Get in touch!



Get in touch!



Agri Content

Livestock
Read about general practices related to Buffalo and how to prevent or cure its diseases
Livestock

Buffalo

Cow

Sheep & goat

اچھی نسل کی دودھیل بھینس اگر فارم/باڑے میں رکھی جائے تو اس پر روزانہ کا اوسطاًخرچ 300سے500روپےہے جبکہ 10لیٹردودھ کے پیداوار سے 1500روپےروزانہ کمائے جا سکتے ہیں۔اگر جانور10لیٹر سے زیادہ دودھ دیتا ہے تو منافع اورزیادہ کمایا جاسکتا ہے۔
نیلی راوی بھینس

راوی نسل کی بھینسوں کا علاقہ دریائے راوی کی وادی ساندل بار ہے۔جن میں اوکاڑہ،تاندلیاں والا،سمندری اور چیچہ وطنی کے نواحی علاقے شامل ہیں ان کے علاوہ جھنگ اور گجرات میں دریائے چناب کے کنارے پر بھی اس نسل کے جانور پائے جاتے ہیں ۔ دریائے راوی کی نسبت سے اِسے راوی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
پہچان

نیلی راوی نسل کی بھینس ایک درمیانی اور تکونی شکل کے جسم کی حامل ہوتی ہے۔ اس کا رنگ زیادہ تر کالا ہو تا ہے مگر اکثر ماتھے، چہرے، تھوتھنی اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید نشانات پائے جاتے ہیں۔ ان نشانات کی وجہ سے اس کو پنج کلیان کا نام دیا جاتا ہے جو کہ نیلی راوی کی پہچان ہیں۔ دُم کا سِرا اکثر سفید ہوتا ہے۔
پیداواری صلاحیت

نر 30 ماہ کی عمر میں جبکہ مادہ 36 ماہ کی عمر میں بالغ ہوتی ہے۔پہلا بچہ دینے کی اوسط عمر1390 دن ہوتی ہے۔ دودھ کی فی بیانت اوسط پیداوار 1800 سے 2500 لٹر ہے لیکن ایسی بھینسیں بھی موجود ہیں جن کی بیانت 3000 سے 5000 لیٹر تک جا سکتی ہے۔ اس کےدودھ میں چکنائی کا تناسب تقریباً 7 فیصد تک ہوتا ہے۔ دودھ دینے کا اوسط دورانیہ 322 دن ہوتا ہے۔ بالغ مادہ کا وزن 350 سے 450 کلوگرام جبکہ نر کا وزن 500 سے 650 کلوگرام ہوتا ہے۔
کُنڈی بھینس

اس نسل کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے جبکہ بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بھی یہ پائی جاتی ہے۔
پہچان

یہ بھاری بھر کم سیاہ رنگ کی بھینس ہے۔ اس کے سینگ چھوٹے اور خمدار ہوتے ہیں جو کہ دیکھنے سے مچھیروں کی مچھلی پکڑنے والی کُنڈی کی طرح دکھائی دیتے ہیں جسکی وجہ سے اسے کُنڈی کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ماتھا چوڑا، گردن چھوٹی اور کان درمیانے سائز کے ہوتے ہیں جبکہ حیوانہ بڑا اور مضبوط ہوتا ہے۔
پیداواری صلاحیت

نر اوسطاً 30 ماہ جبکہ مادہ 36 ماہ کی عمر میں بالغ ہوتی ہے۔ بالغ نر کا وزن 500 سے 600 کلوگرام جبکہ بالغ مادہ کا وزن 300 سے 400 کلوگرام ہوتا ہے۔ فی بیانت دودھ کی پیداوار 1700 سے 2200 لٹر ہوتی ہے۔ دودھ میں چکنائی کا تناسب 6.5 فیصد ہے۔
ازاخیلی بھینس

اس نسل کا تعلق ضلع سوات(خصوصاً خوازکیلا/خوازاخیلااورمدین)سےہے۔یہ نسل خیبرپختونخواہ میں زیادہ تعدادمیں پائی جاتی ہے۔
پہچان

اس نسل کی بھینس کے جسمانی رنگ میں بڑا تغیر پایا جاتا ہے جس میں یہ بے رنگ،بھوری اور دھبے دار بھی ہو سکتی ہے اور کبھی کبھار کالے رنگ کی بھینس بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے جسم پر بھورے رنگ کے بال پائے جاتے ہیں۔ ماتھا سفید رنگ کا ہوتا ہے یا اس پر مختلف سائز کے سفید نشان پائے جاتے ہیں۔ درمیانےسینگ اور تقریباً درانتی نما ہوتے ہیں۔
پیداواری صلاحیت

جانور کا اوسط وزن 350 سے 450 کلوگرام ہوتا ہے۔ فی بیانت دودھ کی پیداوار 1800 لٹر ہے۔ پہلی بار بچہ دینے کی اوسطاً عمر 45 مہینے ہے جبکہ دو بچوں کی پیدائش کا درمیانی وقفہ 18 مہینے ہے۔
بیماریاں

ویسے توبھینسوں پر بہت سی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں جن میں سے اہم ترین بیماریوں کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہیں۔
۔حیوانے کی سوزش /ساڑو/منہ سڑی

حیوانے اور تھنوں کی سوزش کو میسٹائٹس کہتے ہیں۔ یہ دودھ دینے والے جانوروں کی ایک خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو کہ بڑے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔اسے عام زبان میں ساڑو یا منہ سڑی (تھنوں کی سوجن)بھی کہا جاتا ہے۔
اسباب/وجوہات
حیوانے کی سوزش متعدی اور غیر متعدی دونوں وجوہات سے ہوتی ہے۔ غیر متعدی وجوہات میں چوٹ لگنا، دودھ نکالنے کا غلط طریقہ، بچھڑے کا تھن کو نقصان پہنچانا وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ متعدی وجوہات میں بیکٹیریا ، وائرس اور فنجائی شامل ہیں۔
علامات

### مخفی ساڑو اس مرحلہ پر حیوانے کی سوزش کا باعث بننے والے خوردبینی جاندار حیوانے اور دودھ میں موجود تو ہوتےہیں مگر حیوانے یا دودھ میں کسی بھی قسم کی علامات ظا ہر نہیں ہوتی۔جانور مخفی طور پر ساڑو کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ ### ظاہری ساڑو اس قسم میں جانور شدت کے لحاظ سے چار مختلف قسم کی علامات ظاہر کرتا ہے۔ان چاراقسام میں انتہائی شدیدحالت،شدیدحالت،کم شدیدحالت اوردیرینہ حالت شامل ہیں۔
تشخیص

مخفی ساڑو کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سَرف فیلڈ میسٹائیٹس ٹیسٹ ہے جو کہ فارم یا گھر میں آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ انتہائی سستاہے۔ اس ٹیسٹ میں عام گھروں میں استعمال ہونے والے سرف کا 3فیصد محلول تیار کیا جات ہے (آدھے لیٹر پانی میں چھ چمچ سرف کی ملائیں)۔ پھرپلاسٹک کا ایک پیڈل جو کہ چار حصوں میں تقسیم ہوتا ہے استعمال کر سکتے ہیں یا چار گلاسوں میں چار تھنوں کا 2.3 ملی لیٹر دودھ لیتے ہیں اور اتنی ہی مقدار میں 3فیصد سرف کا محلول ڈال کر ہلاتے ہیں اگر اس میں پھُٹکیاں یا جیل نما گاڑھا مادہ بن جائے تو اسکا یہ مطلب ہے کہ آپکا جانور مخفی ساڑو کا شکار ہے
علاج

سوزش /سوجن سے بچاؤکیٹوپروفن،فلونگزن،میلوکسی کیم یاپائریکسی کیم اور وسیع الاثر اینٹی بائیوٹک جیسا کہ جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یاموکسی فلاکساسین میں سے کوئی ایک استعمال کریں۔دوائی ٹیکوں کی شکل میں گوشت میں لگوائیں اور ٹیوب ٹیٹراڈیلٹا،کلاگزیم-ایل سی یامیسٹی گون میں سےکوئی ایک متاثرہ تھن میں دوائی چڑھائیں ۔اگر جانور حاملہ ہو تو کوئی بھی ہومیو پیتھک دوائی(میسٹائٹوپلس،علاج یافائبروفٹ ڈی ایس استعمال کریں۔
بچاؤ

- دودھ دوہنے سے پہلے جانور کے حیوانے اور ٹانگوں کو صاف اور نیم گرم پانی سے سے دھو کرصاف کپڑے یا ٹِشو پیپرسے اچھی طرح خشک کریں۔ - دودھ دوہنے سے پہلے اور بعد میں تھن کو جراثیم کش محلول میں ڈبوئیں۔اس مقصدکیلئےپلاسٹک کی بوتل استعمال کی جاتی ہےجس میں دوائی بھری ہوتی ہے۔ - دودھ دوہنے کے فوراً بعد جانوروں کو تقریباً آدھے گھنٹے تک بیٹھنے نہ دیں کیونکہ اس وقت تھن کی نالی کے مسام کھلے ہوتے ہیں اور جراثیم ان مساموں کے ذریعے تھنوں میں داخل ہو کر حیوانے کی سوزش یا ساڑو کا باعث بن سکتے ہیں۔
منہ کھر

اس بیماری کا سبب ایپتھو وائرس ہے جسکی کئی اقسام ہیں جن میں سے کچھ پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ منہ کُھرسمبدار جانوروں کی متعدی بیماری ہے۔
علامات

تیز بخار، پیداوار میں کمی، منہ اور کھروں پر چھالوں کا بننا، منہ سے لیس دار رالیں ٹپکنا، جانور کا لنگڑا کا چلنا، وزن میں کمی اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔منہ میں چھالوں کی وجہ سے متاثرہ جانور کھانا پینا چھوڑ دیتا ہےاور کھروں میں زخموں کی وجہ سے اس کا چلنا پھِرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔ کٹڑوں اور کٹڑیوں میں یہ بیماری جان لیوا ہے۔
علاج

چونکہ اس بیماری کا سبب ایک وائرس ہے اس لئے اس کا علاج ممکن نہیں البتہ بیماری کی شدت اورمزیدبڑھنےسےبچاؤکیلئے وسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس (موکسی فلاکساسین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین میں سےکوئی ایک استعمال کریں ۔ اس کے علاوہ بخار کو کم کرنے والی ادویات (کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم میں سےبھی کوئی ایک استعمال کریں ۔ جانور کو نرم غذا دیں۔
بچاؤ
بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات(ایف ایم ڈی ویکسین) لگوائیں اور متاثرہ جانوروں کو باقی ماندہ صحت مند جانوروں سے الگ رکھیں۔منہ میں چھالوں پرگلیسرین یاسوموجیل لگائیں اورکھُروں کوفینائل یاپوٹاشیم پرمیگنیٹ کامحلول بنا کردھویں۔
گل گھوٹو
عمومی طورپربھینسوں میں اموات کی بڑی وجہ گل گھوٹو ہے۔ یہ عام طور پر برسات کے موسم میں حملہ آورہوتی ہے۔ بیماری کا سبب ایک بیکٹیریاہےجس کا نام پاسچوریلا ملٹو سیڈا( Pasteurella multocida ) ہے۔
علامات

عام طور پر بیماری انتہائی شدید یا کم شدید صورت میں ہوتی ہے جس میں 6 سے 24 گھنٹے میں جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری نشیبی علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے اور اکثر مون سون اور سردیوں کی باریشوں میں حملہ آور ہو کر وبائی صورت اختیار کر لیتی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں جانورمرجاتے ہیں۔ تیز بخار، سستی، چلنے میں ہچکچاہٹ، کھانا پینا کم کر دینا،منہ سے رالیں ٹپکنا، ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا،زبان کا رنگ نِیلگوں ہوجانا،خونی پیچش، گردن کا سوجھ جانا اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا اس بیماری کی علامات ہیں۔
علاج

اس بیماری کے علاج کے لئے وسیع الاثراینٹی بائیوٹکس (سیفٹیوفر،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین،جینٹامائی سین یاپینی سیلین)اوربخارکےخلاف دوائیں(کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم)استعمال کریں۔
بچاؤ
بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کو حفاظتی ٹیکہ جات(ایچ ایس ویکسین) بر وقت لگوائیں، بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں سے الگ رکھیں،بائیو سیکیورٹی اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔
چوڑےمار
اس بیماری کاسبب کلاسٹریڈیم شووی آئی (Clostridium chauovei )نامی بیکٹریا ہے۔ یہ ایک اہم بیماری ہے جس میں جانور کے زیادہ گوشت والے حصے کو متاثر کرتی ہےالبتہ بھینسوں میں یہ بیماری کم درجے اور شدت ہوتی ہے۔
علامات

متاثرہ جانورکو تیز بخارکھانا پینا کم کر دینا، گوشت والے حصے جیسے ران، کندھے، گردن اور چھاتی وغیرہ سوجھ جانااس بیماری کی بنیادی علامات میں شامل ہے۔متاثرہ جانور کی ران والا حصہ گل سڑ جاتا ہےاور جب جانور چلتا ہے تو پٹا خوں کی آواز آتی ہے اسی نسبت سے اسے پٹا خے مار بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ متاثرہ جانور کا گوشت استعمال کے قابل نہیں ہوتا لہٰذا اگر جانور ذبح بھی کر دیا جائے تو متاثرہ گوشت کے استعمال سے پرہیز کریں۔
علاج
جانور کو وسیع الاثراینٹی بائیوٹک(پینسلین جی/وی،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین) لمبے عرصے تک لگوائیں اور اس کے ساتھ ساتھ بخار کم کرنے والی دوائی (کیٹوپروفین،پائروکسی کیم،ڈائیکلوفینک سوڈیم)بھی استعمال کریں ۔ اگر گوشت زیادہ گل سڑ جائے تو متاثرہ حصہ تھوڑا کٹوا کر جراثیم کش دوا استعمال کریں ۔
بچاؤ
بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکہ جات(بی کیوویکسین) بر وقت لگوائیں۔ صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔
سٹ/گولی/پھڑکی (اینتھریکس)

یہ ایک بیکٹیریل بیماری ہےجوبیسیلس اینتھریسس نامی بیکٹریاسےپھیلتی ہے۔عمومی طورپریہ بیماری مکھیوں کےذریعےپھیلتی ہے۔
علامات

جانور کی موت اچانک واقع ہو جاتی ہے۔ اگر جانور زندہ رہے تو اس میں تیز بخار، سانس کا تیز چلنا، پیداوار میں کمی، جانور کا سست ہونا اور پتلے گوبر جیسی علامات ظاہر ہوتی ہے۔مرنے کے بعد جسم کے تمام قدرتی سوراخوں مثلاً ناک، منہ گوبر اور پیشاب کے راستے خون آتا ہےجو کہ جمتا نہیں ہے اور تازہ رہتا ہے ۔

بیماری تیزی سے رونما ہوتی ہے اور بغیر کوئی علامت ظاہر کیئے 90 فیصد جانور وں کی موت واقع ہو جاتی ہے اس لئے علاج ممکن نہیں ہے۔ البتہ اگر کچھ علامات ظاہر ہوں تو مختلف اینٹی بائیوٹیکس(لنکومائی سین،جینٹامائی سین یاموکسی فلاکساسین) اوربخارکوکم کرنےکیلئےدوا(کیٹوپروفن،فلونگزن یاڈآئیکلوفینک سوڈیم)کا استعمال کریں۔
بچاؤ
بیماری سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ جانور کو حفاظتی ٹیکہ جات(اینتھریکس سپورویکسین) لگوائے جائیں۔
رت موترا/شرکن

یہ ایک اہم بیماری ہے۔ اسکی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں جن میں فاسفورس کی کمی اورببیزیوسس سرِفہرست ہیں۔ببیزیوسس کوچیچڑوں کا بخار بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ چیچڑوں کے باعث ایک جانور سے دوسرے جانور میں منتقل ہوتی ہےجبکہ فاسفورس کی کمی میں چیچڑوں کا کوئی عمل دخل نہیں پایا جاتا۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کی ایک وجہ فاسفورس کی خون میں کمی ہے جبکہ دوسری وجہ ببیزیوسس ہےجو پروٹوزوواکے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ گرم ہوں اور جہاں چیچڑ زیادہ تعداد میں ہوں۔ مچھر، مکھیاں اور متاثرہ آلات بھی اس بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
علامات

بخار،جانور کی رنگت کا پیلا پڑ جانا، خون کی کمی، پیشاب میں خون کا آنا، حمل کا گرنا اور دودھ کی پیداوار میں کمی اس بیماری کی اہم علامات ہیں۔فاسفورس کی کمی میں جانورکو بخار نہیں ہوگاجبکہ ببیزیوسس کی وجہ سےتیزبخارکے ساتھ چیچڑوں کی موجودگی بھی پائی جائے گی۔
علاج

فاسفورس کی کمی کیلئے متاثرہ جانورکوکیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون یافاسویٹ)لگوائیں جبکہ ببیزیوسس یاچیچڑوں کے بخارکی صورت میں بہترین دوائی امیڈو کارب ہے۔ بخار کی شدت کو کم کرنے کے لئے ٹیکہ(کیٹوپروفین،پائروکسی کیم یاڈائیکلوفینک سوڈیم) لگانے سے پہلے جانور کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالنا چاہئے۔
بچاؤ

بیماری سے بچاؤ کے لئے چیچڑوں، مچھروں اور مکھیوں کو مارنے کے لئے جانوروں کے باڑے میں کسی بھی کیڑے مار زہر(سائپرمیتھرین،ڈیلٹامیتھرین یاٹرائیکلوفان) کاا سپرے کریں اور جانوروں کو جلد میں آئیورمیکٹین کا ٹیکہ لگوائیں اگر جانور حاملہ ہو تو اسے ٹیکہ نہ لگوائیں بلکہ چیچڑوں اور جوؤں سے بچاؤ کی دوا (ٹرائیکلورفان)کاپانی میں محلول بناکر جانور کے جسم پر اسپرے کریں یا کسی بھی کپڑے سے جسم پر لگائیں ۔
پائیکا/شاپرکھانےوالی بیماری

یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جانور انتہا کی حد تک بھوکا ہوتاہے اور ایسی چیزیں کھانے لگتا ہے جو کہ عام طور پر اسکی خوراک کا حصہ نہیں ہوتی ۔ یہ اردگرد کی ہر شے کو چاٹتا ہے اور کھانے کی کوشش کرتا ہےمثلاً شاپر،بال،کاغذ رسیاں اورمٹی کے ٹکڑے وغیرہ ۔
علامات

متاثرہ جانورشروع میں تو ٹھیک ہوتا ہے مگر بعد میں کمزور اور لاغر ہو جاتا ہے ۔ اپنے ارد گرد موجود اشیاء جیسے مٹی، ریت، فضلہ، کپڑا وغیرہ کھاتا ہے۔ دیوار اور زمین کو چاٹتا ہے اور کھرلی اور دیواروں کو ٹکریں مارتا ہے۔شاپر اور رَسیاں کھانے سے پیٹ میں ان کے گچھے بن جاتے ہیں اور معدہ بند ہوجاتا ہے جو جانور کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔
علاج

متاثرہ جانور وں میں نمکیات اور فاسفورس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون،فاسویٹ) لگوائیں۔خوراک میں منرل مکسچرکااستعمال بھی شروع کردیں۔
بچاؤ
متا ثرہ جانور کے پیشاب میں خون مکس ہو کر آتا ہے جس سے جانور میں خون کی کمی ہو جاتی ہےلہٰذا اس سے بچاؤ کے لئے وٹامن K یاٹرانزامین کا ٹیکہ لگوائیں ۔بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کی خوراک میں (فاسفورس اورکیلشیم پر مشتمل)منرل مکسچر باقاعدگی سے استعمال کرنا لازمی ہے۔
کیلشیم کی کمی/سوتک کا بخار

یہ خون میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ زیادہ دودھ دینے والے جانورں میں اس بیماری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اسے سوتک کا بخار کہا جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے جانور کا جسمانی درجہ حرارت نارمل رہتا ہے بلکہ کبھی کبھارنارمل سے بھی کم ہو جاتا ہے ۔جانور کے بچہ دینے کے بعد سوتک کے بخار کا خطرہ سب سےزیادہ ہوتا ہے۔
علامات

خوراک میں کیلشیم ، فاسفورس اور وٹامن ڈی میں ردوبدل سے کیلشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ خوراک میں کیلشیم کی کمی اور دوسری وجہ فاسفورس کی زیادتی ہے۔ کیلشیم کمی سے بھوک کا نہ لگنا ، بڑھوتری میں کمی، بانجھ پن، دودھ کی پیداوار میں کمی ، ہڈیوں اور دانتوں کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
علاج

علاج کے لئے جانور میں کیلشیم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کیلشیم کی ڈرپ (کیلشیوپی ایچ یاملفون سی)اورفاسفورس کاانجکشن (ڈےفاس،فاسفو-اےوی،فاسفون یافاسویٹ) لگوائیں۔
بچاؤ
بیماری سے بچاؤ کے لئے جانور کی خوراک میں منرل مکسچر(ڈی سی پی ،ایل ایس منرل،اےایس منرل) باقاعدگی سے استعمال کرنا لازمی ہے۔
پھوڑوں والی بیماری/لمپی اسکن

اس بیماری کا سبب پاکس وائرس (Lumpy skin disease virus)ہے۔اس بیماری کے پھیلاؤ کی شرح 10سے15فیصد اوراموات کی شرح5سے10فیصد تک ہے۔
علامات

بخار،آنکھوں اور ناک سے گاڑھے مادے کا اخراج، جسم پر زرد رنگ کے دانے نکلتےہیں جنہیں ہاتھ لگانے پر جانور کودرد محسوس ہوتا ہے،ٹانگوں اور حیوانے پر سوزش کے اثرات کا ظاہر ہونا اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں۔دانے کچھ عرصے بعد سوکھ کر کھرنڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
علاج

یہ بیماری ایک وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اس لئے اسکا کوئی مستندعلاج نہیں ہے۔اس بیماری سےمتاثرہ جانورشدیددباؤ کا شکارہوتا ہےجس کی وجہ سےاسے دوسری بیماریاں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔ظاہری علامات کومدِنظررکھتےہوئےوسیع الاثراینٹی بائیوٹکس جیساکہ آکسی ٹیٹراسائیکلین،پینسلین،جینٹامائی سین،لنکومائی سین یااینروفلاکساسین کےساتھ ساتھ بخاراورسوجن کوکم کرنےکیلئے کیٹوپروفین،فلونگزن یاپائیریکزیکیم وغیرہ کےٹیکےلگائیں اورالرجی کوکم کرنےکیلئے(فنرامین میلئیٹ،سٹریزین یامیپرامین میلئیٹ کےٹیکے بھی لگوائیں۔ پھوڑوں ،دانوں اور زخموں پرپنک اسپرے،ٹیراجن یاٹیٹراجن کااسپرےکریں۔
بچاؤ
یہ بیماری ایک وائرس سے پھیلتی ہےاس لئےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لگوانالازمی ہے۔مکمل بچاؤ کیلئےاپنے جانوروں کو تین ٹیکے لازمی لگوائیں جس کی ترتیب کچھ اس طرح سے رکھیں کہ پہلا ٹیکہ ،اسکے بعددوسراٹیکہ پہلے ٹیکے کے ایک ماہ بعد جبکہ تیسرا ٹیکہ دوسرے ٹیکے کے 6ماہ بعد لگوائیں۔
اپھارہ/بلوٹ/ٹمپنی

اپھارہ جانوروں کی غیر متعدی بیماریوں میں شامل ہے ۔اگرجانور زرعی اجناس ضرورت سے زیادہ کھالے اورفوراً پانی پی لے تو اس سےپیٹ میں گیس جمع ہو جاتی ہے جس وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے۔بعض اوقات تازہ اورسرسبزبرسیم اورلوسرن کھانے سے بھی یہ مسئلہ پیش آسکتاہے۔
علامات

اس بیماری میں جانور کے معدے میں گیس جمع ہو جاتی ہے ۔ اس بیماری میں جانور کے پیٹ کے بائیں جانب واضح ابھار نظر آتا ہے۔ جانور کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ بار بار پیشاب اور گوبر کرتا ہے۔اگر بر وقت علاج نہ کیاجائے تو جانور کی کچھ گھنٹوں یا شدید حالت میں منِٹوں میں جانور کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
علاج

اس بیماری کے علاج کے لئے جانور کو بلوٹرل یامیڈی اوورل پلائیں اورساتھ ساتھ میگنیشیم سلفیٹ اورسوڈابائی کارب یکساں مقدارمیں پانی میں ملاکرپلائیں۔ شدید حالت میں معدے میں کسی نوک دار سلاخ کی مدد سے سوراخ کر کے ہوا نکالی جاتی ہے۔یادرکھیں اس بیماری کاعلاج اگروقت پر نہ کیا جائےتومتاثرہ جانورموت کاشکارہوسکتاہے۔
بچاؤ

۔ بیماری سے بچاؤ کے لے جانور کو کترا ہوا چارہ دیں، خوراک متوازن ہو اور اس میں اچانک تبدیلی نہ لے کر آئیں۔اگر جانور دانے ،دلیہ(گندم،مکئی) یا کوئی بھی آمیزہ کھائے تو اسے فوراً پانی پینے کے لئے نہ دیا جائے۔کچی حالت میں سبز چارہ جانور وں کو تازہ کھلانے سے گریز کریں اور ہو سکے تو چارہ کاٹ کر کسی بھی ہموار جگہ پر بکھیر کر ڈال دیں جہاں مذکورہ چارہ 4 سے 5 گھنٹے پڑا رہے اور اسکے بعد کُتر کا کھلائیں۔
کٹڑوں اور کٹڑیوں کے اسہال یا دست

کٹڑوں کی اموات کا بڑا سبب انہیں سفید اسہال یا دست کا لگنا ہے ۔
اسباب/وجوہات
اس کی وجہ کوئی بیماری بھی ہوسکتی ہے جبکہ عمومی طورپرمٹی،شاپراوررسیاں وغیرہ کھانےاورٹھنڈادودھ پلانےسےسفیددست لگنےکےاسباب ہوسکتےہیں۔
علامات

پانی کی طرح پتلے دست ،بھوک میں کمی،جسمانی درجہ حرارت کا نارمل سے کم ہو جانا،جسما نی کمزوری اور انتہائی شدید حالت میں دست کے ساتھ گوبر اور خون کا مکس ہوکر آنا اسکی علاما ت میں شامل ہیں۔
علاج

متاثرہ جانوروں کووسیع الاثر اینٹی بائیوٹکس(پیینی سلین،اینروفلاکساسین،جینٹامائی سین،سلفاڈمی ڈین یاسلفاڈآئزین) اور اینٹی پروٹوزوول(امیڈوکارب یامیٹرونیڈازول) کےانجکشن لگائیں۔دستوں کوروکنےکیلئےسکورایکس،نواسکوراورڈائروبان استعمال کیےجاسکتےہیں۔ معدے کے لئے کوئی ہربل یا ہو میو پیتھک (آلویجیسٹ یاڈآئرونِل)دوا با قا عدگی سے استعمال کریں۔ انتہائی شدید حالت میں نارمل سیلائین میں ملٹی وٹامن (بل کمپلس،ایمی وائی کام)کے ٹیکے مکس کر کے ڈرپ لگوائیں۔
بچاؤ

۔ نومولود کٹڑوں اور بچھڑوں کے منہ پر چِھکا لازمی چڑھائیں۔اگر دودھ نکال کر کسی بالٹی یا فیڈر سے پلانا مقصود ہو تو پہلے گرم لازمی کریں اور نیم گرم پلائیں اور ہر گز ٹھنڈا دودھ نہ پلائیں۔
فوگ فیور/دھندھ کابخار

فوگ فیور سے متاثرہ جانوروں میں پھیپھڑوں کی سوزش ہو جاتی ہے۔اس بیماری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب جانوروں کو تازہ،کچا اور سرسبز چارہ زیادہ مقدار میں کھلایا جائے تو جانور بیمار ہونا شروع ہو جاتے ہیں
اسباب/وجوہات
تازہ اور سرسبز چارے میں ایک لحمیاتی جزو موجود ہوتا ہے جسے ٹرپٹوفین کہتے ہیں اس کی زیادتی کی وجہ جانور کے پھیپھڑوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور سوزش کاشکارہوجاتے ہیں۔
علامات

سانس لینےمیں تکلیف،کھانسی،کھانےپینےمیں دشوار ،منہ اورناک سےجھاگ نماریشوں کے اخراج کے ساتھ اگر بیماری شدت اختیارکر لےتومتاثرہ جانورکی موت واقع ہوسکتی ہے۔اس بیماری میں جانورکا جسمانی درجہ حرارت نارمل رہتاہے۔
علاج
اسکاکوئی خاص علاج تو نہیں ہے اگر بیماری کم شدت کی ہوتوجانورخودبخودٹھیک ہوجاتاہےجبکہ اگرشدت بہت زیادہ ہوتوجانورکسی بھی علاج سےٹھیک نہیں ہوتااور 2سے 3دنوں میں موت کاشکاربھی ہوسکتاہے۔علامتی علاج کیلئےوسیع الاثرراینٹی بائیوٹکس(پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین) اورسوزش سے بچاؤ(کیٹوپروفن،فلونگزن یاپائروکسی کیم) کےٹیکےلگوائیں۔
بچاؤ
بچاؤکےلئےجانورکوکچا اورسرسبز چارہ تازہ کھلانےسےگریز کریں۔چارہ کاٹ کرکسی صاف ستھری اورہوادارجگہ پر بکھیرکرڈال دیں جہاں یہ5سے6گھنٹےپڑارہےاسکےبعد بھوسےاورونڈےکےساتھ ملاکرجانوروں کوکھلائیں۔
نسل کشی
کسی بھی لائیوسٹاک فارم کی ترقی کااندازہ اس کی پیداوارکےبعدکامیاب نسل کشی سےلگایاجاسکتاہے۔نسل کشی سےنہ صرف اگلی پیداوارکاتعین ہوجاتاہےبلکہ ایک اضافی بچہ بھی حاصل ہوتاہےجس نےمستقبل میں بڑےجانوروں کی جگہ لیناہوتی ہے۔
نسل کشی کےطریقے
جانوروں میں نسل کشی کے دو طریقے ہیں۔ ایک روایتی طریقہ ہے جبکہ دوسرا طریقہ مصنوعی نسل کشی ہے۔
قدرتی یاروایتی نسل کشی
قدرتی نسل کشی کےلئےمادہ جانورکی جنسی تحریک یا گرمی کے اظہار پر نر جانورسے ملاپ کرایا جاتا ہے۔اس مقصدکیلئےنرخود بھی پالےجاتےہیں اورکرائےپربھی لیےجاتےہیں۔
مصنوئی نسل کشی یااےآئی

مصنوعی نسل کشی یا مصنوعی تخم ریزی جسے عام زبان میں ٹیکہ یا بیج رکھوانا کہتے ہیں ایسا طریقہ ہے جس میں نر جانور سے حاصل کئے گئے تولیدی مادے (semen) کو ایک مخصوص ٹیکے یا راڈ (Al Gun) کے ذریعے مادہ جانور میں منتقل کیا جاتا ہے۔
مصنوئی نسل کشی کےفواؑد
- بیشتراقسام کی جنسی اور متعدی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ - محفوظ کئے گئے عمدہ اوصاف اور تصدیق شدہ سانڈ کے تولیدی مادے کو کئی سال گزرنے کے بعد بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ - ایسا تولیدی مادہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں پہلےسےہی معلوم ہو کہ اس کےا ستعمال سے بچھڑا پیدا ہو گا یا بچھڑی۔ - بیرون ملک سے محفوظ شدہ تولیدی مادہ منگوا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مادہ جانور میں جنسی تحریک یا گرمی کے اظہارکی علامات
بالغ گائے اور بھینسوں کے نسل کشی کے موسم میں گرمی کی کیفیت تقریباً ہر 21 دن بعد ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی علامات درج ذیل ہیں۔ - جانور دوسرے جانوروں کو سونگھتا ہے اور دوسرے جانوران پر چڑھنے کی کوشش کرتےہیں یااس پردوسرے جانورچڑھنے کی کوشش کرتےہیں۔ - بیرونی جنسی اعضاء پر ہلکی سوزش نمودار ہوتی ہے اور انکی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے۔ - پیشاب والی جگہ سے بے رنگ لیس دار مادہ خارج ہوتا ہےجو تار کی طرح لٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ - جانور بار بار مخصوص آواز یں نکالتا ہے - بے آرامی کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔ - جانور بار بار پیشاب کرتا ہے۔
کراس بریڈنگ/مخلوط نسل کشی
دو مختلف نسلوں یا انواع کے جانوروں کا ملاپ کراس بریڈینگ کہلاتا ہے۔مثلاً نیلی راوی اورکُنڈی نسل کی بھینسوں کا آپس میں ملاپ۔ اس طریقے سے مختلف نسلوں کی بہترین اوصاف اولاد میں جمع ہو جاتی ہیں اور اولاد کی کارکردگی اپنے والدین کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔
بروسیلوسس

یہ ایک ایسی بیماری جو گائے بھینس ،بھیڑ اور بکریوں کو متاثر کرتی ہے۔یہ ایک ایسی بیماری ہے جو متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کاسبب بروسیلاابورٹس نامی بیکٹریاہے ۔متاثرہ جانور کا دودھ بغیر ابالے پی لیا جائے تو یہ بیماری انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
علامات

اسقات حمل(بچہ گرادینا)، کمزور اور مردہ بچوں کی پیدائش،جیر کا وقت پر نہ نکلنا اور نر جانور میں خصیوں کا سوجھ جانا اسکی علامات میں شامل ہیں۔متاثرہ جانورکی اگلی ٹانگوں کے گھٹنےمیں سوجن بھی ظاہر ہوتی ہے۔عمومی طور پر اس بیماری میں مبتلا جانور کے حاملہ ہونے کے بعد پانچویں مہینے کے بعد جانور بچہ گرا دیتے ہیں۔اگر جانور اس بیماری کا شکار ہو جائے تو تقریباً ہر دفعہ پانچویں مہینے کے بعد بچہ گرا دیتا ہے ۔
علاج

اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہے لیکن وسیع الاثرر اینٹی بائیوٹکس جیساکہ پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین کےساتھ سوزش/سوجن کیلئےکیٹوپروفن یافلونگزن کے ٹیکے لگوائیں ۔
بچاؤ
جب جانور خریدے جائیں تو انہیں 2 سے 3 ہفتے قرنطینہ میں رکھا جائے اگر وہاں کوئی علامات ظاہر نہ ہوں تو ہی جانور کو باقی صحت مند جانوروں کے ساتھ شامل کیا جائے ۔نسل کشی کیلئےہمیشہ اپنےفارم کےنرکااستعمال کریں یامصنوئی نسل کشی کروائیں۔
مادہ جانورکاہیٹ میں نہ آنا/گرمی ظاہر نہ کرنا
وہ دورانیہ ہوتا ہےجس میں جانور نسل کشی کے لئے تیار نہیں ہوتایاگرمی کی کوئی علامت ظاہرنہیں کرتا۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔
علامات

متاثرہ جانور میں باقی کوئی بھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتی جبکہ جانور صرف جنسی تحریک یا گرمی کی علامات ظاہر نہیں کرتا ۔
علاج
خوراک میں منرل مکسچر کا استعمال کریں اورساتھ ساتھ ہارمونزجیساکہ پی جی ایف ٹو ایلفا،جی این آر ایچ ،ایف ایس ایچ یا پی ایم ایس لگائیں۔اگرجانورہارمون لگانےسےبھی گرمی ظاہر نہ کرےتوڈاکٹرسےبچہ دانی چیک کروائیں۔
بچاؤ
جانور کے بچہ دینے کے بعد دو سے تین ما ہ تک انتظار کریں اگر جانور جنسی تحریک یا گرمی ظاہر نہیں کرتا تو کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔جانور کی خوراک متوازن ہو اور اس میں منسل مکسچر کا استعمال ضرور کریں۔
افزائش نسل کو دہرانا /ریپیٹ بریڈنگ/پھرجانا
ایسے جانور جو دو یا دو سے زیادہ بار افزائش نسل کے لئے تیار تو ہوتے ہیں لیکن نسل کشی کروانے کے نتیجے میں حاملہ نہیں ہو پاتے۔عام زبان میں اسے پھِر جانا اور بار بار نیا ہونا بھی کہا جاتا ہے ۔ایسے جانور جوا سکا شکار ہوں تو مویشی پال حضرات کے لئے بڑے معاشی نقصان کا با عث بنتے ہیں۔
اسباب/وجوہات
اس بیماری کی بنیادی طورپردووجوہات ہوسکتی ہیں۔جن میں پہلی وجہ کسی دوسری بیماری(ویبریوسس،ٹرپنو سومیسس،سٹیریپٹو کوکس یا سوڈوموناس) یاکمزوری کی وجہ سےجبکہ دوسری وجہ نمکیات اورھارمون کی کمی ہے۔
علامات

جانور میں بظاہر کوئی بیماری کی علامات نظر نہیں آتی اور جانور گرمی کا اظہار بھی مکمل اور وقت پر کرتا ہےلیکن جب نسل کشی کروائی جاتی ہے تو اسکے 17 سے 24 دنوں کے اندر اندر جانور دوبارہ گرمی کا اظہار کرنا شروع کر دیتا ہے۔بعض اوقات نسل کشی کے 4 سے 5 دن کے اندر خون اور پیپ ملا مواد بھی پھینکنا شروع کر دیتا ہے ۔
علاج
خوراک میں منرل مکسچر کااستعمال شروع کردیں اورجب جانوردوبارہ ہیٹ پرآئےتوبیج رکھنےکےدوگھنٹے بعدپروجیسٹیرون کاٹیکہ لگائیں جس سےجانور کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔اگر جانور کم از کم تین دفعہ نسل کشی کے لئے تیار ہو اور حاملہ نہ ہو تو ایسے جانور کو پہلی فرصت میں کسی مستند ویٹرنری ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کروائیں۔
بچاؤ
نسل کشی کےدوگھنٹےبعدجانورکوپروجیسٹیرون کاٹیکہ لگائیں اورخوراک میں منرل مکسچرکااستعمال ضرورکریں۔
اسقات حمل/بچہ گِرادینا

حاملہ جانور اگر دورانِ حمل کسی بھی پیچیدگی کا شکار ہو جائے تو وہ وقت پورا ہونے سے پہلے بچہ گِرا دیتا ہے جسے اسقاتِ حمل یابچہ گِرادینا کہتے ہیں۔
اسباب/وجوہات
اس کی کافی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں کسی بیماری کی وجہ جیساکہ بروسیلوسس،سالمونیلوسس یالسٹیریوسس جبکہ کمزوری یاچوٹ لگنےسےبھی جانوربچہ گِرادیتاہے۔
علامات

حاملہ جانور دورانِ حمل کسی بھی وقت اسقاتِ(بچہ گِرادینا) حمل کا شکار ہو سکتا ہے۔کبھی کبھا ر اسقاتِ حمل کے ساتھ تیز بخار ،منہ اور ناک سے رال ٹپکنا اور جانور کا بے چین ہونا بھی دیکھا جا سکتا ہے
علاج
اگرجانوربچہ گِرادےتوفوراً پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین کےساتھ سوزش کیلئےکیٹوپروفن،فلونگزن یاپائروکسی کیم کے ٹیکے لگوائیں ۔بچہ دانی میں یوٹینول کی گولیاں رکھوائیں ۔
بچاؤ
حاملہ جانورکی صحت کا خاص خیلا رکھیں اس کی خورک میں ونڈےاورمنرل مکسچرکااستعمال ضرورکریں۔
جانور کا پیچھا مارنا/پرولیپس

جانور کا بچہ دینے سے پہلے یا بعد میں اکیلی رحم یا اسکے ساتھ مکمل بچہ دانی کا جسم سے باہر نکلنا جانور کا پیچھا مارنا کہلاتا ہے۔حاملہ جانوروں میں پیچھا مارنے کی شکایت زیادہ آتی ہے۔
اسباب/وجوہات
کیلشیم کی کمی، بچے کی مشکل پیدائش،قبص،جیر کا نہ نکلنا اور زیادہ تر ان جانوروں میں جنہیں ایک ہی جگہ پر باندھ کر رکھا جاتا ہے پیچھا مارنے کی شکایات زیادہ آتی ہیں۔
علامات

درجہ حرارت کا نارمل سے کم ہو جانا،جسمانی کمزوری،جانور کا نیچے بیٹھ جانا،جیر کا بچہ دانی کے ساتھ جڑا ہونا،رحم کا سوج جانا اور کبھی کبھار جانور نیچے لیٹ جانا اسکی علامات میں شامل ہیں۔کبھی کبھا ر جانور میں پیچھا مارنا نامکمل ہوتا ہے جس کی وجہ سے جانور اگر نیچے بیٹھ جائے تو رحم باہر آجاتا ہے اور جب جانور کھڑا ہو تو واپس اندر چلا جاتا ہے۔
علاج
جب جانور پیچھا مارے تو اسے گیلے تولیےسے صاف کریں تاکہ جراثیم نہ لگیں اور سوکھنے سے بھی بچ جائے۔ باہر نکے ہوئے حصے کو نارمل سیلائین سے دھویا جائے اور ہاتھوں کی مدد سے احتیاط سے اندر ڈالا جائے۔ آکسی ٹوسین 2 سی سی گوشت میں لگانے کے ساتھ کیلشیم کی ڈرپ لگوائیں ۔ وسیع الاثرر اینٹی بائیوٹکس جسای کہ پینی سلیلین،جینٹامائی سین،اینروفلاکساسین یالنکومائی سین میں سے کوئی ایک اورساتھ میں سوزش کیلئےکیٹوپروفن کےٹیکےلگائیں3دن تک لگائیں۔
بچاؤ

بچاؤ کے لئے حاملہ جانوروں کی خوراک اورصحت کا خاص خیال رکھیں۔اگرجانورکوقبض ہوجائےتوفوری اسکاعلاج کریں۔ایک دفعہ پیچھامارنےکےبعدجانورکورسی یاکپڑےکوباریک کرکےباندھ دیں تاکہ جانورکےزورلگانےسےرحم یابچہ دانی باہرنہ نکلے۔
کیڑےیاکِرم
کِرم وہ کیڑے ہوتے ہیں جو جانوروں کے جسم کے اوپر اور اندر رہ کر انہیں متاثر کرتے ہیں۔اسی بِنا پر انہیں دو حصوں میں تقسیم کیاجاتا ہےجن میں ایک بیرونی اور دوسرا اندرونی کِرم ہیں۔
بیرونی کِرم یابیرونی کیڑے

یہ وہ کیڑے ہیں جو جانوروں کے جسم کے باہر جِلد پر موجود ہوتے ہیں۔یہ جانور کا خون چوستے ہیں جس کی وجہ سے جانور کمزور ہو جاتا ہے ۔جانور کے جسم پر کھجلی اور جلن ہوتی ہےجس کی وجہ سے جانور اپنا جسم دیواروں اور درختوں کے ساتھ رگڑتا ہےاور خود کو زخمی کر لیتا ہے۔ زیادہ تر جانوروں کی جِلد کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور اس میں سوراخ ہو جاتے ہیں جو چمڑے کے معیا رکو خراب کردیتے ہیں۔
جوئیں

جوئیں جانوروں کا خون چوستی ہیں انہیں کمزور کر دیتی ہیں۔جانور بے چین رہتا ہے اور انکی پیداوار میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
چیچڑ

چیچڑ جانوروں کاخون چوستے ہیں اور میں خطرناک بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں جن میں ببیزیوسس،تھلیروسس ،لمپی اسکن اور کانگو وائرس وغیرہ شامل ہیں۔
پِسو

یہ جانوروں کی جلد کی نیچے سرنگیں بنا کے رہتے ہیں اور انہی میں انڈے بھی دیتے ہیں۔جانور انتہائی بے چین رہتا ہے اپنے جسم کو دیواروں سے رگڑتا ہے اور ٹکریں مارتا ہے۔جانور خود کو بھی زخمی کرتا ہے اور دوسرے جانوروں کو بھی چوٹ پہنچا سکتا ہے۔
مچھر

مچھر جانوروں میں تین روزہ بخاریاایفی میرل فیوراورلمپی اسکن بیماری پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔
بیرونی کیڑوں کاتدارک

جانور کو جہا ں خارش ہو وہاں سے بال اتار کراسے صابن اور نیم گرم پانی سے دھویں اور اسے ایک حصہ ویزلین اور ایک حصہ گندھک ملا کرمرہم لگائیں۔ پاؤڈر(ٹرائیکلوفان)کا محلول بنا کر استعمال کریں۔کیڑے مار زہر(ڈیلٹامیتھرین،سائپرمیتھرین اورلیمڈا سائیلوتھرین)کا10فیصد محلول بنا کرجانوروں کے جسم پر اسپرے کریں یا کوئی کپڑا ڈبو کرلگائیں اس دوران جانور کو گَلا تنگ کر کے باندھ دیں تاکہ جانور محلول کو چاٹ نہ سکے۔آئیورمیکٹین کاٹیکہ بھی لگایاجاسکتاہے۔حاملہ جانورکوٹیکہ ہرگِزنہ لگائیں۔
اندرونی کیڑے
ایسے کیڑے جو جانوروں کے جسم کے اندر مختلف اعضاء میں پائے جاتےہیں اور انہیں نقصان پہنچاتے ہیں انہیں اندرونی کیڑےکہاجاتاہے۔ ### اندرونی کیڑوں کی اقسام ان کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں جِگر کے کِیڑے،پھیپھڑوں کے کیڑےاور کدودانے یا آنتوں کے کیڑے شامل ہیں۔ان کے علاوہ کچھ کیڑے آنکھوں اور دِل میں پائے جاتے ہیں۔
جِگر کے کِرم یا کیڑے

یہ کیڑے متاثرہ جانوروں کے جِگر اور پِتے کی نالی میں سوزش کا باعث بنتے ہیں۔تعداد میں کثرت کے باعث نالی بند ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے یرقان ہو جاتاہے۔جانور کمزور اور سست ہو جاتا ہے۔متاثرہ جانور کے جوڑوں پر سوزش ہو جاتی ہے۔ ### علاج اوربچاؤ جِگرکے کیڑوں کے علاج کے لئے آکسی کلوزانائیڈ،لیوامی سول یا ٹرکلا بینڈازول میں سےکسی ایک دوا کا استعمال کریں۔جانوروں کو تقریباً ہر تین ماہ بعد اندرونی کیڑےمار ادویات کا استعمال لازمی کریں۔
پھیپھڑوں کے کِرم یا کیڑے

بدہضمی،ناک اور منہ سے ریشے اور لیسدار مادے کا اخراج ،سانس لینے میں دشواری ،نمونیہ ،دست اور خون میں کمی پھیپھڑوں کے کِرموں یا کیڑوں کے حملے کی علامات ہیں۔ ### علاج اور بچاؤ پھیپھڑوں کے کیڑوں کا حملہ ان جانوروں میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں دن میں کم ازکم ایک وقت میں چرایا جاتا ہے لہٰذاانہیں فن بینڈازول،آکسفینڈازول یاالبینڈازول میں سےکوئی ایک دوا2ماہ میں ایک دفعہ ضرور استعمال کرواتے رہیں۔
کدودانے/آنتوں کے کیڑے

یہ کیڑے زیادہ ترجانوروں کی آنتوں میں پائے جاتے ہیں۔عمومی طور پر تھوڑی بہت تعداد میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں لیکن اگر انکی تعداد زیادہ ہو جائے تویہ جانوروں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتے ہیں۔ہاضمےکی خرابی،اسہال،خون کی کمی،کمزوری اور بعض اوقات جگری کِرموں سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ### علاج اوربچاؤ علامات ظاہر ہونے پر فن بینڈازول،آکسفینڈازول یاالبینڈازول میں سےکوئی ایک دوا استعمال کریں۔آئیورمیکٹین کےٹیکےبھی لگوائےجاسکتےہیں۔بچاؤ کے لئے اپنے تمام جانوروں کو تقریباً ہر تین ماہ بعد حفاظت کے طور پر کِرم کُش ادویات لازمی استعمال کریں۔
مہرو مکھی

یہ زرد رنگ کی مکھی ہے جسے عام طور پر ''بُلیارے والی مکھی''کے نام سے جانا جاتا ہے۔جسامت کے اعتبار سے یہ شہد کی مکھی جتنی ہوتی ہے۔یہ مکھی جانوروں کی کھال میں سوراخ کر کے اسے نقصان پہنچاتی ہے۔یہ مکھی پاکستان کے پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔
پہچان

اس مکھی کی لمبائی 13 سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے۔اسکے سر اور جسم کے اگلے حصوں کا رنگ سفیدی مائل زرد ہوتا ہے۔پیٹ پر ہلکے زرد اور درمیانی حصے میں گہرےبھورےجبکہ جسم کے پچھلے حصوں پر پیلے رنگ کے بال پائے جاتے ہیں۔
نقصانات

یہ مکھی جانوروں کے لئے جان لیوا تو نہیں ہےلیکن بڑے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے۔یہ متاثرہ جانوروں کی کھال میں سوراخ کر دیتی ہے جس کی وجہ سے ان سے حاصل ہونے وال چمڑا خراب ہو جاتا ہے جو لوکل مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے اور غیر ممالک میں اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ مکھی کے حملے کی وجہ سے متاثرہ جانوروں کے دودھ کی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔
علاج

علامات ظاہرہونےپرمتاثرہ جانورکوآئیورمیکٹین کاانجکشن لگائیں۔
بچاؤ

اس مکھی کا حملہ جنوری سےلیکر مئی تک زیادہ رہتا ہے لہٰذا بچاؤ کے لئے اپنے باڑے اور اس کے اردگردٹرائیکلورفان یاسائپرمیتھرین کا10فیصد محلول بنا کر اسپرے کریں اور جانوروں کو باندھ کراس سے نہلائیں
رہائش

گھریلوسطح پربھینسوں کی پیداواراوربہترصحت کےاصول کیلئے رہائش کا مناسب اور معقول انتظام ہونا لازمی ہے۔
مویشی خانےکارُخ

رہائش کیلئے ہوادارمویشی خانے کی تعمیر اس انداز سے کی جائے کے اس کا رخ لمبائی میں شرقاًغرباًاورچوڑائی شمالاًجنوباً ہوناچاہیے تاکہ موسم گرما میں بھینسیں گرمی سے متاثر نہ ہو سکیں۔این
مویشی خانےکیلئےجگہ کی ضرورت

عمومی طور پر ایک بھینس کیلئے40مربع فٹ چھتی ہوئی اوراس سے دوگنا کھلی ہوئی جگہ ضرورت ہوتی ہے۔پینےکیلئےتازہ پانی کیلئےاگرحوض بنا دیا جائے تو بہتر ہے جبکہ پلاسٹک یا دھاتی برتن بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔مویشی خانہ ہوادار بنانے کیلئے کم ازکم2کھڑکیاں ہونی چاہیں اورایک اگزاسٹ پنکھا لازمی لگانا چاہیے۔روشنی کیلئےمویشی خانے میں 3سے4 بلب لازمی لگائیں۔
مویشی خانےکی تعمیر

اینٹوں کےستون کھڑےکرکےلوہےکےگارڈر،بانس یالکڑی کے بالےڈال کرچھت ڈال دیں۔مویشی خانےکافرش اوردیواریں پکی ہوں اورفرش کی ڈھلوان کھرلی کی مخالف سمت میں ہونی چاہیے۔فرش کے ختم ہونے پر ایک پختہ نالی بنا دیں تاکہ فضلات اورپانی کی نکاسی آسانی سےہوسکے۔چھت کی اونچائی15 سے20فٹ تک ہونی چاہیے۔کھرلی کی چوڑائی2فٹ اوراونچائی2.5فٹ موزوں ہے۔
کمرشل پیمانےپرہاؤسنگ کی اقسام

جانوروں کی رہائش یا ہاؤسنگ کی تین اقسام: 1. فری سٹال ہاؤسنگ 2. ٹائی سٹال ہاؤسنگ 3. لوز سٹال ہاؤسنگ **نوٹ:کامیاب ڈیری فارمنگ کے لئے فری سٹال شیڈ بنانا زیادہ موزوں ہے۔**
فری سٹال ہاؤسنگ/رہائش

اس قسم کا شیڈ کامیاب جدید ڈیری فارمنگ کے لئے موزوں ترین ہے۔ اس سسٹم میں جانوروں کو دودھ دوہنے کے وقت کے علاوہ ہر وقت آزاد رکھا جاتا ہے۔ جانور کے آرام کے لئے مخصوص سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ جانور آزاد ہوتا ہے ، جب وہ چاہے گھومے پھرے اور جب چاہے سٹالز میں آرام کرے۔
1.خوراک کی جگہ یاکُھرلی

اس رہائشی نظام کے لئے درمیان سے 14 سے 16 فٹ جگہ چھوڑتے ہوئے شیڈ کی جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ درمیان میں چھوڑی گئی جگہ کی پیمائش کا انحصار خوراک ڈالنے والی ٹرالی کی چوڑا ئی پر ہوتا ہے۔ اس درمیانی جگہ کے دونوں طرف 2.2 فٹ جگہ جانور کے سامنے خوراک ڈالنے کے لئے مختص کی جاتی ہے۔
2.سٹالز/بیٹھنےکی جگہ

اس گھومنے پھرنے والی جگہ سے پیچھے آرام کے لئے ایک یا ایک سے زائد قطاروں (جانوروں کی تعداد کی بنیاد پر) پر مشتمل سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ سٹا ل کی لمبائی 7 سے 8 فٹ ، چوڑائی 4-3 فٹ اور اونچائی4 فٹ رکھی جاتی ہے جبکہ سٹال کا فرش گھومنے پھرنے والی جگہ کے فرش سے 4 سے 6 انچ اونچا ہوتا ہے۔
3.سٹالزکی تعداد

جہاں تک جانوروں کی تعداد کے مقابلے میں سٹالز کی تعداد کا تعلق ہے تو سٹالز کی تعداد جانوروں کی تعداد کے مقابلے 10 فیصد زیادہ ہونی چاہئے مثلاً 100 جانوروں کے لئے 110 سٹالز بنائے جائیں گے۔
4.پانی کی کُھرلی

سٹالز کو پانی کے چھینٹوں سے بچانے کے لئے پانی والی کھرلی اور اس سے منسلک سٹال کے درمیان 4 فٹ اونچی دیوار بنانی چاہئے۔ پانی والی کھرلی کی جگہ پانی والا خود کار پیالہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جب جانور اپنا منہ پیالے میں ڈالتا ہے تو یہ پانی سے خود بخود بھر جاتا ہے۔
5.شیڈکی اونچائی

شیڈ کی انچائی درمیان سے 18 سے 20 فٹ جبکہ کناروں سے 12 سے 14 فٹ رکھنی چاہیئے۔
لوزسٹال ہاؤسنگ/رہائش

اس قسم کے رہائشی نظام میں جانور آزاد رہتے ہیں۔ انہیں کھلے باڑے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سائے کے لئے ایک ڈھلوانی چھت بنائی جاتی ہے جس کے نیچے درمیان میں خوراک والی کھرلی تعمیر کی جاتی ہے۔ کھرلی کے دونوں طرف دو، دو میٹر لمبا پکا فرش بنایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے پانی کا حوض تعمیر کیا جاتا ہے
جگہ کی ضرورت

جانوروں کی رہائش کیلئےبنیادی ضرورت اوپرٹیبل میں دی گئی ہیں ۔
ٹائی سٹال/جانوروں کوباندھ کےرکھنا

اس قسم کے رہائشی نظام میں جانوروں کو باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ یہ پرانا طریقہ کارہے۔ہر جانور کے لئے الگ الگ سٹالز بنائے جاتے ہیں۔ جہاں پر جانوروں کو خوراک اور دیگر سہولیات کی فراہمی ہوتی ہے۔ دو یا زیادہ قطاریں بنائی جا سکتی ہیں جن میں جانوروں کے آمنے سامنے یا مخالف سمت میں ہو سکتے ہیں۔
1۔شیڈ کی تعمیر

- ٹائی سٹال کے لئے شیڈ کی پیمائش اس طرح سے رکھنی چاہئے کہ۔ - شیڈ کی اونچائی درمیان سے 18 سے 20 فٹ اور اطراف سے 12 سے 14 فٹ
2۔ سٹال کی پیمائش

• سٹال کے پیمائش درج ذیل رکھنی چاہئے۔ o لمبائی 6سے7 فٹ o چوڑائی4 فٹ o اونچائی4 فٹ
گھریلوپیمانےپرخوراک

گھریلوپیمانے پر کوئی خاص قسم کی خوراک تو نہیں کھلائی جاتی لیکن اتنا خیال ضرور رکھا جاتا ہے کہ جانور کی جسمانی اور پیداواری ضرورت پوری ہوتی رہے۔
خوراک کےذرائع

گھریلوپیمانےپرخوراک کےعمومی طورپردوطرح کےذرائع ہوتےہیں۔ 1۔ بھینسوں کودن میں چھوڑدیاجاتاہےجوسارادن گھوم پھرکرجوبھی ملتاہےکھالیتی ہیں اورشام کوواپس گھرآجاتی ہیں۔ 2۔بھینسوں کوباہرکھلاچھوڑنےکی بجائےجوبھی چارہ یاراشن مہیاہوتاہےوہ گھرمیں ہی کھلایاجاتاہے۔
خوراک کی اقسام

بنیادی طورپرخوراک کوتین حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔جن میں سبزچارہ،خشک چارہ یابھوسہ اورراشن یاونڈاشامل ہیں۔
3۔خوراک کی ضرورت

جسمانی وزن کے10فیصدکےحساب سےانکے لئے سبزچارے اور جبکہ1فیصدکیلئےمتوازن راشن کا تعین کریں۔اگرسبزچارہ وافرمقدارمیں موجودنہ ہوتوبھوسہ یاتوڑی مکس کر کےکھلائیں۔**یادرکھیں جانوروں سےبہتراوراچھی پیداوارکیلئےمتوازن راشن یاونڈاکھلانالازمی ہے۔**
کمرشل پیمانےپرخوراک

کمرشل پیمانےپربھینسیں پالنےکابنیادی مقصدجانوروں سےزیادہ سےزیادہ پیداوارکاحصول ہوتاہےاس لئےخوراک کی مقداراورمعیارانتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔
خوراک کی اقسام

کمرشل پیمانےپربھینسوں کی خوراک کوتین اقسام میں تقسیم کیاجاتاہے۔
سبزچارہ/سائیلج

سبز چارہ جات میں چارہ ، خودرو پودے، گھاس پھوس، گنے کی فصل کے ٹانڈے اور درختوں کے پتے وغیرہ شامل ہیں۔اہم چارہ جات میں برسیم، لوسرن، شفتل اورسویا بین ،مکئی، جوار، باجرہ اور جئی وغیرہ شامل ہیں۔
خُشک چارہ

خشک چارہ جات میں ہئے/ھے، توڑی، تکے وغیرہ شامل ہیں۔عام طور پر ھےمختلف چارے برسیم، لوسرن، جوار، باجرہ، جئی اور گھاس وغیرہ سے بنائی جاتی ہے۔ پاکستان میں گندم کی توڑی یا بھوسہ ، چاول کی توڑی، جو کی توڑی، مکئی کے لئے تکےاور جوار کے تکے وغیرہ خشک چارہ جات کےطورپرمویشیوں کوکھلائےجاتےہیں۔
ونڈا/فیڈ/کنسنٹریٹ

مویشیوں کوخوراک میں اگرصرف سبزاورخُشک چارہ کھلائے جائیں توان کی جسمانی اورپیداواری ضروریات پوری نہیں ہو پاتیں جنہیں اضافی متوازن راشن/فیڈ/ونڈاکھلانےسےپوراکیاجاتاہے۔ونڈایافیڈزرعی اجناس (گندم،باجرہ،مکئی وغیرہ)اورصنعتی باقیات(کھل بنولہ،چوکر،،چاول کی پھک وغیرہ)پرمشتمل ہوتاہے۔
ٹی ایم آر(ٹوٹل مکسڈراشن)

اس قسم کا چارہ جس میں سبز چارہ ،خشک چارہ اور ونڈا جانور کی ضرورت کے مطابق متوازن انداز میں مکس کر کے کھلایا جاتا ہےاسے ٹوٹل مکسڈراشن کہا جاتا ہے۔ٹوٹل مِکسڈ راشن کی تیاری میں 50 فیصد حصہ سبز چارے اور 50 فیصد حصہ خشک چارے پر مشتمل ہوتا ہے۔50 فیصد خشک چارے کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ایک حصہ بھوسہ/توڑی اور دوسراحصہ ونڈے یا فیڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔
نومولود کٹڑیوں/کٹیوں کی دیکھ بھال

نومولود کٹڑیوں/کٹیوں کی 50 فیصد اموات انکی دیکھ بھال میں کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
نومولود کوماں سےالگ نہ کریں

پیدائش کے فوراً بعد بچے کو ماں سے الگ نہ کریں تاکہ وہ اسے چاٹے اور اسکا بچے سے تعلق قائم ہو البتہ اگر ماں بچے کے پاس نہیں آرہی اور توجہ بھی نہیں دے رہی تو اسے الگ کر کے تولیے سے صاف کریں۔
ناڑکوکاٹنا

بچے کی ناڑ کو 3 سے 6 انچ تک کاٹ دیں اور اس پر پائیوڈین یا ٹنکچر آئیوڈین لگائیں تاکہ اس پر زخم نہ بنے۔ناڑ پر مٹی اور گندگی لگنے سے بچائیں۔
بوہلی،نارا یاپہلادودھ

بچے کے پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر اندر 10 فیصدجسمانی وزن کے لحاظ سے بوہلی یا نارا پلائیں جو اسے بیماریوں سے بچاؤ کے لئے قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔بعض اوقات کسان بھائی جانور کی جیر نکلنے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر بوہلی پلاتے ہیں جو انتہائی غلط طریقہ کار ہے لہٰذا بوہلی لازمی طور پر پلا دیں چاہے جیر نکلی ہو یا نہ نکلی ہو۔
دودھ پینے والی کٹڑیوں کی خوراک اوران کی دیکھ بھال

دودھ پینےوالی کٹڑیوں کی خوراک اوردیکھ بھال انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
دودھ کامتبادل یامِلک ریپلیسر

اگر ماں کا دودھ وافر مقدار میں موجود ہو تو دودھ ہی پلائیں البتہ آج کل دودھ کے متبادل کے طور پر مِلک ریپلیسر کا استعمال کیا جاتا ہے۔جوان کی جسمانی ضرورت کےمطابق بنایاجاتاہے۔مِلک ریپلیسرکےاستعمال سےدودھ کی بچت بھی ہوتی ہےجسےبیچ کر منافع کمایاجاسکتاہے۔
خوراک/فیڈ/کاف سٹارٹر

بڑھوتری میں اضافےکیلئے 1سے2 ہفتے کی عمر سےدودھ کے ساتھ ساتھ کٹڑیوں/کٹیوں کو ونڈا یاکاف سٹارٹربھی کھلائیں۔کٹڑیوں/کٹیوں کے ونڈے یاکاف سٹارٹر میں پروٹین 18 سے20 فیصداور توانائی80 فیصدتک ہونی چاہیے۔
دودھ اورخوراک کاشیڈول

کٹڑیوں/کٹیوں کی بہتربڑھوتری کیلئےاوپرشیڈول میں دی گئی ہدایات کومدِنظررکھیں۔
کٹیوں/کٹڑیوں کادودھ چھڑانا

کٹیوں/کٹڑیوں/جھوٹیوں کا دودھ چھڑانا انکی جسمانی بڑھوتری میں اہم کردار کا حامل ہے۔ اگر کٹیاں/کٹڑیاں کا دودھ وقت پر نہ چھڑایا جائے تو یہ مکمل طور پر چارا کھانے پر نہیں آتی جس کی وجہ سے انکی بڑھوتری بہت آہستہ ہو جاتی ہےجو آخر کار دیر سے سن ِبلوغت کو پہنچتی ہیں ۔دودھ چھڑانے کے لئےمختلف قسم کےعوامل اپنائے جاتے ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں
خوراک کےلحاظ سے

کٹیوں/کٹڑیوں/جھوٹیوں جب خشک خوراک یا ونڈا تقریباًایک کلو تک کھانا شروع کر دیں تو انکا دودھ چھڑا دیں۔
عمرکےلحاظ سے

کٹیوں/کٹڑیوں/جھوٹیوں کی عمر 8 سے 10 ماہ کے درمیان ہو تو انکا دودھ چھڑوا دیں۔
جسمانی سائزکےلحاظ سے

اگر کٹیاں/کٹڑیاں /جھوٹیاں صحت کے اعتبار سےموٹی تازی ہوں تو ان کا دودھ 6 سے 7 ماہ کی عمر میں بھی چھڑوا دیں۔
دودھ چھڑانے کے طریقے
دودھ چھڑانے کے لئے اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف قسم کے طریقے اپنائے جاتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
دودھ اچانک بند کر دینا
بعض اوقات اچانک دودھ پلانا بند کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے کٹیاں/کٹڑیاں/جھوٹیاں مکمل طور پر خوراک پر آجاتی ہیں۔اسکا نقصان یہ ہوتا ہے اچانک دودھ بند ہونے کی وجہ سے خوراک کھانا کم کر دیتی ہیں اور کمزور ہو جاتی ہیں۔
دودھ آہستہ آہستہ بند کرنا
دودھ کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کرتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دودھ مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے ۔یہ طریقہ نہایت موزوں ہے لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔
ایک وقت کا دودھ بند کر دینا
دودھ چھڑانے کے لئے بعض اوقات ایک وقت کا دودھ بند کر دیا جاتا ہے اورجس وقت میں دودھ دیا جاتا ہے اسے بھی دن بدن کم کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ مکمل بند کر دیا جاتا ہے۔
جھوٹیوں/ویہڑیوں کی دیکھ بھال

جھوٹیوں کوجب دودھ چھڑایا جاتا ہے اس وقت سے لیکرجب تک یہ حاملہ ہو کے بچہ نہیں دے دیتی خاص توجہ دینے کی خاص ضرورت ہوتی ہے۔عمومی طور پر لوگ اس عمر میں ان پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سےیہ کمزور رہ جاتی ہیں اوردیر سےبلوغت کو پہنچتی ہیں۔
ونڈا/راشن/متوازن خوراک

بہتربڑھوتری کیلئےجھوٹیوں کوسبزچارےکےساتھ ساتھ روزانہ کم ازکم1کلوگرام ونڈا یا راشن لازمی کھلائیں۔
اندرونی اوربیرونی کیڑوں کیلئےدوا

جھوٹیوں کی بڑھوتری میں اضافےکیلئےانہیں ہر2سے3ماہ کےبعداندرونی اوربیرونی کیڑوں سےبچاؤکیلئےالبنیڈازول کاسیرپ پلائیں یاآئیورمیکٹین کاٹیکہ لگائیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات

جھوٹیوں کولمپی اسکن،منہ کھر،گل گھوٹو اورچوڑےماربیماری سےبچاؤکی حفاظتی ویکسین لازمی لگوائیں۔
دودھ دینے والے جانوروں کی دیکھ بھال

دودھیل جانوروں سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لئےضروری ہے کہ انکو متوازن خوراک کے ساتھ ساتھ بہتر دیکھ بھال فراہم کی جائے۔
خوراک

انہیں بہترین معیار کا سائیلج یا ہئے /ھےکھلانا چاہیے۔تقریباًہر 3 لیٹر دودھ کے مقابلے میں 1 کلو ونڈا لازمی کھلائیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات

تمام دودھیل جانوروں کومنہ کھر،گل گھوٹو اورلمپی اسکن جیسی جان لیوااورخطرناک بیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں۔
جانوروں کا دودھ خشک کرانے کی اہمیت

حاملہ جانوروں کے حمل کے آخری دو ماہ میں انکا دودھ خشک ہو جاتا ہے اور اگر نہ ہو تو خود کیا جاتا ہے۔دودھ خشک کرنےکا مقصداور اسکی اہمیت مندرجہ ذیل دی گئی ہے۔ - بڑھتے ہوئے بچے کو غذائی اجزاء کی مناسب مقدار میں فراہمی کوممکن بنانا ۔ - نئےبچے کی پیدائش کے بعد اگلی دودھ کی پیداوار میں اضافے کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔
دودھیل جانوروں کوخشک کرنےطریقے
دودھیل جانوروں کادودھ خشک کرنےکےطریقےمندرجہ ذیل میں دیےگئےہیں
اچانک دودھ دوہنابند کردینا
اس طریقےمیں جانوروں کااچانک دودھ دوہنابند کر دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے جانورمکمل طور پرخُشک ہوجاتاہے۔اسکا نقصان یہ ہوتا ہے اچانک دودھ بند ہونے کی وجہ سے جانوردباؤکاشکارہوسکتاہےاوراسی وجہ سےخوراک کھانا کم کر دیتاہے اور کمزور ہو جاتاہے۔
آدھادودھ دوہنا
اس طریقےمیں حیوانےسےآدھادودھ نکال لیاجاتاہےاورآدھااندرچھوڑدیاجاتاہےاورجانور آہستہ آہستہ دودھ کی پیداوارکم کرتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ دودھ مکمل طور پرخشک ہو جاتا ہے ۔یہ طریقہ نہایت موزوں ہے لیکن اس میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔
ایک وقت کا دودھ بند کر دینا
اس طریقےمیں ایک وقت کا دودھ دوہنا بند کر دیا جاتا ہے اورجانورکی پیداوارکم ہوناشروع ہوجاتی ہےاورآہستہ آہستہ خُشک ہوجاتاہے۔اس طریقےمیں دودھ خُشک کرنےمیں کافی وقت لگاجاتاہے۔
دوائی کےذریعےدودھ خُشک کرنا
بھی دودھ خُشک نہ ہوتوتھنوں کے ذریعےالباڈرائی دوائی (Alba Dry) بھی چڑھائی جاتی ہے جو جانور کا دودھ خشک کر دیتی ہے۔
خشک جانوروں کی دیکھ بھال

عمومی طور پر اگر ایک جانور دودھ نہیں دے رہا تو اسے خشک کہا جاتا ہے لیکن خصوصی طور پر یہ اس جانور کیلئے استعمال کیا جاتا جوحاملہ ہو اور اپنا دودھ دینے کا دورانیہ مکمل کر چکا ہواوراگلے بچے کی پیدائش کیلئے تیار ہو
خُشک ہونےکادورانیہ

دودھیل جانور کیلئے خشک دورانیہ تقریباً60 سے 150 دن مناسب سمجھا جاتا ہےمگرہمارے لوکل جانوروں میں خشک دورانیہ180 سے250 دن تک جا سکتا ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔
خُشک جانوروں کی خوراک

جانور کے دودھ کے دورانیے کے اختتام پر جانورکی جسمانی صحت کو مدِنظررکھتے ہوئےاس کی خوراک کا تعین کیا جاتا ہے۔اگر جانور بہت کمزور ہے تو اسے اضافی ونڈاکھلایا جائے اور اگر جانوربہت فربہ ہے توونڈا کھلانا بند کر دیا جائےجبکہ اگر جانور کی صحت درمیانی ہے تو جو خوراک کھلائی جارہی ہے اسے جاری رکھا جائےاس میں تبدیلی نہ کی جائے۔
منرل مکسچرکااستعمال

اگر خوراک میں اضافی طورپرنمکیات/منرل مکسچر کھلایاجارہا ہے تو اسے خشک دورانیےکی شروعات پر بند کر دیا جائےجبکہ بچہ دینےسےایک ہفتہ پہلے سے دوبارہ کھلاناشروع کردیاجائے۔
احتیاط

حاملہ خشک جانوروں کو چیچڑوں سے بچاؤ کیلئےآئیورمیکٹین کا ٹیکہ ہرگِزنہ لگوائیں۔
نر کٹوں/کٹڑوں کوفربہ کرنا

گھریلوسطح ہو یاکمرشل، جانوروں کو پالنے کے مقاصد دو ہی ہیں جن میں پہلا مقصد دودھ اور دوسرا گوشت کا حصول ہے۔گوشت کے مقصد کیلئےجانور پالنےکوفربہ کرنا کہا جاتا ہے۔عمومی طور اس مقصدکیلئے نر جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے
انتخاب

جانوروں کی نسل،یومیہ شرح بڑھوتری اوربیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مدِنظر رکھتےہوئےانتخاب کیا جائے۔نیلی راوی،کُنڈی اورازاخیلی کےصحت مند نر جانوروں کوفربہ کرنے کیلئے منتخب کریں۔
انتخاب کیلئےعمراوروزن

فربہ کرنے کیلئےجانوروں کی خریداری وزن اور عمر دونوں لحاظ سےکی جاسکتی ہے۔وزن کے لحاظ سے خریداری کرنی ہو تو80سے90کلوگرام کے نر جانوروں کو انتخاب کریں جبکہ اگرعمر کے لحاظ سےانتخاب کرنا ہو تو10سے15ماہ ہونی چاہیے۔
فربہ کرنےکادورانیہ

عمومی طورپرکٹوں یاکٹڑوں کو3ماہ کیلئےفربہ کیا جاتاہےاگراس سےزیادہ عرصےکیلئےفربہ کیا جائےتویہ معاشی طورفائدہ مندنہیں رہتا۔
اندرونی اوربیرونی کیڑوں کاتدارک

فربہ کرنے والے جانوروں کوخریداری کے بعد پہلے2سے3دن کے دوران پیٹ کے کیڑوں کیلئےالبینڈازول،فن بینڈازول،لیوامیسول میں سےکوئی ایک دوالازمی طور پرپلائیں اوراسے1سے1.5ماہ کے بعددوہرائیں۔اس مقصدکیلئےآئیورمیکٹین کاٹیکہ بھی لگایاجاسکتاہے۔
خوراک

فربہ کیےجانےوالےکٹڑوں کو10فیصدجسمانی وزن کےمطابق تازہ سبزچارےکےساتھ 1کلوگرام گندم یامکئی کادلیہ اور1کلوگرام گوشت میں اضافےکیلئےونڈاکھلائیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات

فربہ کیےجانےوالےتمام جانوروں کومنہ کھر،لمپی اسکن اورگل گھوٹوجیسی خطرناک اورجان لیوا بیماریوں سےبچاؤکی حفاظتی ویکسین لازمی طورپر لگوائیں۔
شناخت یاپہچان

جانوروں کی پیدائش کے بعد پہلا مرحلہ وہ ہوتا ہے جس میں جانور کو کوئی نام یا نمبر دیا جاتا ہے جو تمام عمر اسکی پہچان یا شناخت کا باعث ہوتا ہے۔
کان پرٹیگ لگانا

یہ طریقہ سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔کانوں پر لگائے جانے والے ٹیگ اسٹیل،ایلومینیم،نائلن اور پلاسٹک وغیرہ کے بنے ہوئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ٹیگ کو لگانے کے لئے ایک آلہ استعمال کیا جاتا ہےجسے ٹیگ ایپلیکیٹر کہا جاتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے کان میں سوراخ کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے اسے معمولی سا درد محسوس ہوتا ہے۔
کھال کو داغنا یا نشان لگانا

یہ طریقہ سب سے پرانا ہے جس میں جانور کے جسم پر ہمیشہ رہنے والا نشان لگایا جاتا ہے۔یہ نشان یا داغ کوئی نمبر ہو سکتا ہے اور انگریزی یا اردو کا کوئی حرف بھی ہو سکتا ہے۔نشان یا داغ لگانے کے لئے لوہے کی سلاخ گرم کر کے لگائی جاتی ہے۔
گلے میں لٹکانے کے لئے پٹہ یا چین

یہ طریقہ عارضی ہوتا ہے۔اس طریقے میں جانور کے گلے میں پٹا لٹکایا جاتا ہےجس پر خصوصی نام یا نمبر لکھا ہوتا ہے۔اسکا شمارپہچان کے عارضی طریقوں میں ہوتا ہے۔لٹکایا ہوا پٹا دیرپا نہیں ہوتا کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔جانور کی عمر بڑھنے کے ساتھ اسکی گردن کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے جس کے مطابق پٹے یا چین کو ڈھیلا یا کھلا کرنا پڑتا ہے۔جانور کے لڑنے کی وجہ سے یا چین/پٹے پرانےہو جانے کی وجہ سےٹوٹ کے گر جاتے ہیں ۔
ٹیٹوز/جسم پر گود کر نشان لگانا

اس طریقے کے مطابق جانور کے جلد پر سوئیوں کی مدد سے جلد میں کوئی حروف تہجی یا نمبر لکھا جاتا ہے اسکے بعد اس پر نہ مٹنے والی سیاہی لگائی جاتی ہے ۔اس مقصد کے لئے ایک آلہ (ٹیٹومشین)استعمال کیا جاتا ہے جس میں سوئیاں لگی ہوتی ہے۔یہ نشان عموماًکان کے اندرلگایا جاتا ہے۔
سینگوں کی بڑھوتری کو روکنا

کٹیوں/کٹڑیوں میں سینگوں کی بڑھوتری کو روک دیا جاتا ہے تاکہ سینگ بڑے نہ ہو سکیں۔جانور وں کے سینگ ختم کرنا لازمی ہوتا ہےتاکہ یہ آپس میں لڑنے یا کوئی چوٹ لگنے کی وجہ سے زخمی نہ ہو سکیں۔اس عمل کوڈِس بڈنگ بھی کہاجاتاہے۔
طریقہ کار

جانور کی عمر کے پہلے دو ماہ کے اند ر اندر انکے سینگ ختم کر دینے چاہیے جس میں 12 سے 15 دن کی عمر مناسب ہے۔ سینگوں کو ختم کرنے کے لئےجو آلہ استعمال کیا جاتاہے اسے ڈی ہورنر کہا جاتا ہے ۔اگر مشین استعمال نہ کی جائے تو کاسٹک پوٹاش کی قلم یا محلول کو سینگ کے نشان پر پھیرا جاسکتا ہے۔آج کل سینگوں کو ختم کرنے کے لئے کریم(پرسا کریم)بھی لگائی جاتی ہے ۔
سینگ کاٹنا

ویسے تو سینگ جانور کی خوبصورتی کا ایک حصہ مانا جاتے ہیں لیکن ان کے نقصانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے سینگ یا تو پیدائش کے بعد ختم کروا دئیےجاتےہیں یا پھر جب سینگ بڑے ہو جائیں تو انہیں کاٹ دیا جاتا ہے۔سینگ کاٹنے کے لئے عمومی طور پر مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جو مندرجہ ذیل دئیے گئے ہیں
کلچ وائر سے سینگ کاٹنا

یہ طریقہ زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں ایک دھات کی وائر(تار) لی جاتی ہے اور دو سٹیل کی پٹیوں سے باندھ کر سینگ کے گِرد وائر گزار تیزی سے گھمائی جاتی ہےجس سے سینگ ٹوٹ جاتا ہے ۔سینگ کاٹنے کے بعد زخم کی جگہ پر پائیوڈین یا ٹیراجن اسپرے کریں اور اگر سوراخ گہرا بن جائے تو اسےٹرائیکلورفان پاؤڈر سے بھر دیں۔
دھاتی آلے یاکٹر سے سینگ کاٹنا

بڑےلائیوسٹاک اور ڈیری فارمز پر یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔جانور کو کَرش میں باندھ کر دھاتی آلے یا کٹر کی مدد سےاسکے سینگ کاٹ دیں۔سینگ کاٹنے کے بعد زخم پر پائیوڈین یاٹیراجن اسپرے کریں اور اگر سوراخ گہرا بن جائے تو اسے ٹرائیکلورفان پاؤڈر سے بھردیں۔
نر کٹوں/کٹڑوں کو خَصی کرانا (نس بندی کرانا)
نر کٹوں/کٹڑوں کی بڑھوتری اور گوشت کی پیداوار میں بہتر اورمناسب اضافے کے حصول کے لئے ان کو خصی کروایا جاتا ہے ۔نر کٹوں/کٹڑوں کو خصی کروانے کے لئے بنیادی طور پر دو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک طریقے میں نر جانور کے خصیے سرجری کے ذریعے نکال دیے جاتے ہیں اوردوسرے طریقے میں انہیں نکالا تو نہیں جاتا لیکن ناکارہ کر دیا جاتا ہے۔ کٹوں/کٹڑوں کو خصی کروانے کے لئے جو طریقے استعمال کیا جاتاان کی تفصیل مندرجہ ذیل میں دی گئی ہے۔
سرجری یاپریشن کے ذریعے خَصی کرنا

اس طریقے کے مطابق جانور کا آپریشن کیا جاتا ہے جس میں جانور کوباندھ کراس کے خصیوں کے قریب سُن کرنے والا ٹیکہ(لگنوکین) لگایا جاتا ہے جس کے بعد خصیوں کی تھیلی کوکٹ لگا کر خصیوں کوباہر نکال کر کاٹ دیا جاتا ہے۔اس کے بعد اسے ٹانکے لگا کر بند کر دیا جاتا ہے ۔
لچکدار ربڑوں کے ذریعے خصی کرنا

یہ طریقہ نر بچھڑوں کو بغیر آپریشن کے خصی کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ایک لچکدار ربڑ کو مخصوص آلے کے ذریعے خصیوں کی تھیلی کی جڑ پر چھڑھا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے خصیوں کو خون کی فراہمی بند ہو جاتی ہے اور یہ ناکارہ ہو جاتے ہیں۔
دھاتی آلےیابرڈیزو کے ذریعے خصی کرنا

اس طریقے میں نر جانوروں کی نس بندی یا خصی کرنے کے لئے ایک دھاتی آلہ(برڈیزو) استعمال کیا جاتا ہے اسےآلہ نس بندی یا برڈیزو کہا جاتا ہے۔دھاتی آلے کے استعمال سے پہلے خصیوں کے گِرد سُن کرنے والا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور کپڑا لپیٹ کر آلہ لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔نس بندی کرنے کے بعد درد سے بچاؤکیلئےکیٹوپروفن کا ٹیکہ بھی لگا یا جاتا ہے ۔
ہارمون کے ذریعے خصی کرنا

یہ خصی یا نس بندی کرانے کا عارضی طریقہ کا ر ہے جس میں نر جانور کو ہارمون(پروجیسٹیرون) کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جانور کچھ عرصے کے لئے خصی ہو جاتا اور نسل کشی کے قابل نہیں رہتا۔ مخصوص عرصے کے بعد جانور خودبخود نسل کشی کے قابل ہو جاتا ہے ۔
دودھ دوہنےیانکالنے کے مختلف طریقے

دودھیل جانوروں کا دودھ دوہنے کے لئےبنیادی طور پر دو طریقوں پر مشتمل ہے جن میں ایک طریقہ ہاتھ سے اور دوسرا مشین کے ذریعے ہے۔
ہاتھ کے ذریعے دودھ دوہنا

اس طریقے میں تھن کواسکی جڑ سےانگوٹھے اور پہلی انگلی کے درمیان میں لے کر دباتے ہوئے انگوٹھےاور انگلی کو نیچے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ہاتھ کے ذریعے دوسرے طریقے میں تھن کو مُٹھی میں لیکر اسکے گرد انگلیوں کا حلقہ بنایا جاتا ہےجس میں تھن کی جڑانگوٹھے اور پہلی انگلی سے بنے دائرے میں موجود ہوتی ہے۔
مشین سے دودھ دوہنا

جدید ڈیری فارمز پر جانوروں کا دودھ مشینوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔اس مقصد کے لئےدوقسم کی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں جن میں ایک مشین ایک وقت میں ایک جانور کا دودھ نکال سکتی ہے جبکہ دوسری قسم کی مشین ایک وقت میں بہت سارے جانوروں کا دودھ نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
ایک جانور کا دودھ دوہنے والی مشین

اسے پورٹیبل ملکنگ مشین بھی کہا جاتا ہے جس پر پہیے لگے ہوتے ہیں جن کی مدد سے اسے ضرورت کے مطابق آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہے۔ اس پر اسٹیل کی ایک بالٹی موجود ہوتی ہے جس میں دودھ جمع کیا جاتا ہے۔دودھ نکالنے کے لئے کپ یا کلسٹر ہوتے ہیں جنہیں تھنوں پر چھڑھایا جاتا ہے۔کپ یا کلسٹر ایک پائپ کے ذریعے مشین کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔اسٹیل کی بالٹی میں جمع شدہ دودھ ٹھنڈا کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔
ایک وقت میں زیادہ جانوروں کا دودھ دوہنے والی مشین

یہ مشین ایک جگہ فکس ہوتی ہے جہاں دودھ دوہنے والی مشین(ملکنگ مشین/ملک مشین) کے علاوہ محفوظ کرنے کے لئے ڈرم بھی ہوتا ہے جسے چِلر کہا جاتا ہے۔مشین کی دو یا دو سے زیادہ لائنیں یا پائپ ہوتے ہیں جس کے ساتھ بہت سارے کپ یا کلسٹر جڑے ہوتے ہیں جو ایک وقت میں بہت سارے جانوروں سے دودھ نکال کر پائپ کی مدد سے ڈرم میں پہنچا دیتا ہے۔جس جگہ مشین لگی ہوتی ہے اسے مِلکنگ پارلر کہا جاتا ہے۔
جانوروں کادودھ دوہنے کے لئے ہدایات

- دودھ نکالنے سے پہلےتھنوں کو کسی بھی جراثیم کُش دوائی(ٹیٹ ڈِپ) کےمحلول میں ڈبویں اور پھر کپ یاکلسٹر چڑھا دیں۔ - دودھ دوہنے کے بعد تھنوں کو پھر ایک دفعہ جراثیم کُش دوا(ٹیٹ ڈِپ)کے محلول میں ڈبویں۔ -جانور کا دودھ دوہنے کے بعد انہیں کم ازکم آدھا گھنٹہ لازمی کھڑا رکھیں۔
حفاظتی ٹیکہ جات

بھینسوں کی خطرناک اورجانولیوابیماریوں سےبچاؤکیلئےحفاظتی ٹیکہ جات کاشیڈول اوپر دیا گیا ہے۔
صفائی ستھرائی اوربائیوسیکیورٹی

اگر حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے باڑے یا لائیوسٹاک فارم کی صفائی ستھرائی کی جائے تو یہ نہ صرف اچھی صحت بلکہ بہترپیداوار کی ضامن ثابت ہوتی ہے۔
بائیوسیکیورٹی

لائیوسٹاک فارم کے صدر دروازے کے سامنے ایک گڑھا ہونا چاہیے جوجراثیم کش محلول سے بھرا ہواہو تاکہ کوئی بھی گاڑی فارم کے اندر داخل ہوتو اسکے ٹائر اس گڑھے میں سے گزر کرصاف ہو جائیں۔اسکے علاوہ گاڑی کی سائیڈوں اور نچلے حصے پر جراثیم کش دوا کا اسپرے کریں۔فارم میں داخل ہونے والے پیدل لوگو ں کے ہاتھ اور جوتیاں بھی جراثیم کش محلول میں ڈبویں۔
صفائی ستھرائی

جانوروں کے کُھروں کی صحت کا خیال بھی بہت ضروری ہے جس کے لئے انکے رہائشی شیڈ اور مِلکنگ پارلر کے درمیان گڑھا یا نالی بنا کر اس میں کوئی بھی جراثیم کش دو اکا محلول بنا کر ڈال دیں تاکہ جانوروں کے گزرنے سے کُھروں کی صفائی ہوتی رہے۔
باخبرکسان کی سفارشات

نئے خریدے گئے جانوروں کو اپنے فارم کے باہر کسی صاف ستھری جگہ پر اتاریں جہاں اسکے کھر وغیرہ کسی بھی جراثیم کش دوا کےمحلول سے دھویں اور قرنطینہ میں داخل کریں جہاں یہ جانور کم از کم 2 سے 3 ہفتوں تک رہے۔
ایسےفارم پرنہیں رکھنےچاہیں

اکثر جانور باربار نسل کشی کرانے پر حاملہ نہیں ہوتے اور پھر سے ہیٹ پر آجاتے ہیں انہیں فارم پر رکھنے سے گریز کریں ۔
نسل کشی کاطریقہ

نسل کشی کے لئے مصنوئی نسل کشی کا طریقہ استعمال کیا جائے جبکہ اگر قدرتی ملاپ کرانا ہو تو اپنے فارم کے علاوہ باہر کا سانڈ/نراستعمال نہ کریں۔
ونڈا

اکثر کسان بھائی یہ سمجھتے ہیں گرمیوں میں جانوروں کو ونڈا کھلانے سے یہ زیادہ گرمی محسوس کرتے ہیں اور کھلانا بند کر دیتے ہیں جسکے نتیجےمیں انکی پیدوار بہت کم ہو جاتی ہےلہٰذا انہیں ونڈا لازمی کھلائیں۔ونڈا کھلانے کے اوقات میں تبدیلی کریں جس کے لئےشام کو یا مغرب کے بعد کھلایا جا سکتا ہے۔
نرجانوروں کوبیچنےکی بجائےفربہ کریں

نومولود نر جانوروں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی انہیں ہر لحاظ سے نظر انداز کیا جاتا ہے اور اکثر قصائیوں کو بیچ دیا جاتا ہے ۔نر جانوروں کو پیدائش کے بعد الگ کر دیں انہیں تھوڑا بہت دودھ پلانے کے ساتھ دودھیل جانوروں کی بچی ہوئی خوراک کھلا کر فربہ کیا جا سکتا ہےجس میں کوئی اضافی خرچہ بھی نہیں کرنا پڑتا۔3 سے 5 ماہ کے بعد یہ جانور اچھے منافعے کے عوض بیچے جا سکتے ہیں۔