتی برتن بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔مویشی خانہ ہوادار بنانے کیلئے کم ازکم2کھڑکیاں ہونی چاہیں اورایک اگزاسٹ پنکھا لازمی لگانا چاہیے۔روشنی کیلئےمویشی خانے میں 3سے4 بلب لازمی لگائیں۔

مویشی خانےکی تعمیر

image

اینٹوں کےستون کھڑےکرکےلوہےکےگارڈر،بانس یالکڑی کے بالےڈال کرچھت ڈال دیں۔مویشی خانےکافرش اوردیواریں پکی ہوں اورفرش کی ڈھلوان کھرلی کی مخالف سمت میں ہونی چاہیے۔فرش کے ختم ہونے پر ایک پختہ نالی بنا دیں تاکہ فضلات اورپانی کی نکاسی آسانی سےہوسکے۔چھت کی اونچائی15 سے20فٹ تک ہونی چاہیے۔کھرلی کی چوڑائی2فٹ اوراونچائی2.5فٹ موزوں ہے۔

کمرشل پیمانےپرہاؤسنگ کی اقسام

image

جانوروں کی رہائش یا ہاؤسنگ کی تین اقسام: 1. فری سٹال ہاؤسنگ 2. ٹائی سٹال ہاؤسنگ 3. لوز سٹال ہاؤسنگ **نوٹ:کامیاب ڈیری فارمنگ کے لئے فری سٹال شیڈ بنانا زیادہ موزوں ہے۔**

فری سٹال ہاؤسنگ/رہائش

image

اس قسم کا شیڈ کامیاب جدید ڈیری فارمنگ کے لئے موزوں ترین ہے۔ اس سسٹم میں جانوروں کو دودھ دوہنے کے وقت کے علاوہ ہر وقت آزاد رکھا جاتا ہے۔ جانور کے آرام کے لئے مخصوص سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ جانور آزاد ہوتا ہے ، جب وہ چاہے گھومے پھرے اور جب چاہے سٹالز میں آرام کرے۔

1.خوراک کی جگہ یاکُھرلی

image

اس رہائشی نظام کے لئے درمیان سے 14 سے 16 فٹ جگہ چھوڑتے ہوئے شیڈ کی جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ درمیان میں چھوڑی گئی جگہ کی پیمائش کا انحصار خوراک ڈالنے والی ٹرالی کی چوڑا ئی پر ہوتا ہے۔ اس درمیانی جگہ کے دونوں طرف 2.2 فٹ جگہ جانور کے سامنے خوراک ڈالنے کے لئے مختص کی جاتی ہے۔

2.سٹالز/بیٹھنےکی جگہ

image

اس گھومنے پھرنے والی جگہ سے پیچھے آرام کے لئے ایک یا ایک سے زائد قطاروں (جانوروں کی تعداد کی بنیاد پر) پر مشتمل سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ سٹا ل کی لمبائی 7 سے 8 فٹ ، چوڑائی 4-3 فٹ اور اونچائی4 فٹ رکھی جاتی ہے جبکہ سٹال کا فرش گھومنے پھرنے والی جگہ کے فرش سے 4 سے 6 انچ اونچا ہوتا ہے۔

3.سٹالزکی تعداد

image

جہاں تک جانوروں کی تعداد کے مقابلے میں سٹالز کی تعداد کا تعلق ہے تو سٹالز کی تعداد جانوروں کی تعداد کے مقابلے 10 فیصد زیادہ ہونی چاہئے مثلاً 100 جانوروں کے لئے 110 سٹالز بنائے جائیں گے۔

4.پانی کی کُھرلی

image

سٹالز کو پانی کے چھینٹوں سے بچانے کے لئے پانی والی کھرلی اور اس سے منسلک سٹال کے درمیان 4 فٹ اونچی دیوار بنانی چاہئے۔ پانی والی کھرلی کی جگہ پانی والا خود کار پیالہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جب جانور اپنا منہ پیالے میں ڈالتا ہے تو یہ پانی سے خود بخود بھر جاتا ہے۔

5.شیڈکی اونچائی

image

شیڈ کی انچائی درمیان سے 18 سے 20 فٹ جبکہ کناروں سے 12 سے 14 فٹ رکھنی چاہیئے۔

لوزسٹال ہاؤسنگ/رہائش

image

اس قسم کے رہائشی نظام میں جانور آزاد رہتے ہیں۔ انہیں کھلے باڑے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سائے کے لئے ایک ڈھلوانی چھت بنائی جاتی ہے جس کے نیچے درمیان میں خوراک والی کھرلی تعمیر کی جاتی ہے۔ کھرلی کے دونوں طرف دو، دو میٹر لمبا پکا فرش بنایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے پانی کا حوض تعمیر کیا جاتا ہے

جگہ کی ضرورت

image

جانوروں کی رہائش کیلئےبنیادی ضرورت اوپرٹیبل میں دی گئی ہیں ۔

ٹائی سٹال/جانوروں کوباندھ کےرکھنا

image

اس قسم کے رہائشی نظام میں جانوروں کو باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ یہ پرانا طریقہ کارہے۔ہر جانور کے لئے الگ الگ سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ جہاں پر جانوروں کو خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی ہوتی ہے۔ دو یا زیادہ قطاریں بنائی جا سکتی ہیں جن میں جانوروں کے آمنے سامنے یا مخالف سمت میں ہو سکتے ہیں۔

1۔شیڈ کی تعمیر

image

- ٹائی سٹال کے لئے شیڈ کی پیمائش اس طرح سے رکھنی چاہئے کہ۔ - شیڈ کی اونچائی درمیان سے 18 سے 20 فٹ اور اطراف سے 12 سے 14 فٹ

2۔ سٹال کی پیمائش

image

• سٹال کے پیمائش درج ذیل رکھنی چاہئے۔ o لمبائی 6سے7 فٹ o چوڑائی4 فٹ o اونچائی4 فٹ

گھریلوپیمانےپرخوراک

image

گھریلوپیمانے پر کوئی خاص قسم کی خوراک تو نہیں کھلائی جاتی لیکن اتنا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ جانور کی جسمانی اور پیداواری ضرورت پوری ہوتی رہے۔

خوراک کےذرائع

image

گھریلوپیمانےپرخوراک کےعمومی طورپردوطرح کےذرائع ہوتےہیں۔ 1۔ بھینسوں کودن میں چھوڑدیاجاتاہےجوسارادن گھوم پھرکرجوبھی ملتاہےکھالیتی ہیں اورشام کوواپس گھرآجاتی ہیں۔ 2۔بھینسوں کوباہرکھلاچھوڑنےکی بجائےجوبھی چارہ یاراشن مہیاہوتاہےوہ گھرمیں ہی کھلایاجاتاہے۔

خوراک کی اقسام

image

بنیادی طورپرخوراک کوتین حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔جن میں سبزچارہ،خشک چارہ یابھوسہ اورراشن یاونڈاشامل ہیں۔

3۔خوراک کی ضرورت

image

جسمانی وزن کے10فیصدکےحساب سےانکے لئے سبزچارے اور جبکہ1فیصدکیلئےمتوازن راشن کا تعین کریں۔اگرسبزچارہ وافرمقدارمیں موجودنہ ہوتوبھوسہ یاتوڑی مکس کر کےکھلائیں۔**یادرکھیں جانوروں سےبہتراوراچھی پیداوارکیلئےمتوازن راشن یاونڈاکھلانالازمی ہے۔**

کمرشل پیمانےپرخوراک

image

کمرشل پیمانےپربھینسیں پالنےکابنیادی مقصدجانوروں سےزیادہ سےزیادہ پیداوارکاحصول ہوتاہےاس لئےخوراک کی مقداراورمعیارانتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

خوراک کی اقسام

image

کمرشل پیمانےپربھینسوں کی خوراک کوتین اقسام میں تقسیم کیاجاتاہے۔

سبزچارہ/سائیلج

image

سبز چارہ جات میں چارہ ، خودرو پودے، گھاس پھوس، گنے کی فصل کے ٹانڈے اور درختوں کے پتے وغیرہ شامل ہیں۔اہم چارہ جات میں برسیم، لوسرن، شفتل اورسویا بین ،مکئی، جوار، باجرہ اور جئی وغیرہ شامل ہیں۔

خُشک چارہ

image

خشک چارہ جات میں ہئے/ھے، توڑی، تکے وغیرہ شامل ہیں۔عام طور پر ھےمختلف چارے برسیم، لوسرن، جوار، باجرہ، جئی اور گھاس وغیرہ سے بنائی جاتی ہے۔ پاکستان میں گندم کی توڑی یا بھوسہ ، چاول کی توڑی، جو کی توڑی، مکئی کے لئے تکےاور جوار کے تکے وغیرہ خشک چارہ جات کےطورپرمویشیوں کوکھلائےجاتےہیں۔

ونڈا/فیڈ/کنسنٹریٹ

image

مویشیوں کوخوراک میں اگرصرف سبزاورخُشک چارہ کھلائے جائیں توان کی جسمانی اورپیداواری ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں جنہیں اضافی متوازن راشن/فیڈ/ونڈاکھلانےسےپوراکیاجاتاہے۔ونڈایافیڈزرعی اجناس (گندم،باجرہ،مکئی وغیرہ)اورصنعتی باقیات(کھل بنولہ،چوکر،،چاول کی پھک وغیرہ)پرمشتمل ہوتاہے۔

ٹی ایم آر(ٹوٹل مکسڈراشن)

image

اس قسم کا چارہ جس میں سبز چارہ ،خشک چارہ اور ونڈا جانور کی ضرورت کے مطابق متوازن انداز میں مکس کر کے کھلایا جاتا ہےاسے ٹوٹل مکسڈراشن کہا جاتا ہے۔ٹوٹل مِکسڈ راشن کی تیاری میں 50 فیصد حصہ سبز چارے اور 50 فیصد حصہ خشک چارے پر مشتمل ہوتا ہے۔50 فیصد خشک چارے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ایک حصہ بھوسہ/توڑی اور دوسراحصہ ونڈے یا فیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔

نومولودبچھڑیوں/وچھیوں کی دیکھ بھال

image

نومولود کٹڑیوں/کٹیوں کی 50 فیصد اموات انکی دیکھ بھال میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔

نومولود کوماں سےالگ نہ کریں

image

پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں سے الگ نہ کریں تاکہ وہ اسے چاٹے اور اسکا بچے سے تعلق قائم ہو البتہ اگر ماں بچے کے پاس نہیں آرہی اور توجہ بھی نہیں دے رہی تو اسے الگ کر کے تولیے سے صاف کریں۔

ناڑکوکاٹنا

image

بچے کی ناڑ کو 3 سے 6 انچ تک کاٹ دیں اور اس پر پائیوڈین یا ٹنکچر آئیوڈین لگائیں تاکہ اس پر زخم نہ بنے۔ناڑ پر مٹی اور گندگی لگنے سے بچائیں۔

بوہلی،نارا یاپہلادودھ

image

بچے کے پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر اندر 10 فیصدجسمانی وزن کے لحاظ سے بوہلی یا نارا پلائیں جو اسے بیماریوں سے بچاؤ کے لئے قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔بعض اوقات کسان بھائی جانور کی جیر نکلنے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر بوہلی پلاتے ہیں جو انتہائی غلط طریقہ کار ہے لہٰذا بوہلی لازمی طور پر پلا دیں چاہے جیر نکلی ہو یا نہ نکلی ہو۔

دودھ پینے والی کٹڑیوں کی خوراک اوران کی دیکھ بھال

image

دودھ پینےوالی کٹڑیوں کی خوراک اوردیکھ بھال انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

دودھ کامتبادل یامِلک ریپلیسر

image

اگر ماں کا دودھ وافر مقدار میں موجود ہو تو دودھ ہی پلائیں البتہ آج کل دودھ کے متبادل کے طور پر مِلک ریپلیسر کا استعمال کیا جاتا ہے۔جوان کی جسمانی ضرورت کےمطابق بنایاجاتاہے۔مِلک ریپلیسرکےاستعمال سےدودھ کی بچت بھی ہوتی ہےجسےبیچ کر منافع کمایاجاسکتاہے۔

خوراک/فیڈ/کاف سٹارٹر

image

بڑھوتری میں اضافےکیلئے 1سے2 ہفتے کی عمر سےدودھ کے ساتھ ساتھ کٹڑیوں/کٹیوں کو ونڈا یاکاف سٹارٹربھی کھلائیں۔کٹڑیوں/کٹیوں کے ونڈے یاکاف سٹارٹر میں پروٹین 18 سے20 فیصداور توانائی80 فیصدتک ہونی چاہیے۔

دودھ اورخوراک کاشیڈول

image

کٹڑیوں/کٹیوں کی بہتربڑھوتری کیلئےاوپرشیڈول میں دی گئی ہدایات کومدِنظررکھیں۔

بچھڑیوں/وچھیوں کادودھ چھڑانا

image

بچھڑیوں/وچھیوں کا دودھ چھڑانا انکی جسمانی بڑھوتری میں اہم کردار کا حامل ہے۔ اگر کٹیاں/کٹڑیاں کا دودھ وقت پر نہ چھڑایا جائے تو یہ مکمل طور پر چارا کھانے پر نہیں آتی جس کی وجہ سے انکی بڑھوتری بہت آہستہ ہو جاتی ہےجو آخر کار دیر سے سن ِبلوغت کو پہنچتی ہیں ۔دودھ چھڑانے کے لئےمختلف قسم کےعوامل اپنائے جاتے ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں

خوراک کےلحاظ سے

image

کٹیوں/کٹڑیوں/جھوٹیوں جب خشک خوراک یا ونڈا تقریباًایک کلو تک کھانا شروع کر دیں تو انکا دودھ چھڑا دیں۔

عمرکےلحاظ سے

image

کٹیوں/کٹڑیوں/جھوٹیوں کی عمر 8 سے 10 ماہ کے درمیان ہو تو انکا دودھ چھڑوا دیں۔

جسمانی سائزکےلحاظ سے

image

اگر کٹیاں/کٹڑیاں /جھوٹیاں صحت کے اعتبار سےموٹی تازی ہوں تو ان کا دودھ 6 سے 7 ماہ کی عمر میں بھی چھڑوا دیں۔

دودھ چھڑانے کے طریقے

دودھ چھڑانے کے لئے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف قسم کے طریقے اپنائے جاتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

دودھ اچانک بند کر دینا

بعض اوقات اچانک دودھ پلانا بند کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے کٹیاں/کٹڑیاں/جھوٹیاں مکمل طور پر خوراک پر آجاتی ہیں۔اسکا نقصان یہ ہوتا ہے اچانک دودھ بند ہونے کی وجہ سے خوراک کھانا کم کر دیتی ہیں اور کمزور ہو جاتی ہیں۔

دودھ آہستہ آہستہ بند کرنا

دودھ کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کرتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دودھ مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے ۔یہ طریقہ نہایت موزوں ہے لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔

ایک وقت کا دودھ بند کر دینا

دودھ چھڑانے کے لئے بعض اوقات ایک وقت کا دودھ بند کر دیا جاتا ہے اورجس وقت میں دودھ دیا جاتا ہے اسے بھی دن بدن کم کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ مکمل بند کر دیا جاتا ہے۔

بچھڑیوں کی دیکھ بھال

image

جھوٹیوں کوجب دودھ چھڑایا جاتا ہے اس وقت سے لیکرجب تک یہ حاملہ ہو کے بچہ نہیں دے دیتی خاص توجہ دینے کی خاص ضرورت ہوتی ہے۔عمومی طور پر لوگ اس عمر میں ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سےیہ کمزور رہ جاتی ہیں اوردیر سےبلوغت کو پہنچتی ہیں۔

ونڈا/راشن/متوازن خوراک

image

بہتربڑھوتری کیلئےجھوٹیوں کوسبزچارےکےساتھ ساتھ روزانہ کم ازکم1کلوگرام ونڈا یا راشن لازمی کھلائیں۔

اندرونی اوربیرونی کیڑوں کیلئےدوا

image

جھوٹیوں کی بڑھوتری میں اضافےکیلئےانہیں ہر2سے3ماہ کےبعداندرونی اوربیرونی کیڑوں سےبچاؤکیلئےالبنیڈازول کاسیرپ پلائیں یاآئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

جھوٹیوں کولمپی اسکن،منہ کھر،گل گھوٹو اورچوڑےماربیماری سےبچاؤکی حفاظتی ویکسین لازمی لگوائیں۔

دودھ دینے والے جانوروں کی دیکھ بھال

image

دودھیل جانوروں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئےضروری ہے کہ انکو متوازن خوراک کے ساتھ ساتھ بہتر دیکھ بھال فراہم کی جائے۔

خوراک

image

انہیں بہترین معیار کا سائیلج یا ہئے /ھےکھلانا چاہیے۔تقریباًہر 3 لیٹر دودھ کے مقابلے میں 1 کلو ونڈا لازمی کھلائیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

تمام دودھیل جانوروں کومنہ کھر،گل گھوٹو اورلمپی اسکن جیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔

جانوروں کا دودھ خشک کرانے کی اہمیت

image

حاملہ جانوروں کے حمل کے آخری دو ماہ میں انکا دودھ خشک ہو جاتا ہے اور اگر نہ ہو تو خود کیا جاتا ہے۔دودھ خشک کرنےکا مقصداور اسکی اہمیت مندرجہ ذیل دی گئی ہے۔ - بڑھتے ہوئے بچے کو غذائی اجزاء کی مناسب مقدار میں فراہمی کوممکن بنانا ۔ - نئےبچے کی پیدائش کے بعد اگلی دودھ کی پیداوار میں اضافے کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔

دودھیل جانوروں کوخشک کرنےطریقے

image

دودھیل جانوروں کادودھ خشک کرنےکےطریقےمندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں

اچانک دودھ دوہنابند کردینا

اس طریقےمیں جانوروں کااچانک دودھ دوہنابند کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے جانورمکمل طور پرخُشک ہوجاتاہے۔اسکا نقصان یہ ہوتا ہے اچانک دودھ بند ہونے کی وجہ سے جانوردباؤکاشکارہوسکتاہےاوراسی وجہ سےخوراک کھانا کم کر دیتاہے اور کمزور ہو جاتاہے۔

آدھادودھ دوہنا

اس طریقےمیں حیوانےسےآدھادودھ نکال لیاجاتاہےاورآدھااندرچھوڑدیاجاتاہےاورجانور آہستہ آہستہ دودھ کی پیداوارکم کرتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دودھ مکمل طور پرخشک ہو جاتا ہے ۔یہ طریقہ نہایت موزوں ہے لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔

ایک وقت کا دودھ بند کر دینا

اس طریقےمیں ایک وقت کا دودھ دوہنا بند کر دیا جاتا ہے اورجانورکی پیداوارکم ہوناشروع ہوجاتی ہےاورآہستہ آہستہ خُشک ہوجاتاہے۔اس طریقےمیں دودھ خُشک کرنےمیں کافی وقت لگاجاتاہے۔

دوائی کےذریعےدودھ خُشک کرنا

بھی دودھ خُشک نہ ہوتوتھنوں کے ذریعےالباڈرائی دوائی (Alba Dry) بھی چڑھائی جاتی ہے جو جانور کا دودھ خشک کر دیتی ہے۔

خشک جانوروں کی دیکھ بھال

image

عمومی طور پر اگر ایک جانور دودھ نہیں دے رہا تو اسے خشک کہا جاتا ہے لیکن خصوصی طور پر یہ اس جانور کیلئے استعمال کیا جاتا جوحاملہ ہو اور اپنا دودھ دینے کا دورانیہ مکمل کر چکا ہواوراگلے بچے کی پیدائش کیلئے تیار ہو

خُشک ہونےکادورانیہ

image

دودھیل جانور کیلئے خشک دورانیہ تقریباً60 سے 150 دن مناسب سمجھا جاتا ہےمگرہمارے لوکل جانوروں میں خشک دورانیہ180 سے250 دن تک جا سکتا ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔

خُشک جانوروں کی خوراک

image

جانور کے دودھ کے دورانیے کے اختتام پر جانورکی جسمانی صحت کو مدِنظررکھتے ہوئےاس کی خوراک کا تعین کیا جاتا ہے۔اگر جانور بہت کمزور ہے تو اسے اضافی ونڈاکھلایا جائے اور اگر جانوربہت فربہ ہے توونڈا کھلانا بند کر دیا جائےجبکہ اگر جانور کی صحت درمیانی ہے تو جو خوراک کھلائی جارہی ہے اسے جاری رکھا جائےاس میں تبدیلی نہ کی جائے۔

منرل مکسچرکااستعمال

image

اگر خوراک میں اضافی طورپرنمکیات/منرل مکسچر کھلایاجارہا ہے تو اسے خشک دورانیےکی شروعات پر بند کر دیا جائےجبکہ بچہ دینےسےایک ہفتہ پہلے سے دوبارہ کھلاناشروع کردیاجائے۔

احتیاط

image

حاملہ خشک جانوروں کو چیچڑوں سے بچاؤ کیلئےآئیورمیکٹین کا ٹیکہ ہرگِزنہ لگوائیں۔

نربچھڑوں کوفربہ کرنا

image

گھریلوسطح ہو یاکمرشل، جانوروں کو پالنے کے مقاصد دو ہی ہیں جن میں پہلا مقصد دودھ اور دوسرا گوشت کا حصول ہے۔گوشت کے مقصد کیلئےجانور پالنےکوفربہ کرنا کہا جاتا ہے۔عمومی طور اس مقصدکیلئے نر جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے

انتخاب

image

جانوروں کی نسل،یومیہ شرح بڑھوتری اوربیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مدِنظر رکھتےہوئےانتخاب کیا جائے۔نیلی راوی،کُنڈی اورازاخیلی کےصحت مند نر جانوروں کوفربہ کرنے کیلئے منتخب کریں۔

انتخاب کیلئےعمراوروزن

image

فربہ کرنے کیلئےجانوروں کی خریداری وزن اور عمر دونوں لحاظ سےکی جاسکتی ہے۔وزن کے لحاظ سے خریداری کرنی ہو تو80سے90کلوگرام کے نر جانوروں کو انتخاب کریں جبکہ اگرعمر کے لحاظ سےانتخاب کرنا ہو تو10سے15ماہ ہونی چاہیے۔

فربہ کرنےکادورانیہ

image

عمومی طورپرکٹوں یاکٹڑوں کو3ماہ کیلئےفربہ کیا جاتاہےاگراس سےزیادہ عرصےکیلئےفربہ کیا جائےتویہ معاشی طورفائدہ مندنہیں رہتا۔

اندرونی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

image

فربہ کرنے والے جانوروں کوخریداری کے بعد پہلے2سے3دن کے دوران پیٹ کے کیڑوں کیلئےالبینڈازول،فن بینڈازول،لیوامیسول میں سےکوئی ایک دوالازمی طور پرپلائیں اوراسے1سے1.5ماہ کے بعددوہرائیں۔اس مقصدکیلئےآئیورمیکٹین کاٹیکہ بھی لگایاجاسکتاہے۔

خوراک

image

فربہ کیےجانےوالےکٹڑوں کو10فیصدجسمانی وزن کےمطابق تازہ سبزچارےکےساتھ 1کلوگرام گندم یامکئی کادلیہ اور1کلوگرام گوشت میں اضافےکیلئےونڈاکھلائیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

فربہ کیےجانےوالےتمام جانوروں کومنہ کھر،لمپی اسکن اورگل گھوٹوجیسی خطرناک اورجان لیوا بیماریوں سےبچاؤکی حفاظتی ویکسین لازمی طورپر لگوائیں۔

شناخت یاپہچان

image

جانوروں کی پیدائش کے بعد پہلا مرحلہ وہ ہوتا ہے جس میں جانور کو کوئی نام یا نمبر دیا جاتا ہے جو تمام عمر اسکی پہچان یا شناخت کا باعث ہوتا ہے۔

کان پرٹیگ لگانا

image

یہ طریقہ سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔کانوں پر لگائے جانے والے ٹیگ اسٹیل،ایلومینیم،نائلن اور پلاسٹک وغیرہ کے بنے ہوئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ٹیگ کو لگانے کے لئے ایک آلہ استعمال کیا جاتا ہےجسے ٹیگ ایپلیکیٹر کہا جاتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے کان میں سوراخ کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے اسے معمولی سا درد محسوس ہوتا ہے۔

کھال کو داغنا یا نشان لگانا

image

یہ طریقہ سب سے پرانا ہے جس میں جانور کے جسم پر ہمیشہ رہنے والا نشان لگایا جاتا ہے۔یہ نشان یا داغ کوئی نمبر ہو سکتا ہے اور انگریزی یا اردو کا کوئی حرف بھی ہو سکتا ہے۔نشان یا داغ لگانے کے لئے لوہے کی سلاخ گرم کر کے لگائی جاتی ہے۔

گلے میں لٹکانے کے لئے پٹہ یا چین

image

یہ طریقہ عارضی ہوتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے گلے میں پٹا لٹکایا جاتا ہےجس پر خصوصی نام یا نمبر لکھا ہوتا ہے۔اسکا شمارپہچان کے عارضی طریقوں میں ہوتا ہے۔لٹکایا ہوا پٹا دیرپا نہیں ہوتا کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔جانور کی عمر بڑھنے کے ساتھ اسکی گردن کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے جس کے مطابق پٹے یا چین کو ڈھیلا یا کھلا کرنا پڑتا ہے۔جانور کے لڑنے کی وجہ سے یا چین/پٹے پرانےہو جانے کی وجہ سےٹوٹ کے گر جاتے ہیں ۔

ٹیٹوز/جسم پر گود کر نشان لگانا

image

اس طریقے کے مطابق جانور کے جلد پر سوئیوں کی مدد سے جلد میں کوئی حروف تہجی یا نمبر لکھا جاتا ہے اسکے بعد اس پر نہ مٹنے والی سیاہی لگائی جاتی ہے ۔اس مقصد کے لئے ایک آلہ (ٹیٹومشین)استعمال کیا جاتا ہے جس میں سوئیاں لگی ہوتی ہے۔یہ نشان عموماًکان کے اندرلگایا جاتا ہے۔یہ طریقہ بھی کافی پرانا ہوگیا ہے اور آج کل بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔

سینگوں کی بڑھوتری کو روکنا

image

کٹیوں/کٹڑیوں میں سینگوں کی بڑھوتری کو روک دیا جاتا ہے تاکہ سینگ بڑے نہ ہو سکیں۔جانور وں کے سینگ ختم کرنا لازمی ہوتا ہےتاکہ یہ آپس میں لڑنے یا کوئی چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی نہ ہو سکیں۔اس عمل کوڈِس بڈنگ بھی کہاجاتاہے۔

طریقہ کار

image

جانور کی عمر کے پہلے دو ماہ کے اند ر اندر انکے سینگ ختم کر دینے چاہیے جس میں 12 سے 15 دن کی عمر مناسب ہے۔ سینگوں کو ختم کرنے کے لئےجو آلہ استعمال کیا جاتاہے اسے ڈی ہورنر کہا جاتا ہے ۔اگر مشین استعمال نہ کی جائے تو کاسٹک پوٹاش کی قلم یا محلول کو سینگ کے نشان پر پھیرا جاسکتا ہے۔آج کل سینگوں کو ختم کرنے کے لئے کریم(پرسا کریم)بھی لگائی جاتی ہے ۔

سینگ کاٹنا

image

ویسے تو سینگ جانور کی خوبصورتی کا ایک حصہ مانا جاتے ہیں لیکن ان کے نقصانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سینگ یا تو پیدائش کے بعد ختم کروا دئیےجاتےہیں یا پھر جب سینگ بڑے ہو جائیں تو انہیں کاٹ دیا جاتا ہے۔سینگ کاٹنے کے لئے عمومی طور پر مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جو مندرجہ ذیل دئیے گئے ہیں

کلچ وائر سے سینگ کاٹنا

image

یہ طریقہ زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں ایک دھات کی وائر(تار) لی جاتی ہے اور دو سٹیل کی پٹیوں سے باندھ کر سینگ کے گِرد وائر گزار تیزی سے گھمائی جاتی ہےجس سے سینگ ٹوٹ جاتا ہے ۔سینگ کاٹنے کے بعد زخم کی جگہ پر پائیوڈین یا ٹیراجن اسپرے کریں اور اگر سوراخ گہرا بن جائے تو اسےٹرائیکلورفان پاؤڈر سے بھر دیں۔

دھاتی آلے یاکٹر سے سینگ کاٹنا

image

بڑےلائیوسٹاک اور ڈیری فارمز پر یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔جانور کو کَرش میں باندھ کر دھاتی آلے یا کٹر کی مدد سےاسکے سینگ کاٹ دیں۔سینگ کاٹنے کے بعد زخم پر پائیوڈین یاٹیراجن اسپرے کریں اور اگر سوراخ گہرا بن جائے تو اسے ٹرائیکلورفان پاؤڈر سے بھردیں۔

نربچھڑوں/وچھوں کوخصی کرنا

نر کٹوں/کٹڑوں کی بڑھوتری اور گوشت کی پیداوار میں بہتر اورمناسب اضافے کے حصول کے لئے ان کو خصی کروایا جاتا ہے ۔نر کٹوں/کٹڑوں کو خصی کروانے کے لئے بنیادی طور پر دو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک طریقے میں نر جانور کے خصیے سرجری کے ذریعے نکال دیے جاتے ہیں اوردوسرے طریقے میں انہیں نکالا تو نہیں جاتا لیکن ناکارہ کر دیا جاتا ہے۔ کٹوں/کٹڑوں کو خصی کروانے کے لئے جو طریقے استعمال کیا جاتاان کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔

سرجری یاپریشن کے ذریعے خَصی کرنا

image

اس طریقے کے مطابق جانور کا آپریشن کیا جاتا ہے جس میں جانور کوباندھ کراس کے خصیوں کے قریب سُن کرنے والا ٹیکہ(لگنوکین) لگایا جاتا ہے جس کے بعد خصیوں کی تھیلی کوکٹ لگا کر خصیوں کوباہر نکال کر کاٹ دیا جاتا ہے۔اس کے بعد اسے ٹانکے لگا کر بند کر دیا جاتا ہے ۔

لچکدار ربڑوں کے ذریعے خصی کرنا

image

یہ طریقہ نر بچھڑوں کو بغیر آپریشن کے خصی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ایک لچکدار ربڑ کو مخصوص آلے کے ذریعے خصیوں کی تھیلی کی جڑ پر چھڑھا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے خصیوں کو خون کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور یہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

دھاتی آلےیابرڈیزو کے ذریعے خصی کرنا

image

اس طریقے میں نر جانوروں کی نس بندی یا خصی کرنے کے لئے ایک دھاتی آلہ(برڈیزو) استعمال کیا جاتا ہے اسےآلہ نس بندی یا برڈیزو کہا جاتا ہے۔دھاتی آلے کے استعمال سے پہلے خصیوں کے گِرد سُن کرنے والا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور کپڑا لپیٹ کر آلہ لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔نس بندی کرنے کے بعد درد سے بچاؤکیلئےکیٹوپروفن کا ٹیکہ بھی لگا یا جاتا ہے ۔

ہارمون کے ذریعے خصی کرنا

image

یہ خصی یا نس بندی کرانے کا عارضی طریقہ کا ر ہے جس میں نر جانور کو ہارمون(پروجیسٹیرون) کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جانور کچھ عرصے کے لئے خصی ہو جاتا اور نسل کشی کے قابل نہیں رہتا۔ مخصوص عرصے کے بعد جانور خودبخود نسل کشی کے قابل ہو جاتا ہے ۔

دودھ دوہنےیانکالنے کے مختلف طریقے

دودھیل جانوروں کا دودھ دوہنے کے لئےبنیادی طور پر دو طریقوں پر مشتمل ہے جن میں ایک طریقہ ہاتھ سے اور دوسرا مشین کے ذریعے ہے۔

ہاتھ کے ذریعے دودھ دوہنا

image

اس طریقے میں تھن کواسکی جڑ سےانگوٹھے اور پہلی انگلی کے درمیان میں لے کر دباتے ہوئے انگوٹھےاور انگلی کو نیچے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ہاتھ کے ذریعے دوسرے طریقے میں تھن کو مُٹھی میں لیکر اسکے گرد انگلیوں کا حلقہ بنایا جاتا ہےجس میں تھن کی جڑانگوٹھے اور پہلی انگلی سے بنے دائرے میں موجود ہوتی ہے۔

مشین سے دودھ دوہنا

image

جدید ڈیری فارمز پر جانوروں کا دودھ مشینوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔اس مقصد کے لئےدوقسم کی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں جن میں ایک مشین ایک وقت میں ایک جانور کا دودھ نکال سکتی ہے جبکہ دوسری قسم کی مشین ایک وقت میں بہت سارے جانوروں کا دودھ نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

ایک جانور کا دودھ دوہنے والی مشین

image

اسے پورٹیبل ملکنگ مشین بھی کہا جاتا ہے جس پر پہیے لگے ہوتے ہیں جن کی مدد سے اسے ضرورت کے مطابق آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس پر اسٹیل کی ایک بالٹی موجود ہوتی ہے جس میں دودھ جمع کیا جاتا ہے۔دودھ نکالنے کے لئے کپ یا کلسٹر ہوتے ہیں جنہیں تھنوں پر چھڑھایا جاتا ہے۔کپ یا کلسٹر ایک پائپ کے ذریعے مشین کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔اسٹیل کی بالٹی میں جمع شدہ دودھ ٹھنڈا کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔

ایک وقت میں زیادہ جانوروں کا دودھ دوہنے والی مشین

image

یہ مشین ایک جگہ فکس ہوتی ہے جہاں دودھ دوہنے والی مشین(ملکنگ مشین/ملک مشین) کے علاوہ محفوظ کرنے کے لئے ڈرم بھی ہوتا ہے جسے چِلر کہا جاتا ہے۔مشین کی دو یا دو سے زیادہ لائنیں یا پائپ ہوتے ہیں جس کے ساتھ بہت سارے کپ یا کلسٹر جڑے ہوتے ہیں جو ایک وقت میں بہت سارے جانوروں سے دودھ نکال کر پائپ کی مدد سے ڈرم میں پہنچا دیتا ہے۔جس جگہ مشین لگی ہوتی ہے اسے مِلکنگ پارلر کہا جاتا ہے۔

جانوروں کادودھ دوہنے کے لئے ہدایات

image

- دودھ نکالنے سے پہلےتھنوں کو کسی بھی جراثیم کُش دوائی(ٹیٹ ڈِپ) کےمحلول میں ڈبویں اور پھر کپ یاکلسٹر چڑھا دیں۔ - دودھ دوہنے کے بعد تھنوں کو پھر ایک دفعہ جراثیم کُش دوا(ٹیٹ ڈِپ)کے محلول میں ڈبویں۔ -جانور کا دودھ دوہنے کے بعد انہیں کم ازکم آدھا گھنٹہ لازمی کھڑا رکھیں۔

حفاظتی ٹیکہ جات

image

بھینسوں کی خطرناک اورجانولیوابیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول اوپر دیا گیا ہے۔

صفائی ستھرائی اوربائیوسیکیورٹی

image

اگر حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے باڑے یا لائیوسٹاک فارم کی صفائی ستھرائی کی جائے تو یہ نہ صرف اچھی صحت بلکہ بہترپیداوار کی ضامن ثابت ہوتی ہے۔

بائیوسیکیورٹی

image

لائیوسٹاک فارم کے صدر دروازے کے سامنے ایک گڑھا ہونا چاہیے جوجراثیم کش محلول سے بھرا ہواہو تاکہ کوئی بھی گاڑی فارم کے اندر داخل ہوتو اسکے ٹائر اس گڑھے میں سے گزر کرصاف ہو جائیں۔اسکے علاوہ گاڑی کی سائیڈوں اور نچلے حصے پر جراثیم کش دوا کا اسپرے کریں۔فارم میں داخل ہونے والے پیدل لوگو ں کے ہاتھ اور جوتیاں بھی جراثیم کش محلول میں ڈبویں۔

صفائی ستھرائی

image

جانوروں کے کُھروں کی صحت کا خیال بھی بہت ضروری ہے جس کے لئے انکے رہائشی شیڈ اور مِلکنگ پارلر کے درمیان گڑھا یا نالی بنا کر اس میں کوئی بھی جراثیم کش دو اکا محلول بنا کر ڈال دیں تاکہ جانوروں کے گزرنے سے کُھروں کی صفائی ہوتی رہے۔

باخبرکسان کی سفارشات

image

نئے خریدے گئے جانوروں کو اپنے فارم کے باہر کسی صاف ستھری جگہ پر اتاریں جہاں اسکے کھر وغیرہ کسی بھی جراثیم کش دوا کےمحلول سے دھویں اور قرنطینہ میں داخل کریں جہاں یہ جانور کم از کم 2 سے 3 ہفتوں تک رہے۔

ایسےفارم پرنہیں رکھنےچاہیں

image

اکثر جانور باربار نسل کشی کرانے پر حاملہ نہیں ہوتے اور پھر سے ہیٹ پر آجاتے ہیں انہیں فارم پر رکھنے سے گریز کریں ۔

نسل کشی کاطریقہ

image

نسل کشی کے لئے مصنوئی نسل کشی کا طریقہ استعمال کیا جائے جبکہ اگر قدرتی ملاپ کرانا ہو تو اپنے فارم کے علاوہ باہر کا سانڈ/نراستعمال نہ کریں۔

ونڈا

image

اکثر کسان بھائی یہ سمجھتے ہیں گرمیوں میں جانوروں کو ونڈا کھلانے سے یہ زیادہ گرمی محسوس کرتے ہیں اور کھلانا بند کر دیتے ہیں جسکے نتیجےمیں انکی پیدوار بہت کم ہو جاتی ہےلہٰذا انہیں ونڈا لازمی کھلائیں۔ونڈا کھلانے کے اوقات میں تبدیلی کریں جس کے لئےشام کو یا مغرب کے بعد کھلایا جا سکتا ہے۔

نرجانوروں کوبیچنےکی بجائےفربہ کریں

image

نومولود نر جانوروں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی انہیں ہر لحاظ سے نظر انداز کیا جاتا ہے اور اکثر قصائیوں کو بیچ دیا جاتا ہے ۔نر جانوروں کو پیدائش کے بعد الگ کر دیں انہیں تھوڑا بہت دودھ پلانے کے ساتھ دودھیل جانوروں کی بچی ہوئی خوراک کھلا کر فربہ کیا جا سکتا ہےجس میں کوئی اضافی خرچہ بھی نہیں کرنا پڑتا۔3 سے 5 ماہ کے بعد یہ جانور اچھے منافعے کے عوض بیچے جا سکتے ہیں۔

Get in touch!

Image not found
Image not found
Image not found
logo
FacebookFacebookFacebookFacebook